اس نے الوداع بھی کہا
تو جیسے زندگی کے سبھی درد سمیٹ کر میری جھولی میں ڈال گیا ہو۔ ۔ ۔
جسکا درد اتنا تھا کے کسی جسم پہ وارد ہوتا تو جیسے جسم کی سبھی ہڈیوں کو کسی نے پیس ڈالا ہو مگر زندہ ہو۔ ۔ ۔
اور زندہ رہ کر اسے محسوس کرنا ہو۔ ۔ ۔تم بھی مجھے ہر بار ایسے ہی الوداع کرتے آئے ہونہیں معلوم ۔ ۔ ۔
کہ اگر میں کبھی تمہیں ایسے ہی الوداع کر سکوں تو کیا ہو۔ ۔ ۔ممکن ہے بہت کے خود ہی نہ جھیل پاوں میں۔ ۔ ۔
دیکر الوداعی خط۔ ۔ ۔
بہت ممکن ہے کے جی نہ پاوں میں۔ ۔ ۔کیونکہ یہ بوجھ میری بساط سے بڑھکر ہے کے میں اس کو اٹھا ہی سکوں۔ ۔ ۔
تمہیں چھوڑ کر ممکن ہی نہیں کے مسکرا بھی سکوں۔ ۔ ۔
تو چھوڑنے کی سوچ میرے وجود میں ممکن نہیں کے میں لا بھی سکوں۔ ۔ ۔
الوداع تم ہی کہنا کے یہ تمہاری روش ہے۔ ۔ ۔میں تو اسی سرزمین پہ سانس لیتا ہوں کے جہاں تم چھوڑ جاتے ہو۔ ۔ ۔
اسی کو زندگی کی بہار کے بچے ہوئے ہھول سمجھکر انکی مہک کو اپنی روح و قلب میں کشید کر رکھتا ہوں ۔ ۔ ۔اور اس کشید شدہ مہک ۔ ۔ ۔کو حیات کا سرمایہ سمجھتا ہوں کے یہ مہک میرے وجود کو مہکتا رکھتی ہے۔ ۔ ۔
مجھے سنوارتا رکھتی ہے۔ ۔ ۔
میں اپنے وجود کو کتنی بھی آگ پہ جلا لوں مگر اسکو جل کر خاکستر نہ بنوں گا۔ ۔ ۔
میں تب تک جلتا رہوں گا کہ جب تک اس جلن کو سہنے کی طاقت رہیگی مجھ میں۔ ۔ ۔
کے میں نہ تو دھواں ہوں، نہ راکھ ہوں، نہ ہی زمین میں دب کے مر جانے والا ۔ ۔ ۔
میں اپنے احساس کو ہمیشہ بری عزت، مان اور تقدس سے رکھوں گا۔ ۔ ۔تمہاری محبت کی اس دولت کا محافظ میں رہوں گا۔ ۔ ۔
میں درد کو مات دے سکتا ہوں ۔ ۔ ۔میں درد کو سیونگا نہیں اسے کھلا رکھوں گا، اسے رستا رکھوں گا۔ ۔ ۔اسکی ازیت اور کرب کو وہ چوٹ پینچاونگا کے جو اسی کو پست، چھوٹا اور شکست خوردہ بنادے۔ ۔ ۔اور جب درد کو شکست ہو جاتی ہے تو احساسات پھول بن کر کھلتے ہیں اور درد کی سرزمین پہ تشکیل کردہ گلستان ایسا حسین اور محو کر دینے والا ہوتا ہے کہ وہاں پھر سکون کے سوا، مہک کے سوا، نور کے سوا کچھ بھی بچتا ہی نہیں ۔ ۔ ۔
کے بے نیاز لوگ کب بھلا توقعات کے مینار تعمیر کرتے ہیں، وہ تو بس دینے والے ہوتے ہیں اور انکا دیتے رہنا ہی انکی زندگی کی واحد وجہ رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔اور یہ انسان کا خود اہنی زات پہ احسان ہوتا ہے کے اپنی فطرت کو پالے اور بے نیازی اور سکون و رضا کی راہ پہ نکل جائے کے خواہشات اور آرزوؤں کی سرزمین کے مسافر اور رضا اور سکون کی منزل کے مسافر بہت فرق لوگ ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
اور مجھے معلوم ہے کہ ہم کہیں بھی ہوں ۔ ۔ ۔ہماری مٹی، ہماری فطرت، ہماری روح، رنگ اور زائقے ایک ہی ہیں نہ تم پست ہو کے پستیوں کو چن لو گے اور نہ میں کبھی اس راہ کی تجارت تمہارے ساتھ کروں گا ۔ ۔ ۔
ہم پرواز میں رہتے ہیں بھلے ہم کہیں بھی ہوں اور پرواز کرنے والے کبھی دھوکے اور فریب سے متاثر نہیں ہوتے وہ صرف زندگی سے متاثر ہوتے ہیں وہ زندگی جو حیات جاودانی کی اختیار کردہ راہوں پہ قدم بڑھا رہی ہوتی ہے کے بظاہر زمین پہ اٹھتے قدم کہیں منزلوں کی قربت کے قدم بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔صبر کی پوشاک ہہنانا اپنے درد کو بڑا کٹھن مرحلہ صحیح کے یہ بالکل ایسے ہے کے کھلے، زندہ، کٹے ہوئے وجود کو ہم بنا سرد کیے، بنا سن کیے سوئی کی باریک نالیوں سے سینے کی کوشش کریں کے خون رک جائے اور ہم معزوری سے بچ جائیں کے اگر روح معزور ہو جائے تو انسان کی زندگی بد ترین حالات کا شکار ہو جاتی ہے ایسے حالات کے جہاں سے صحت پالینا ممکن ہی نہیں ہوتا سو روح کی معزوری اور اسکے سرد پڑجانے کی کیفیت کی ازیت کسی اندھے کی حالت جیسی ہوتی ہے کے وہ جانتا ہی نہیں کے وہ اندھا ہے۔ ۔ ۔کے اسے کوئی بتا ہی نہیں سکتا کے وہ اندھا ہے کے وہ اس احساس کو درک کرنے کی بصیرت ہی سے محروم ہوتا ہے۔ ۔ ۔
سو اپنے راستے کی مسافت کے فرائض کو ادا کرتے ہوئے مین منزل کی جانب بڑھ رہا ہو3یقین رکھنا کے نہ تو مین معزوری کو اختیار کروں گا، نہ محرومی کو، نہ ہی زندگی سے قیمتی شے کو پامال کروں گا، کے زندگی کی حرمت و عزت اگر رخصت ہو جائے تو زندہ رہا جائے یا مر جایا جائے سب بیکار ہے۔ ۔ ۔
میں الوداع کبھی نہ کہوں گا۔ ۔ ۔کے الوداع کہنے سے کہیں بہتر منتظر رہنا ہے۔ ۔ ۔سو منزل پہ کامیابی سے پہنچنے کا منتظر کے اس منزل کی روح حسن ہے۔ ۔ ۔
اور حسن کی جانب سفر کرنے والے مہاجر کبھی کم ہمت نہیں ہوتے وہ لڑنا جانتے ہیں ۔ ۔ ۔
وہ بپھرے طوفانوں کو چیر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔وہ درد کو کاٹ کر زیر کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔وہ آگ کو جلانے کی اجازت نہیں دیتے وہ جھلسنے والے لوگ نہیں بلکہ ابھرنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
سو تمہارا منتظر رہوں گا کے جب تک ہم منزل پہ پہنچ نہ جائیں اور تمہاری کامیابی اور نصرت کی دعا کروں گا ۔ ۔ ۔کہ تمہاری ہو یا میری یہ ہماری ہی کامیابی ہے اور ہم دونوں کی کامیابی ہی ہمیں کامیاب بناتی ہے۔ ۔ ۔
تم جہاں ریو سلامت ، اباد کامیاب رہو ہر اعتبار سے ۔ ۔ ۔
تمہارا اپنا وجود۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













