کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ پانچویں قسط

0
1052

کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ پانچویں قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی

مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور

گزشتہ یعنی دوسری قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی گلزار عثمانی یہ سلوک اسوقت تک جاری رہے گا جب ہمارے اپنے دشمن دوستوں کے نام پر ہمارے درمیان ہیں اور جب تک ہمیں سچ کہنے کا، ظالم سے نفرت کرنے کا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا شعور نہیں آئے گا،

وعدے کے مطابق لیجئے ذکر کرتے ہیں لاہور ریڈیو کے ان سرو قد اور بلند مرتبہ سربراہوں کا جنہوں نے اپنی بہترین انتظامی اور تخلیقی صلاحیتوں سے اس تاریخی نشریاتی مرکز کو بام عروج پر پہنچایا لیکن ان کے بعد آنے والے عروج کی اس روایت کو برقرار نہ رکھ سکے اور قدم بہ قدم آج لاہور ریڈیو ہر رخ سے زوال کا شکار ہے۔ یاد رکھیں فقط ٹیکنالوجی سے ہی ایسے تخلیقی ادارے نہیں چلاکرتے، ٹیکنالوجی بلاشبہ تخلیقی کاموں کو عوام تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے لیکن ریڈیو پروگراموں، خبروں اور اطلاعات و معلومات کا گلدستہ ہے اور ان ہی شعبوں کے اشتراک کو ریڈیو پاکستان کہا جاتا ہے

ادارے میں دیگر شعبے جن میں اکاونٹ، انجینیرنگ، کمرشل اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں وہ کلیدی شعبوں کی اعانت کے لیئے ہوتے ہیں، تنخواہ ملازمین کو بروقت ملے، انکو میڈیکل کے علاوہ دیگر سہولتیں بروقت ملتی رہیں تا کہ وہ تفکرات سے محفوظ ہو کر یکسوئی سے سامعین کے لیئے اچھے پروگرام تیار کر سکیں۔ یہی صورت حال پنشنرز کی بھی ہے کہ اپنی زندگی کا بہترین حصہ نوجوانی اور جوانی کو ادارے کے نام لگانے کے بعد بڑھاپے میں بنیادی سہولتوں کے ساتھ زندہ رہنے کے لیئے ریاست اور مملکت انکی پنشن دیتی ہے لیکن بہت سے اداروں میں کچھ ایسے سربراہ بھی آ جاتے ہیں جو اس پنشن کو خیرات سمجھتے ہیں اور ترسا ترسا کے تاریخوں پر تاریخیں ڈالنے کے بعد بزرگ لوگوں کو چند ہزار کی پنشن ملتی ہے

بات ہو رہی تھی لاہور رہڈیو کے بلند قد لوگوں کی۔ قیام پاکستان کے بعد سے صرف اسٹیشن ڈائریکٹر ہی ایسے بڑے قد کے نہیں آئے بلکہ اگر اناونسمنٹ، گلوکاری، سازندوں، ڈرامہ نگاروں، شاعروں اور صداکاروں کے نام لیئے جائیں تو ایک موٹی کتاب شائع ہو سکتی ہے لیکن افسوس کہ ریڈیو پاکستان کے کسی سربراہ کو اس تاریخ کو محفوظ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ موجودہ سربراہ ریڈیو پاکستان نے بہت سی وجوہات کی بنا پر گزشتہ چند مہینے لاہور ریڈیو کو حقیقی اور جائز سربراہ کے بغیر رکھا اور اپنے مقاصد پورے کروانے کے لیئے ایک ایجنئر کو یہ اختیارات سونپ دیئے جو باقاعدہ ایس ڈی کے کمرے میں اسکی کرسی پر بھی بیٹھتا تھا اور اسکے اختیارات بھی استعمال کرتا تھا، اسکی ایک وجہ پروگرام کے شعبے کے ایک کنٹرولر کی تعیناتی بطور اسٹیشن ڈائریکٹر تھی کہ وہ سینئر کنٹرولر کی موجودگی میں چند ماہ کے لیئے ایس ڈی بننے کے اس درجے کی سفارش کروا رہا رھا تھا کہ ڈی جی کے بس میں نہیں تھا کہ سفارش کو انکار کرے۔ کیا کریں ملک میں رشوت اور سفارش کا کلچر شاید کبھی بھی ختم نہ ہو

