وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فاٹا سپریم کونسل جرگے کے وفد نے ملاقات کی۔

ملاقات میں میں فاٹا اصلاحات بل کےحوالے سے معاملات طےنہ ہوسکے، تاہم حکومت اور فاٹا سپریم کونسل جرگہ نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

فاٹاسپریم کونسل نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔

فاٹا سپریم کونسل نے وزیر اعظم کو بتایا کہ فاٹا کے عوام خیبر پختونخوا میں انضمام نہیں، اپنا الگ تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا۔

چیمبر کے ممبران سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ تجارتی خسارہ گزشتہ کچھ عرصے میں بجلی کےکارخانوں کی ساڑھے 8ارب کی مشینری اور دیگر سامان منگوانے کے وجہ ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام پنجاب میں ہوئے ہیں ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے 2013ء میں بجلی اور گیس کی کمی پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پورا کر دیا گیا ہے، اب صنعتوں کی پیدواری لاگت کم کرنے پر کام کر رہے ہیں جس کے لیے کوئلے اور گیس پر چلنے والے بجلی کے کارخانوں سے 6 سے 7روپے فی یونٹ والی بجلی بنائی جا رہی ہے جس کا فائدہ صنعتوں کو دینے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اہلکاروں کو رویے بہتر کرنے کے ساتھ طریقہ کار بھی مزید آسان بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے غیر ضروری اشیاء کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ درآمدات پر لگائی گئی ریگولیٹرری ڈیوٹی کا وزیر تجارت ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سب سے زیادہ ترقیاتی کام کرواے دوسرے صوبوں کو بھی ان کی تقلید کرنا چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY