قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے عدلیہ پر الزام لگایا کہ نواز شریف اور ان کے مخالف کے لیے عدلیہ نے الگ رویہ اختیار کیا۔
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے معاملے پر اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد ایوان زیریں میں موجود مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی ارکان نے فائدہ اٹھایا اور دو حکومتی ارکان نے پریس کانفرنسز میں کی جانے والی تقریر کو ایوان میں شروع کردیا۔
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں عدلیہ کے ذریعے سیاسی محاذ آرائی چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کی بھی حمایت نہیں کی تھی اور میں نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کی بھی حمایت نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے منتخب وزیر اعظم کو عدلیہ کے ذریعے گھر بھیجنے کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ایک ہی عدالت کے دو بینچز الگ فیصلے کیسے سنا سکتی ہیں جبکہ قانون ایک ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں کی عزت کی جانی چاہیے اور عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدلیہ کے اچھے اور متنازع فیصلے بھی دیکھے گئے ہیں جنہیں عوام نے قبول نہیں کیا اور اب تاریخ کی کتابوں میں بھی ان کا ذکر نہیں ہے۔
انہوں نے پاناما کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ تمام سیاسی محاذوں کا گڑھ ہے۔
انہوں نے حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت خود معاملے کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ ان کے پاس معاملات لائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم بھی معاملوں کو سپریم کورٹ لے جانے کے لیے مجبور ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے معاملے میں کہانی پاناما سے شروع ہوئی تھی اور جب کسی کو کچھ نہیں ملا تو اپنے ہی بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل قرار دے دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کہ معاملے میں ان کے آف شور کمپنی کے حوالے سے اعتراف کے باوجود کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نہیں بنائی جاتی اور نہ ہی کوئی ریفرنس دائر کیا جاتا ہے۔
وزیر ریلوے نے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر کہا کہ سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ 5 سال سے زائد عرصہ پرانہ ہے اور اگر اتنا عرصہ پہلے کسی نے قانون توڑا ہو تو کیا یہ جرم نہیں رہتا؟’
انہوں نے مزید کہا کہ یہ غلط ہو رہا ہے اور اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ عمران خان اور ان کے حامیوں کو ان فیصلوں میں ریلیف دی جارہی ہے۔
اس موقع پر وزیر نجکاری دانیال عزیز کاکہنا تھا کہ ملک میں اس طرح کی فلم پہلے بھی دکھائی جاچکی ہے۔
انہوں نے عمران خان اور نواز شریف کے معاملوں پر عدالتی فیصلوں پر عدلیہ کو دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا۔