بحر حال اب یہ قضیہ اس طرح طے ہوا کہ سینئر کنٹرولر نے ریڈیو کی عزت اور بہتری کے نام پر اپنی تعیناتی برضا و رغبت موخر کر دی اور اب وہ جونیر کنٹرولر ایس ڈی لاہور بن گیا ہے ، جس طرح بھی یہ سب کچھ ہوا اسکا اچھا پہلو یہ ہے کہ اسٹیشن ڈائریکٹر کی کرسی پر ایک پروگرام کا آدمی ہی بیٹھا ہے چاہے عملی طور پر وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ معاملہ کرسی ،مقام اور منصب کی عزت کا تھا اور بخوبی حل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں جب مکمل معلومات مل جائیں گی تو تفصیل سے لکھیں گے

جنوبی ایشیا میں ریڈیو کی انتہائی شاندار تاریخ کا آغاز 1930 کے عشرے کے آخری دور سے ہوتا ہے اور لاہور ریڈیو کی حقیقی نشریات انیس سو سنتیس میں شروع ہوتی ہیں جو لاہور مال روڈ پر وائی ایم سی اے ہال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ہوتی تھیں بعد ازاں یہ مرکز شملہ پہاڑی کے نزدیک گورنر ہاوس کے عقب میں سر فضل حسین کی کوٹھی میں منتقل ہوا اور یہیں سے قیام پاکستان کا اعلان کیا گیا

انیس سو سینتیس میں لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر اے اے ایڈوانی تھے جن کے بعد اہم ناموں میں سجاد سرور نیازی،رشید احمد، سومناتھ چب، جگل کشور مہرہ، جی کے فرید، آغا بشیر احمد،چوہدری اقبال محمود نظامی،شمس الدین بٹ، میاں رشید اختر،مسعود قریشی،سجاد حیدر،اظہار کاظمی،چوہدری بشیر،سلیم گیلانی، عبدالحمید اعظمی،ایوب رومانی، چوہدری اکرم،ناصر الیاس، عبدالرب شجیع،خالد اصغر، فقیر حسین ساحر، ستار سید اور سردار علی خان کے علاوہ موجودہ دور کے چند اور لوگ تھے

اس فہرست میں اسٹیشن ڈائریکٹر نزاکت شکیلہ کو یہ اعزاز ملا کہ وہ لاہور ریڈیو کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ متعین ہوئیں انہوں نے دو اگست دوہزار سترہ سے سات اکتوبر دوہزار بائیس تک یہ ذمیداریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں۔ یہ سارا دور مالی اور سیاسی اعتبار سے ریڈیو کے زوال کا بدترین دور تھا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لاہور ریڈیو کی بجلی بھی بل کی عدم ادائیگی پر کٹنے والی تھے لیکن نزاکت صاحبہ کی معاملہ فہمی اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے یہ عذاب ٹل گیا، فنکاروں اور جزوقتی ملازمین کو اجرتوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ برسوں سے پس پشت ڈالے گئے کئی معاملات کو حل کیا گیا

نزاکت شکیلہ

یہ وہ لوگ تھے جنکی وجہ سے لاہور ریڈیو کو عروج نصیب ہوا اور ایک موقع پر بھارت کے ایک وزیراعظم کو یہاں تک کہنا پڑا کہ ہمارے لیئے مسلہ پاکستان کی فوج نہیں بلکہ ریڈیو پاکستان ہے

آج کمزور ترین ٹرانسمیٹرز کی وجہ سے لاہور ریڈیو کی آواز لاہور میں ہی نہیں سنی جا سکتی جبکہ بھارت نے سرحد کے ساتھ ساتھ اتنے ٹرانسمیٹر لگا دیئے ہیں کہ انکی پاک دشمن نشریات لاہور کے علاوہ پاکستان کے اکثر علاقوں خاص طور پر سندھ میں بخوبی سنی جا سکتی ہیں۔ ریڈیو کے ماضی قریب میں ایک سربراہ نے شارٹ ویو نشریات ہی بند کروا دیں جس سے حد درجہ کا نقصان ہوا

فقط ٹیکنالوجی کو ریڈیو سمجھنے والے لوگ شاید دنیا میں نشریات کی آج کی صورت حال سے واقف نہیں۔ اگر نشریات صرف انٹرنیٹ، پوڈ کاسٹ کا نام ہوتا تو بی بی سی جیسے ادارے کو بیس سال کے بعد پاکستان میں اپنی ایف ایم نشریات بند نہ کرنا پڑتیں، بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی صورت حال اسقدر خراب ہے کہ انکی ساری محنت اکارت چلی جاتی ہے

بات لاہور ریڈیو کی ہو رہی ہے اور ریڈیو کے موجودہ سربراہ چونکہ خود بزنس مین ہیں اور انکی اپنی فیملی کے دیگر احباب کے ساتھ اصل بزنس لاہور ہی میں ہے اور اس میں دیگر شعبوں کے علاوہ کال سینٹر کا بزنس اہم ہے اسی وجہ سے لاہور ریڈیو کی پہلی منزل کے جن آٹھ کمروں کی تزئین نو کی گئی ہے اور جن میں بیڈ بھی لگائے جا رہیں انکے مصرف کے بارے میں دو ہی روایات ہیں ایک تو ریڈیو کی آمدن بڑھانے کے لیئے یہاں کال سینٹر بنے گا اور دوسرے اکیڈمی بنے گی کیونکہ اسلام آباد کی اصل اکیڈمی جسے فواد چوہدری نہ بیچ سکے اسکی خواب کی تکمیل موجودہ انتظامیہ کرے گی

مبینہ طور پر راولپنڈی ریڈیو کی خرید میں جس فدا محمد سینٹر کا نام آ رہا ہے وہ بھی پی ٹی آئی کے ہیں اور مقتدر حلقوں کے بزنس پارٹنر ہیں۔

لاہور ریڈیو پر اکیڈمی کے نام کو صداقت دینے کے لیئے دو تین روزہ تربیت کا انتظام کیا گیا جسکی زمیداری فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر ندیم عالم کے زمے ڈالی گئی جو خود کو ریٹائرڈ بریگیڈیر بتاتے ہیں اور چند روز پہلے تربیت کو بغیر کسی اعلان کے چھوڑ کے میانوالی چلے گئے ہیں۔ انکے بارے میں ہمارے ذرائع مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد سب منکشف کریں گے

ندیم عالم

اس تربیت کا مقصد پی بی سی کو عہد حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارے کی افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانا بتایا جاتا ہے۔ فیس بُک پر ان تربیتی سیشن کی کچھ وڈیو مجھے بھی سننے کا اتفاق ہوا ہے جس کے بعد اندازہ ہوا کہ تربیت دینے والے کو خود مضمون سے مکمل آگاہی نہیں، ندیم عالم کی بہن منزہ عالم بھی ریڈیو لاہور سے سات سروں کا بہتا دریا کے عنوان سے پروگرام کرنے کے حوالے سے منسلک ہیں ابھی اس ضمن میں مکمل اور مصدقہ معلومات کا انتظار ہے۔ کچھ انکشافات میانوالی کے رابطوں کے حوالے سے ہیں تا ہم مکمل صداقت اور مستند اطلاعات کے بغیر کچھ بھی نہیں لکھیں گے۔ ہاں ابھی تک ان دونوں بہن بھائیوں کو کوئی مالی ادائیگی لاہور سے نہیں ہوئی ہے اتنا ضرور علم ہوا ہے اگر براہ راست صدر دفتر سے یا کسی اور ذریعے سے ہوئی ہو تو علم نہیں ہو سکا

ہمارے ایک ذریعے نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر جن الفاظ میں جس طرح ہمیں معلومات دی ہیں ہم من و عن اسی طرح شائع کر رہے ہیں

لاہور ریڈیو کی مین بلڈنگ کے اوپر والے فلور سے 7-8… کمرے خالی کروا کر انہیں ڈسٹمپر کروا کر اٹیچ باتھ بنوا کر اس میں بیڈ اور صوفے رکھوا دئے گئے ہیں ۔۔ خالی کرواتے ہوئے کہا گیا تھا یہاں کال سینٹر بنایا جا رھا ہے ۔۔ پھر کہا یہاں اکیڈمی بنائی جارہی ہے۔۔۔ اور اب کہہ رھے ہیں گیسٹ روم بنائے جارہے ہیں، ہو سکتا ہے بیڈ اینڈ بریک فاسٹ کھولنے کا پروگرام ہو مالیات میں اضافے کے لیئے
اسی طرح ایک پوڈ کاسٹ ” سات سروں کا بہتا دریا کے نام سے ایک خاتون منزہ عالم پروگرام کر رہی ہے جو ڈی جی کی بہن کے نام مشہور ہیں انکا پروٹوکول ڈی جی کی طرح ہی ھے اور اگر ذرا سی بھی کمی آئے تو سب لائن حاضر ہوجاتے ہیں

منزہ عالم

آج کی قسط قدرے طویل ہو گئی اور سنٹرل پروڈکشن کی تباہی کی بات ہی نہ ہو سکی تو اسے اگلی قسط پر اٹھائے رکھتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY