سپریم کورٹ کو نااہلی کی مدت کے تعین کا اختیار ہے، عدالتی معاون

0
83

سپریم کورٹ میں آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے عدالتی معاون بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اس حوالے سے فیصلے کے لیے عدالت عظمیٰ کو اختیار حاصل ہے تاہم انھوں نے تاحیات نااہلی کی مخالفت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل ون ایف کو اوپن رکھا ہے ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نااہلی کے مدت کے لیے کوئی طریقہ کار تو متعین ہو، یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کو دو سال سزا دی جائے اور کسی کو 5 سال سزا دی جائے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ امیدوار کے لیے سب سے پہلے پاکستانی شہری ہونا ضروری ہے جس کے بعد امیدوار کی اہلیت آتی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کچھ نااہلی ایسی ہوتی ہے جس کے لیے عدالتی ڈیکلریشن ضروری ہوتا ہے جبکہ کچھ کے لیےڈیکلریشن ضروری نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھا یا کہ امیدوار کے پاس پاکستانی شہریت ہو 25 سال عمر بھی ہو تو اس صورت میں بھی نااہلی ہوسکتی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نظریہ پاکستان میں آئین کو تحفظ دیا گیا ہے۔

عدالت معاون کی دلیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم ہے نظریہ پاکستان کو تحفظ کیوں دیا گیا ہے کیونکہ کچھ سیاسی جماعتوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی جس میں احرار پارٹی بھی شامل تھی۔

عدالتی معاون کا کہنا تھا کہ میں آرٹیکل 62 ون ایف کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، جس کا پہلا حصہ سمجھدار، عاقل اور بالغ ہونا ہے، دوسرا حصہ راست گو اور تیسرا حصہ نان پروفیگیٹ ہونا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کے لیے تعمیراتی ڈھانچے کا تصور بھی موجود ہے جس کا ہے کہ اس مدت کا تعین عدلیہ کو کرنا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین عوامی خواھشات کا مظہر ہے اور آرٹیکل 62 اور 63 دونوں شقوں میں کوئی فرق نہیں جو اہلیت اور نااہلیت کے بارے میں ہیں۔

جسٹس اعجازالحسن کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ آئین میں دونوں شقوں کو شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی، عدالتی معاون نے کہا کہ 62 اور 63 میں ہم آہنگی ہونی چاہیے کیونکہ دونوں شقوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا امریکا اوربرطانیہ میں قتل کا مجرم سزا بھگتنے کے بعدالیکشن لڑ سکتا ہے تو اس جواب یہ ہے کہ وہ الیکشن نہیں لڑسکتا۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کوجان بوجھ کراوپن رکھا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیاعدالت کوپارلیمنٹ نے صوابدیدی اختیار دیا ہے اور یہ صوابدیدی اختیار کیوں دیا گیا یے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا کسی کو ایک سال اورکسی کو 5سال کے لیے نااہل کردیا جائے کوئی نہ کوئی معیار ہونا چاہیے۔

عدالتی معاون نے کہا کہ کم از کم سزا5 سال نااہلی کی مدت ہونی چاہیے جس پر جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا 5 سال کے بعد ڈیکلریشن ختم ہوجائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا بھائیوں کے درمیان اثاثے کی تقسیم کامعاملہ ہو، ایک بھائی فضول خرچ ہو تو کیا وہ تاحیات نااہل ہوگا۔

بیرسٹر علی ظفر نے تجویز دی کہ نااہلی تاحیات نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے معاملے پر عوامی نوٹس جاری کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی فیصلے سے متاثر شخص عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کر سکتا ہے۔

عدالت نے سینئر وکیل منیر اے ملک اور علی ظفر ایڈووکیٹ کو عدالتی معاون مقرر کردیا تھا جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت آرٹیکل 62 سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY