سپریم کورٹ , اٹارنی جنرل پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد

0
51

چیف جسٹس ثاقب نثار نے نااہلی مدت کیس میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو عدم پیشی پر 20ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے نااہلی مدت کیس کی سماعت کی۔
صبح ہونے والی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل ہماری اجازت کے بغیر لاہور کیوں گئے؟ ان پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ اٹارنی جنرل معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کے جنازے کے لیے لاہور میں ہیں،تو چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عاصمہ جہانگیر کی وفات کا بہت صدمہ ہے، یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے، لیکن کسی کے چلے جانے سے کام رُک نہیں جاتے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کا آگاہ کیا کہ کل اٹارنی جنرل بیرون ملک جارہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وہ گھومنے پھر نے جارہے ہیں تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ اشتراوصاف کیسز کے سلسلے میں بیرون ملک جارہے ہیں، جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی اہم کیسز نہیں، ہم ان کی عام چھٹیوں کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل سے بات کرتا ہوں، وہ آج ساڑھے چار بجے تک عدالت میں حاضر ہوجائیں گے، آپ دس ہزار روپے جرمانے والا حکم واپس لے لیں۔شام چار بجے دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے اشتر اوصاف پر بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہ کہ پیش ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی۔
اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل کا رویہ ایسا ہونا چاہئے کہ چیف جسٹس کے سامنے پیش نہیں ہو رہے، اس لئے ہم ان پر جرمانہ عائد کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہدایت کرتے ہیں کہ جرمانے کی رقم فاطمی فاؤنڈیشن کو دی جائے، بعد ازاں کیس کی سماعت چودہ فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY