سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کی عدم تعیناتی سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی کے لیے وزیراعظم نے 8 ناموں میں سے جسٹس ریٹائرڈ اصغر حیدر کے نام کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے دو روز میں نوٹیفکیشن بھی جاری ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور سیکرٹری قانون کو فوری طلب کرلیا تھا۔

انتظامی عدالتوں کے غیر فعال ہونے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ سیکریٹری قانون پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تقرری پر سمریوں سمیت تمام ریکارڈ لے کر آئیں۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ پراسیکیوٹر کو نہ لگا کر کس چیز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب کے وکیل نے کہا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے احتساب عدالت نمبر 2 کا جج کا عہدہ ستمبر 2017 سے خالی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت کے جج کی تقرری کیوں نہیں ہوئی؟ تو نیب کے وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج کی تقرری وفاقی حکومت نے کرنی ہے جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تقرری بھی وفاقی حکومت نے نہیں کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY