کچھ کھانوں کو دوبارہ گرم کرکے کھانا خطرناک

0
121

کچھ کھانوں کو دوبارہ گرم کرکے کھانا صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

یہاں ایسی ہی چند غذاﺅں کا ذکر ہے جنھیں صحیح طرح اسٹور نہ کرنے پر دوبارہ گرم کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

سبزیاں
پکی ہوئی سبزیوں کو دوبارہ کھانے کے لیے مناسب طریقے سے اسٹور نہ کرنا یا گرم کرنا نہ صرف خطرناک بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکا کے سینٹر فار فوڈ سیفٹی کے مطابق کھانے کے بعد بچ جانے والی سبزیوں کو اگر دوبارہ کھانے کے ارادہ ہو تو منفی 4 سینٹی گریڈ میں اسٹور کرنا چاہئے، اگر زیادہ دن کے لیے اسٹور کرنا چاہتے ہیں تو فریز کردیں۔ پالک، چقندر یا نائٹریٹ والی سبزیوں کو کبھی کمرے کے درجہ حرارت میں نہ رکھیں کیونکہ وہ متعدد مسائل کا باعث بن سکتی ہیں، جیسے سانس گھٹنا، سر چکرانا وغیرہ۔

ویجیٹیبل آئل
غذاﺅں کو ویجیٹیبل آئل سے دوبارہ گرم کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر امراض قلب، فالج اور کینسر جیسے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویجیٹیبل آئل کو دوبارہ گرم کرنے پر ایسے کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

چکن
چکن کو دوبارہ گرم کرنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر کچھ چیزوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ جب ٹھنڈے چکن کو دوبارہ مائیکرو ویو یا چولہے پر گرم کیا جاتا ہے تو اس میں موجود پروٹین میں تبدیلیاں آتی ہیں جو نظام ہاضمہ کے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں، اگر آپ دوبارہ گرم کرکے چکن کو کھانا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے اتنا گرم کیا جائے کہ اس کا اندرونی حصہ بہت زیادہ گرم ہوجائے۔

چاول
چاول ایسی چیز ہے جسے اکثر دوبارہ گرم کے کھایا جاتا ہے تاہم یہ بھی نقصان دہ ثابت ہونے والی غذا ہے۔ برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈ ایجنسی کے مطابق اسے دوبارہ گرم کرنا کسی مسئلے کا باعث نہیں بلکہ انہیں دوبارہ گرم کرنے سے پہلے محفوظ کرنے کا طریقہ نقصان پہنچاسکتا ہے۔ کچے چاولوں میں مختلف بیکٹریا ہوسکتے ہیں جو پکنے کے بعد بھی بچ سکتے ہیں، اگر آپ چاول پکانے کے بعد انہیں کمرے کے درجہ حرارت میں چھوڑ دیتے ہیں تو ان بیکٹریا کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے جو دوبارہ گرم کرکے کھانے پر قے یا ہیضے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یعنی چاولوں کو جتنی دیر کمرے کے درجہ حرارت میں رکھیں گے دوبارہ گرم کرنے پر وہ صحت کے لیے اتنا ہی خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY