وصل کا دن اور اتنا مختصر،نصرت نسیم

0
1884

دن گنے جاتے تھے جس دن کے لئے
زندگی کے گورکھ دھندے میں ملنے اوربچھڑنے کی بھی عجب کہانی اور عجیب کیفیات ہیں خوشی میں وقت کیسے پر لگا کر اڑ جاتا ہے دو ہفتوں کے لئے بیٹی کینڈا سے آئی تو خوشی کاعالم اوروقت کی برق رفتاری کا مت پوچھیے کبھی اسلام آباد توکبھی رسالپور پھر پشاور کوہاٹ دعوتیں، ملناجلنا، بازار شاپنگ، درزی دن یوں بیتے کہ پتہ ہی نہیں چلا اورآج صبح 9 بجے اس کی فلائٹ تھی صبح کے ملگجے اندھیرے میں وقت رخصت دل اداس اورآنکھیں بھر آئیں تو بیٹی نے اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے تسلی دی امی آپ اداس نہ ہوں میں جلدی چکر لگاونگی نہیں نہیں میں اداس نہیں اللہ خیر سے اپنے بچوں کے پاس جاو خوش رہو وہ اندرچلی گئ اور میں دور تک اسے دیکھتی رہ گئ پھر میرے دل نے صدا دی دعا دی فی امان اللہ سفر بخیر ہمیشہ خوش رکھے رب کریم
دل کے کسی کونے سے بے اختیار ایک اور دعا نکلی اوراللہ کرے جب جب آو میں اور ابو تمہیں اسی طرح ملیں یونہی دعائیں مانگتےواپسی کاسفر طے کیا
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY