پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں دائر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریری جواب جمع کرادیا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں پارٹی فنڈنگ کی تمام تفصیلات بھی شامل ہیں جبکہ پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کا بیان حلفی اور آڈیٹرز کی رپورٹ بھی جواب کے ساتھ منسلک ہیں۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے جواب میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، اس لیے وہ درخواست نہیں دے سکتا جبکہ سیاسی جماعت کی جانب سے دائر درخواست من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے پرانے قانون کا حوالہ دیا، جو ختم ہو چکا ہے جبکہ درخواست گزار کے سیاسی مقاصد ہیں، اس لیے درخواست خارج کی جائے۔

تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) 2002 سے پارٹی تفصیلات جمع کرا رہی ہے اور زور دیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے کسی ممنوعہ ذرائع سے کبھی فنڈنگ حاصل نہیں کی۔

الیکشن کمیشن میں تحریری جواب جمع کرانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ریکارڈ افسر نیاز محمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جواب جمع کرادیا ہے اور جن لوگوں نے ہمیں پیسے دیئے ہیں ان کا حلقہ نمبر کی بھی تفصیلات پیش کردی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حلف نامے بھی ساتھ جمع کرائے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے وکیل کی نظر کمزور ہے، وہ انہیں نظر نہیں آئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات کی درخواستوں پر اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا۔

اپنے جواب میں پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے کوئی غیر ملکی فنڈنگ نہیں لی، پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف درخواست میں انٹرنیٹ سے بوگس مواد اکٹھا کیا۔

جواب میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کی درخواست بد نیتی پر مبنی ہے اور مطالبہ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن اسے مسترد کردے۔

جواب میں بتایا گیا کہ تھا پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس میں کوئی بے ضابطگیاں موجود نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY