ذیابیطس ہے یا مستقبل میں ہونیوالی ہے

0
171

ملکی ماہرین نے 12 سال کی ریسرچ کے بعد ایک سوالنامہ تیار کیا ہے جس میں موجود تین سوالات کے جواب کے نتیجے میں کوئی بھی فرد تیس سیکنڈ کے اندر یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کیا وہ ذیابطیس کے مرض کا شکار ہے یا اسے مستقبل میں ذیابطیس ہونے والی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار ہیلتھ ایڈوائزی بورڈ کے سیکرٹری ڈاکٹر زکی الدین ، بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ انڈوکرائنالوجی کے سربراہ پروفیسر عبدالباسط، پروفیسر اعجاز وہرہ اور ڈاکٹر شیمول اشرف نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔

پروفیسر عبد الباسط نے کہا کہ ملک میں پالیسی سازی کے لیے لوکل ڈیٹا ہونا چاہیے جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سرکاری سطح پر ایسا نہیں اور اگر کوئی پرائیویٹ ادارہ کام کرنا چاہے تو اسے سرکاری سطح پر پذیرائی حاصل نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر شیمول اشرف کا کہنا تھا کہ کینسر رجسٹری قائم کر رہے ہیں اور ڈیٹا جمع کر نا شروع کردیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ پاکستان میں بچوں کے کینسر کی شرح کیا ہے۔ ڈاکٹر ذکی الدین نے کہا کہ ایسے ترقی یافتہ ممالک ہیں جہاں ریسرچ ایڈوائزری بورڈ ہے لیکن پاکستان میں اس بورڈ کا قیام تاخیر سے عمل میں آیا

SHARE

LEAVE A REPLY