پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازع؟ عدنان رنداھاوا

0
400

پاکستان اور بھارت ایک دفعہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔اگرچہ بارڈر کے دونوں طرف جنگ کو ایک انتہائی خوبصورت اور مفید پروڈکٹ کے طور پر بیچا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے ۔ جنگ کے بطن میں قتل و غارت، عصمت دری، لوٹ مار، تباہی اور بربادی جیسی عفریتیں چھپی ہوتی ہیں۔جنگ سے ہمیشہ بچنا چاہئے اورچھوٹی اور غریب ریاستوں کو غیر ضروری اور بڑی طاقتوں کی سازشوں اور شہہ پر لڑی جانے والی جنگوںسے تو طاعون کی طرح بچنا چاہئے۔ اب سوال ہے کہ یہ ہوگاکیسے؟بلاشبہ جب جنگی جنون کو انتہائوں پر پہنچا دیا گیا ہوتو ہوشمندی کی بات کرنا بزدلی اور غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے کروڑوں مفلوک الحال عوام کو صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچانے کیلئے ہمیں یہ چیلنج قبول کرنا ہوگا۔میرا کہنا یہ ہے کہ پاکستا ن اور بھارت کے درمیان جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ کیوں؟ یہ جاننے کیلئے آئیے تاریخ کے اسباق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

تاریخ کا پہلا سبق یہ ہے کہ علاقائی تنازعات اس وقت سے چل رہے ہیں جب سے انسانی گروہ وجو د میں آئے ہیں۔ان تنازعات کو حل کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک طریقہ جنگ کا ہے اور دوسرا طریقہ سفارتکاری اور معاشی و ٹیکنالوجی کی برتری کا ہے۔تاریخ کا دوسرا سبق یہ ہے کہ جب علاقائی تنازعات کو جذباتی رنگ دیا جاتا ہے اور جذبات میں سے بھی سب سے حساس جذبات یعنی مذہبی جذبات کا رنگ دیا جاتا ہے تو علاقائی جھگڑے خونی جنگوں کو جنم دیتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے جو جنگیںمذہبی جذبات کے تحت جنم لیتی ہیں وہ تباہی اور ہولناکی میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ اور یہ خوفناک صورتحال مزید خوفناک ہو جاتی ہے جب مذہبی منافرت کو ریاستی سطح پراپنا لیا جاتا ہے۔گیارہویں صدی عیسوی سے لیکر پندرہویں صدی عیسوی کے درمیان سلطنتوں کی طاقت اور علاقوں کی جنگوں کو جب ریاستی سطح پر مذہبی جذبات کا رنگ دیا گیا تو چھ صلیبی جنگیں لڑی گئیں جن میں مجموعی طور پرتقریبا بیس لاکھ انسان ہلاک ہوئے جو اسوقت کی انسانی آبادی کا پانچ فیصد بنتے ہیں۔صلیبی جنگوں نے بیس لاکھ انسانوں کو اس وقت نگلا تھا جب گھوڑا سب سے تیز سواری اور تلوار سب سے مہلک جنگی ہتھیار تھی، جدید بارود، بم، میزائل اور ایٹمی اور ہا ئیڈروجن بم موجود نہیں تھے۔ شرح کے لحاظ سے صلیبی جنگوں کی ہلاکتیں دوسری جنگ عظیم کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔ دوسری جنگ عظیم میں اس وقت کی انسانی آبادی کے تین فیصدانسان ہلاک ہوئے تھے۔تاریخ کا تیسر ا سبق یہ ہے ،اگرچہ تمام ریاستیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ ہمیشہ قائم رہیں گی لیکن حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرحدیں کبھی مستقل نہیں رہتیں ،جلد یا بدیر ریاستی علاقوں میں اضافہ یا کمی ہوتی رہتی ہے۔تاریخ کا چوتھا سبق یہ ہے کہ کوئی ریاست اپنی سرحدوں کے اندر منظم مسلح جتھوں کو برداشت نہیں کرتی۔ اگرچہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب مرکزی قوتیں کمزور ہوتی تھیں اور دور دراز علاقوں میں قبائلی جتھے وجود پا جاتے تھے جو ریاست کے کنٹرول سے باہر ہوتے تھے لیکن ہر ریاست ہر وقت ان جتھوں کوختم کرنے کیلئے کوشاں رہتی تھی۔تاریخ کا پانچواں سبق ہے کہ جب بھی دنیا کی بڑی قوتوں کے درمیان کشمکش ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے براہ راست جنگ سے اس وقت تک گریز کرتی ہیںجب تک انکے وجود کو خطرہ نہ ہو یا پھر انکے بڑے مفادات خصوصاًسیاسی اور معاشی مفادات کو براہ راست خطرہ نہ ہو۔ اور جب ایک دوسرے سے برسرِ پیکار بڑی ریاستیں براہ راست جنگ نہیںکر رہی ہوتیںتو یہ ایک دوسرے کے ساتھ پراکسی جنگوں میں مصروف رہتی ہیں۔ پراکسی جنگوں میںسپر پاورز تحفظ تو اپنے مفادات کا کر رہی ہوتی ہیں اور اس عمل میں پراکسی ریاستوں کو اسٹرٹیجی اور جنگی حکمتِ عملی بھی براہ راست یا بالواسطہ سپر پاورز ہی بنا کر دیتی ہیں۔لڑنے والی پراکسی ریاستوں کو حسبِ ضرورت اسلحہ ، مہارت اورپیسہ بھی فراہم کرتی ہیں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ ان جنگوں میں زمین اور خون پراکسی ریاستوں کا استعمال ہو، معیشت پراکسی ریاستوں کی تباہ ہو، تباہی اور بربادی پراکسی ریاستوں کی ہولیکن مفادات کاتحفظ لڑانے والی سپر پاورز کا ہو۔

اب پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی کو تاریخ کے ان اسباق کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اصل تنازع مسئلہ کشمیر نہیں ہے جیسا کہ بادی النظر میں نظر آتا ہے۔اصل مسئلہ مذہبی منافرت اور اسکے نتیجے میں جنم لینے والی انتہا پسندی ہے۔انتہا پسندی کا مسئلہ بھی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے، اسکی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے متعصب نصاب ، ریاستی پروپیگنڈے اورناقص سرکاری بیانئے کو ایک طرف رکھ کر دیکھیںتو یہ مسئلہ سینکڑوں سال پہلے اس وقت شروع ہوا جب ہندوستان کے بہت زیادہ مذہبی معاشرے میںایک بالکل مختلف مذہب کے فاتحین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب مسلم فاتحین نے اپنی حکومتیں قائم کرلیں تو یہ سوال اٹھا کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے مفتوحین کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔ بادشاہوں کوآج کل کے سیاستدانوں کی طرح حکومتوں میں دلچسپی تھی اور وہ اکثریتی ہندو رعایا کو وہ سیاسی، مذہبی اور معاشی حقوق دینا چاہتے تھے جو ریاستی امور چلانے کیلئے ضروری تھے جبکہ کچھ مذہبی حلقوں کو مذہبی کشمکش سے زیادہ دلچسپی تھی۔ اسی انتہا پسندی کی وجہ سے مسلمان بادشاہوں اورانتہا پسند مذہبی حلقوں کے درمیان بھی اختلافات رہتے تھے۔اگرچہ بادشاہ زیادہ تر ریاستی امور میں مذہبی حلقوں کی مداخلت کی مزاحمت کرتے تھے لیکن پھر بھی متعدد ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے معاشرتی سطح پر ہندو مسلم منافرت اور انتہا پسندی نے جنم لیا۔ہندوستان پر مسلمان بادشاہوں کے ادوار کی مذہبی تاریخ پر شیخ محمد اکرام نے اپنی تین کتابوں میں مقامی آبادی کے ساتھ کئی ایک ایسی زیادتیوں کا ذکر کیا ہے۔جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو انہیں ہندو مذہبی حلقوں کے اندر پائے جانے والے شدید غم و غصے کو سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی ،سو انہوں نے اپنا اقتدار مضبوط کرنے کیلئے ہندو مسلم انتہا پسندی اور نفرت کو فروغ دینا شروع کیا۔ ڈیڑھ دو سو سال وہ کامیابی سے تقسیم کرو اورحکومت کرو کی پالیسی کے تحت قابض رہے اور بے دردی سے ہندوستا ن کی دولت لوٹتے رہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریز کو براہ راست قبضے کی بجائے بالواسطہ قبضے کی پالیسی اپنانا پڑی تو کشمیر کا مسئلہ جا ن بوجھ کر چھوڑا گیا تاکہ پاکستان اور ہندوستان آپس میں لڑتے رہیںاور ہمیشہ کمزور رہیں۔انگریزبیج بو چکا تھا ، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرتوں کی آبیاری کا کام نئی سپر پاورز کے حصے میں آیا۔انگریز کی یہ پالیسی بھی کامیاب رہی۔ سرد جنگ میں جب بھارت نے غیر جانبدار رہنے یا سوویت یونین کی طرف جھکائو کی پالیسی اپنائی تو پاکستان کی شکل میں انہیں نیا اتحادی مل گیاجسے استعمال کرتے ہوئے امریکہ سوویت یونین کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا۔سپر پاورز تو اپنا کھیل کھیلتی رہیں اور کھیل رہی ہیں لیکن پاکستان اوربھارت نے بھی انکے پلان کو کامیا ب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پہلے کشمیر کے علاقائی تنازع کو پرُامن طریقے سے حل کرنے کی بجائے جنگ کا راستہ اپنایا، پھر کشمیر کے علاقائی تنازع کو مذہبی تنازع سے بدل دیا۔ریاستی سرحدوں کو ایک تقدس کا درجہ دے دیا جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتیں ، علاقائی تنازعات حل کرنے کیلئے بھی نہیں۔چوتھی غلطی جو تاریخ کے سبق سے متضاد ہے وہ ہماری طرف سے کی گئی، ماضی میںانتہا پسندوں کی ریاستی سرپرستی کی گئی۔اور تاریخ کے پانچویں سبق کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سپر پاورز کی پراکسی جنگوں کیلئے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی میں اگر نفرت اور انتہا پسندی کا بڑا ہاتھ ہے تو امریکہ اور چین کی کشمکش کو بھی حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے آسانی سے نہیں نکالا جا سکتا۔پاکستان اور بھارت کے کروڑوں مفلوک الحال شہریوں کیلئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ وجہ نفرت و انتہا پسندی ہو یا امریکہ اور چین کی کشمکش، کیا وہ اپنا خون ، اپنی عصمتوں، اپنی روزی روٹی اور اپنی نسلوں کو جنگ کے ہاتھوں گروی رکھنے کیلئے تیار ہیں؟پاکستان اور بھارت جنگ کی ہولناکیوں سے بچ سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں تاریخ سے سبق سیکھنے ہوں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY