ریڈیو پاکستان کے پنشن فنڈز میں مبینہ گھپلوں اور خُرد بُرد کا معاملہ مزید کاروائی کیلئے ایف آئی اے کے سپرد

0
1332

~پریس ریلیز ~

(اسلام آباد: 2 جولائی 2025)

ریڈیو پاکستان کے پنشن فنڈز میں مبینہ گھپلوں اور خُرد بُرد کا معاملہ مزید کاروائی کیلئے ایف آئی اے کے سپرد کردیا گیا ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب عطاء اللہ تارڑ اور سیکریٹری اطلاعات ونشریات محترمہ عنبرین جان کی منظوری کے بعد ریڈیو پاکستان کے پنشن فنڈز میں مبینہ گھپلوں اور خُرد بُرد کا معاملہ ایک روز قبل مزید کاروائی کیلئے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے سُپرد کردیا گیا ہے ۔ قبل ازیں اسی معاملے پر ہونے والی ایک محکمانہ انکوائری میں پنشن سیل کے سربراہ سمیت چھ افسروں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے جس کے تحت دو افسروں کو جبری ریٹائرمنٹ اور دو کو تنزلی کی سزا دی گئی تھی ۔

تفصیل کے مطابق مئی 2024 میں 3884 پنشنرز کو اُنتیس کروڑ کے لگ بھگ پنشن کی رقم ادا کی گئی ۔ ان اعداد و شمار کے حقائق سے برعکس ہونے پر ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان سعید احمد شیخ کی ہدایت پر ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے اپنے پنشن فنڈز کے آڈٹ کا عمل شروع کیا جس کے تحت نادرا اور ایف بی آر کی مدد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی اس امر پر پابند کیا گیا وہ کہ سٹیٹ بنک کے مروجہ قوانین کے تحت تمام پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق عمل میں لائیں ۔محکمانہ لائف سرٹیفیکٹ کے نمونے میں بھی تبدیلی لائی گئی تاکہ کسی بھی پنشنر کا اس سرٹیفیکٹ پر ثبت نشان انگوٹھا بوقتِ ضرورت نادرا سے تصدیق کروایا جاسکے ۔

چھانٹی کے اس عمل کے دوران پنشنرز کی تعداد میں مسلسل کمی ہونے لگی ۔ گو کہ فنانس ڈویژن کے او۔ایم کے تحت ہر سال کے ستمبر اور مارچ میں پنشنرز کو اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروانا لازم ہوتی ہے تاہم اپنے پنشنرز کی سہولت کیلئے اس سال کے مارچ کے ماہ میں ہونے والے اس ناگزیر تصدیقی عمل کی معیاد پہلے پندرہ جون اور پھر تیس جون تک بڑھائی گئی تاکہ کسی بھی وجہ سے اپنی بائیومیٹرک نہ کروا سکنے والے پنشنرز بھی اس تصدیقی عمل سے گزرنے کے بعد اپنی پنشن وصول کرسکیں ۔ تاہم اس کے باوجود جون 2025 میں پنشنرز کی تعداد 3884 سے کم ہوکر 3229 پر آچکی ہے اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تین ماہ کا اضافی دورانیہ گزر جانے کے باوجود بھی آنے والے ہفتوں میں مزید بھی ایک سے دو سو پنشنرز اپنے بائیومیٹرک تصدیق کروا کے اپنی دستاویزات ریڈیو پاکستان انتظامیہ کو جمع کروا دیتے ہیں ، تب بھی گھوسٹ پنشنرز کی ممکنہ تعداد پانچ سو سے زائد اور اُن کا ماہانہ پنشن بل ساڑھے تین سے چار کروڑ کے لگ بھگ بنتا ہے ۔

گذشتہ تیرہ ماہ کی محنتِ شاقہ کے بعد ناقابل تردید اور ٹھوس اعداد و شمار سے اس امر کی واضح نشاندہی ہوئی ہے کہ ریڈیو پاکستان کے چند بدعنوان اور نااہل افسروں کی ملی بھگت اور نااہلی کے سبب سیکڑوں گھوسٹ پنشنرز کو کروڑوں روپوں کی رقوم ماہانہ پنشن کی مد میں گزشتہ کئی برسوں سے ادا کی جارہی تھیں ۔

اسی طرح پنشن کے آڈٹ کے دوران جب نمونے کے طور پر 200 پنشنرز کو یکم جنوری 2022 سے مئی 2024 ( اُنتیس ماہ کے دورانیہ ) کے دوران ہونے والی ادائیگیوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس میں بھی دس کروڑ کے لگ بھگ زائد ادائیگیاں پائی گئیں جن کا نہ تو پنشنرز لیجر پر اندراج موجود تھا اور نہ ہی کسی پنشنر کی فائل میں کسی ادائیگی کی وجہ ریکارڈ کی گئی تھی۔مزید برآں یہ سب ادائیگیاں مجاز افسر کی منظوری کے بغیر کی گئیں تھیں ۔

حال ہی میں آڈیٹر جنرل آفس کے آڈٹ آفیسرز نے بھی ریڈیو پاکستان کے آڈٹ کے دوران پنشن نظام میں مبینہ نقائص اور ان سے مالی فائدہ اُٹھانے والے افسروں اور اہلکاروں کے خلاف مزید قانونی کاروائی کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوانے کی سفارش کی تھی۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو بھجوائے گئے کیس میں پنشن سیل اسلام آباد کے (سابق) تین اور پنشن کے معاملات دیکھنے والے فنانس ونگ کے کراچی ، ملتان اور لاہور کے بالترتیب سابق ایک موجودہ دو افسروں سمیت دو پنشنرز (جو ماضی میں سی۔بی۔اے یونین کے نمائندے بھی رہ چکے ہیں) کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے ۔ اس طرح کل آٹھ معلوم اور ان کے دیگر (تاحال نامعلوم) ساتھیوں کے خلاف کاروائی اور پنشن فنڈز کی خرد برد میں ملوث تمام افراد سے رقوم کی بازیابی کا امکان ہے۔

ریڈیو پاکستان انتظامیہ اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے پنشن کے نظام کو ممکنہ حد تک خامیوں سے پاک کیا جائیگا اور اس ضمن میں نادرا سے ایک معاہدہ بھی عمل میں لایا جارہا ہے جس کے تحت ہر پنشنر اپنے قریبی نادرا ای سہولت مرکز کی رپورٹ کو اپنے لائف سرٹیفیکٹ کے طور پر پیش کرنے کا مجاز ہو گا ۔ ریڈیو پاکستان کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے تیارکردہ پنشن مینیجمنٹ سسٹم کے افتتاح کیلئے وزیر اطلاعات ونشریات جناب عطاء اللہ تارڑ ریڈیو پاکستان کا دورہ جلد متوقع ہے ۔

منجانب :
عائشہ افتخار (ہیڈ پریس اینڈ پبلک ریلیشنز )
ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹرز اسلام آباد

SHARE

LEAVE A REPLY