عمران خان کو معالج اور اہلیہ سے ملاقات کی اجازت ہوگی: القادر کیس کا تحریری فیصلہ جاری

0
1324

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان کے القادرٹرسٹ کیس میں 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

گزشتہ روز عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا 8 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کے حوالے کیاتھا۔

عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کو اہلیہ، رشتے داروں اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

تحریری فیصلے میں عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والی ٹیم میں ڈاکٹرفیصل کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دوران ریمانڈ عمران خان کو اہلیہ سے بات کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران عمران خان کے وکلا ملاقات کرنا چاہیں تو اجازت ہوگی جب کہ ڈاکٹرفیصل اپنی طبی ٹیم کے ساتھ عمران خان کا طبی معائنہ کرسکتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ دوران ریمانڈ عمران خان کو اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ عمران خان اہلیہ کے ساتھ فون پربات کرنا چاہیں تو خصوصی انتظامات کیے جائیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

عمران خان کے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد نیب آج سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرے گا۔عمران خان پر القادر ٹرسٹ زمین کے کیس میں مبینہ کرپشن کا الزام ہے۔پولیس لائنزاسلام آباد کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں.

القادرٹرسٹ کیس میں گرفتارعمران خان کوپولیس لائنزاسلام آباد میں قائم عدالت میں پیش کیا گیا۔نیب نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،تاہم عدالت نےسابق وزیراعظم کا 8 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کی تحویل میں دیدیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنےخاص معالج ڈاکٹرفیصل کوبلانے کی استدعا کردی،بیان دیا یہ انجکشن لگاتےہیں بندہ آہستہ آہستہ مرجاتا ہے،ڈرہےمیرے ساتھ مقصود چپڑاسی والا کام نہ ہو۔

سابق وزيراعظم عمران خان کو سيکيورٹی خدشات پر اسلام آباد پوليس ہيڈ کوارٹرز پہنچایا گیا، پی ٹی آئی چیئرمین کیخلاف کیسز کی سماعت کیلئے نيب کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ پوليس لائن ميں شفٹ کردیئے گئے تھے۔

پولیس گیسٹ ہاؤس میں قائم احتساب عدالت میں عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت جج محمد بشیر کے سامنے جاری ہے، سابق وزیراعظم کو عدالت میں پیش کردیا گیا، نیب حکام نے پی ٹی آئی چیئرمین کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا، عمران خان کے وکلاء نے مخالفت کردی۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ کیس میں نیب کا دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا، نیب نے انکوائری رپورٹ بھی شیئر نہیں کی، فیئر ٹرائل عمران خان کا بنیادی حق ہے، عمران خان کا ٹرائل قانون کے مطابق اوپن کورٹ میں ہونا چاہئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مطفر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو گرفتاری کے وقت وارنٹ دیئے گئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتاری کے وقت نہیں، نیب منتقل کرنے پر وارنٹ دیئے گئے۔

عمران خان کے وکلاء نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے کیس کا تمام ریکارڈ ہم سے شیئر نہیں کیا، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے ریکارڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں مزید کہا کہ برطانیہ میں ریکور کی گئی رقم بحریہ ٹاؤن کے کھاتے میں ڈالی گئی، شہزاد اکبر نے کابینہ میٹنگ میں عمران خان کو بریفنگ دی، عمران خان نے ریکارڈ کو سیل رکھنے کی منظوری دی۔

احتساب عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے اور نیب کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کی وجوہات جمع کرائے جانے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب پولیس لائن اسلام آباد میں ہی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے تفتیش کرے گی۔

عمران خان نے دوران حراست قتل کئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انجکشن لگاتے ہیں، بندہ آہستہ آہستہ مرجاتا ہے، گھنٹے سے واش روم نہیں گیا، ڈر ہے میرے ساتھ مقصود چپڑاسی والا کام نہ ہو۔

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ بھی جمع
میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو تندرست قرار دیتے ہوئے رپورٹ نیب حکام کے حوالے کی تھی۔ عمران خان کا طبی معائنہ پمز اور پولی کلینک کے ڈاکٹروں نے کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر، شوگر لیول، نبض اور دل کی دھڑکن نارمل تھی، بلڈ سی پی، ایل پی، آر ایف ٹی اور ایل ایف ٹی بھی کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY