یکم محرم ۔ محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے

0
606

یکم محرم ۔ محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے

نگہت نسیم۔سڈنی
محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا مہینہ ہے ، اسی ماہ سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارہ میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے –

التوبۃ ( 36 ) اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2958 ) ۔

اورمحرم کو محرم اس لیے کہ جاتا ہے کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے اوراس کی حرمت کی تاکید کے لیے اسے محرم کانام دیا گياہے ۔ اس مہینے کے اہم واقعات میں دس تاریخ کو حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت (بروز عاشورہ ، دس محرم ، امام زین العابدین علی ابن حسین کی شہادت (25 تاریخ) اور صحابی رسول حضرت میثم تمار کی شہادت (27 تاریخ) شامل ہیں۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :

{ لہذا تم ان میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو } اس کا معنی یہ ہےکہ :

یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سےاس آيت { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں مروی ہے :

تم ان سب مہینوں میں ظلم نہ کرو اورپھر ان مہینوں میں سے چارکو مخصوص کرکےانہيں حرمت والے قراردیا اوران کی حرمت کوبھی بہت ‏عظيم قراردیتے ہوئے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔

اورقتادہ رحمہ اللہ تعالی اس آیت : { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں کہتے ہيں :

حرمت والے مہینوں میں ظلم وستم کرنادوسرے مہینوں کی بنسبت یقینا زيادہ گناہ اوربرائي کا باعث ہے ، اگرچہ ہرحالت میں ظلم بہت بڑي اور عظيم چيز ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنے امرمیں سے جسے چاہے عظيم بنا دیتا ہے :

اورقتادہ رحمہ اللہ کہتے ہيں :

بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کواختیارکرکے اسے چن لیا ہے : فرشتوں میں سے بھی پیغبر چنے اورانسانوں میں سے بھی رسول بنائے ، اورکلام سے اپنا ذکر چنا اورزمین سے مساجد کواختیار کیا ، اورمہینوں میں سے رمضان المبارک اورحرمت والے مہینے چنے ، اورایام میں سے جمعہ کا دن اختیارکیا ، اورراتوں میں سے لیلۃ القدر کوچنا ، لہذا جسے اللہ تعالی نے تعظیم دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو ، کیونکہ اہل علم وفہم اورحل وعقد کے ہاں امور کی تعظیم بھی اسی چيز کےساتھ کی جاتی ہے جسے اللہ تعالی نے تعظيم دی ہے ۔

تفسیر ابن کثیر اور تفسیر ابن کثیر سورۃ التوبۃ آیت نمبر ( 36 ) میں ہے ۔

محرم الحرام کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھنے کی فضیلت :

ابوہریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان المبارک کے بعدافضل ترین روزے اللہ تعال کے مہینہ محرم الحرام کے روزے ہيں ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1982 ) ۔

یکم محرّم الحرام، کفّار قریش کااصحاب و انصار سےاقتصادی بائیکاٹ

بعض مورخین کے بقول ہجرت نبوی (ص) سے 6 سال قبل یکم محرم کے دن ، حضور اکرم (ص) اور آپ (ع) کے اصحاب و انصار کے بائیکاٹ کے لئے کفّار قریش نے معاہدہ کیا ۔ کفّار کے سرغنے اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے ، اسی لئے انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو روکنے اور مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

اس معاہدے کی روسے ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے کسی قسم کالین دین کرے ۔ اس معاہدے کے تحت حضور اکرم (ص) اور آپ (ص) کے انصار واجبات تین سال تک مکے کے نزدیک ایک درے میں محصور رہے جسے شعب ابی طالب کہتے ہیں ۔

حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کو اس مدت میں سختیاں جھیلنی پڑیں ، لیکن آپ (ص) کے باوفا اصحاب نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا ، شعب ابی طالب میں محاصرے کے دوران ، پیغمبر اکرم (ص) کے عزیز چچا حضرت ابوطالب اور شریک حیات حضرت خدیجۃ الکبری (ع) نے وفات پائی ۔

قریش کے بعض سردار جو مسلمانوں سے خونی رشتہ رکھتے تھے ، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نادم ہوگئے اور انہوں نے حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کا محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ معاہدے کا متن دیکھنے گئے تو وہ انگشت بدنداں رہ گئے ، پوری تحریر کو سوائے خداوند عالم کے نام کے دیمک نے چاٹ لیا تھا ۔اس طرح مسلمانوں کا بائیکاٹ ہجرت سے تین سال قبل 15 رجب کو ختم ہوگیا ۔

یکم محرم سنہ 19 ہجری قمری کو اسلامی لشکر نے مصر کو فتح کیا

یہ سرزمین اس وقت رومی بادشاہت کے زیر قبضہ تھی اور اہل مصر رومی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے اور وہ دلی طور پر مسلمانوں کی کامیابی چاہتے تھے ۔ آخر کار اسلامی لشکر نے رومی فوج کو شکست دے کر مصر کے شہر یکے بعد دیگرے فتح کرلئے اور یہ ملک بھی اسلامی حکومت کے دائرے میں شامل ہوگیا ۔

یکم محرم سنہ 1011 ہجری قمری کو مشہور مسلمان عالم دین شیخ حسن بن زین الدین نے وفات پائی

وہ عظیم مرجع تقلید شہید ثانی کے فرزند تھے ۔شیخ حسن 959 ہجری قمری میں جنوبی لبنان میں واقع شہر جیل عامل میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے بچپن سے ہی قرآن کریم اور دیگر دینی علوم حاصل کرنا شروع کئے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وہ حوزہ علمیہ نجف اشرف گئے ۔ آپ نے قوی حافظے اور بھر پور صلاحیتوں کی بنا پر بہت جلدی دینی علوم پر عبور حاصل کرلیا ۔ انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کیں ۔ ان کی مشہور ترین کتاب” معالم الدین و ملاذ المجتہدین “ہے ۔ اس کتاب کی وجہ سے وہ صاحب معالم کے لقب سے مشہور ہوئے ۔

(مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مضامین سے بھی مدد لی گئی ہے )

SHARE

LEAVE A REPLY