نمائیندہ اسلام آباد کا ارسال کردہ مراسلہ
ریڈیو کے سربراہ طاہر حسن، ڈائریکٹر صاحبان، وزارت اطلاعات کی سیکرٹری، وزیر اطلاعات اور حکومت انتہائی سنگدلی اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انسان کُش مسلے کو حل کرنے میں قطعی سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔ پنشنرز کی پس انداز کی ہوئی رقوم اب ختم ہو رہی ہیں اور چولہے ٹھنڈے ہونے کا خوف ہے جبکہ میڈیکل نہ ملنے کی وجہ سے اس عمر میں علاج کروانے سے عاجز ہیں
گزشتہ مہینوں کی طرح اس مہینےکی پنشن بھی ابھی تک ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اسی طرح ملازمین کو بھی تنخواہیں نہیں ملی ہیں
ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر میں مالی امور کے شعبے کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمیں بتایا ہے کہ پنشن اور تنخواہوں کے لیئے دو ماہ کی رقوم موجود ہیں لیکن ڈی جی طاہر حسن نے اس ضمن میں کسی پیش رفت سے منع کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تا حکم ثانی پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی پر کوئی اقدام نہ کیا جائے
اسی ذریعے نے بتایا ہے کہ ملازمین کو جنوری کی تنخواہ تاخیر سے ملی تھی ، البتہ اس ماہ ملازمین کو نصف تنخواہ لینے کو کہا جا رہا ہے لیکن پنشنرز کی صورت حال اس سے بدتر ہے
ڈی جی کے منظور نظر مجدد اینڈ کمپنی نے تھوڑی دیر پہلے ایک گروپ میں یہ پوسٹ لگوائی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔سی بی اے اور آفیسر ایسوسی ایشن بمعہ دیگر یونینز کے۔ سینٹ کی میٹنگ سے قبل ہڑتال کی کال دے۔ ورنہ ادارہ گیا۔
واضع رہے کہ سینٹ کی اطلاعات و نشریات کی سٹیندنگ کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس چھ مارچ کو دوپہر دو بجے ہو رہا ہے













