افغان طالبان یا حقانی سے تعاون نہیں کررہے، پاکستان

0
59

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک سے تعاون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، امریکی انتظامیہ کے کچھ لوگ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں ۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے آغاز میں انڈونیشیا سے ذوالفقار کی رہائی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا۔

ان کاکہناتھاکہ پاکستان عالمی امن کے لئے مسلسل قربانیاں دے رہا ہے،پاکستانی سپاہی نائیک نعیم رضا نے کانگو میں شہادت دی ،وہاں ایک اور فوجی زخمی بھی ہوا ۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر لب سی رکھے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کا 123 ارب ڈالرز کا نقصان ہو ا ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی پڑوسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، پاکستان کی پڑوسی ممالک سے بھی یہی توقع ہے۔

ان کا مزید کہناتھاکہ افغانستان سے پاکستان پر 470 حملے ہوئے ،ہم نے افغان سرحد پر 975 چوکیاں تعمیر کیں جبکہ افغانستان کی صرف 200 کے قریب ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک افغان پہلے ورکنگ گروپ کا اجلاس کل کابل میں ہوگا،ہماری معیشت کا 123 ارب ڈالر انسداد دہشتگردی کی لڑائی میں نقصان ہوا،یہ رقم اتحادی سپورٹ فنڈ کے علاوہ ہے۔

ان کا کہناتھاکہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے ، بھارتی قابض فوج نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت میں مختلف اقلیتوں کا استحصال بھی جاری ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ یاسین ملک نے سشما سوراج کے نام کھلے خط میں بھارتی دوہرے معیارکو تنقید کا نشانہ بنایااور مجاہدین کو قانون تک رسائی کے بغیر پھانسی دینے کو ماورائے عدالت قتل بتایا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یاسین ملک کے خط سے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والا غیر انسانی سلوک عیاں ہوتا ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں نہتے شہریوں پربھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں کا مکمل طور پر مخالف ہے ،افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہناتھاکہ افغانستان کے سپرد کردہ 27 مشتبہ افراد افغانی ،طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے متعلق تھے،اسلام آباد کسی بھی قابل کارروائی معلومات پر اقدام اٹھائے گا،کابل ٹی ٹی پی، جماعت الاحرارکی پناہ گاہوں کے خاتمے پرتوجہ دے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ افغان مہاجرین کی فوری اور باعزت وطن واپسی چاہتے ہیں،یہ افغانستان پرمنحصرہے کہ وہ امن کیلئے مختلف فریقین سے بات چیت کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی عوام کی امنگوں اور قومی مفادات کے مطابق ہے،مشال ریڈیو کا دفتر بند کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ کا ہے،یہ اقدام لائسنس کے معاملے پر کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے گوادر فری اکنامک زون کا افتتاح کیا، منصوبہ بلوچستان کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرےگا ،گوادر میں اسپتال کو 150 بستر تک توسیع دے کر اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY