بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج نے لوک سبھا میں کلبھوشن سے متعلق پاکستان کے پرُخلوص اقدام پرہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کو جو سکھا پڑھا کر بھیجا گیا وہی بول رہےتھے، جوتوں میں کیمرا تھاتو پاکستانی حکام میڈیا کودکھاتے، کلبھوشن کےاہلخانہ کو پاکستان میں ہراساں کیا گیا، والدہ مراٹھی میں بات کرنا چاہتی تھیں، اجازت نہیں دی گئی۔

سشما سوراج نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کے اہل خانہ کو پچھلےدروازے سےلےجایاگیا،بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکوکچھ دیربعد اندر لے جایا گیا، کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کےکپڑے تک بدلوائے گئے، سہاگنوں کوبیواؤں کی طرح پیش کیاگیا۔

لوک سبھامیں ہرزہ سرائی کرتےہوئے ان کا کہناتھا کہ منگل سترنہ ہونے پر کلبھوشن نےوالدہ سے والد کا پوچھا۔ والدہ مراٹھی میں بات کرناچاہتی تھیں لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔

بھارتی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے ملاقات کی شرائط کی خلاف ورزی کی، پاکستان نے ملاقات کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY