اپنے گزشتہ مضمون میں تمام یورپین نسل کی اکثریت رکھنے والے ملکوں کی طرف ہجرت کرنے کے نشیب اور فراز سمجھائے تھے جس کے لیئے ہم نے لفظ “ یہاں“ استعمال کیا تھا۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم کنیڈا میں ہیں تو ہمارا اشارہ صرف کنیڈا کی طرف ہے۔ لیکن سمجھ بھی لیں تو انشا اللہ گھاٹے میں نہیں رہیں گے۔ کیونکہ یہ ملک اس لیئے مہاجروں کی جنت ہے کہ یہ دنیا میں واحد ملٹی کلچرل ملک ہے یہاں کے وزیر دفاع ہندوستانی نزاد ہیں جن کے آباو اجداد سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اور وزیرِ امیگریشن ا فریقی نزاد مسلمان ہیں۔ چونکہ تمام یورپین ملکوں میں یہ رواج ہے کہ جو لیبل پر لکھتے ہیں اندر بھی وہی ہوتا ہے ،بیچتے بھی وہی ہیں جوکہ کبھی ہمارا طرہ امتیاز تھا۔لہذا یہ بھی بدرجہ اتم اپنے ملٹی کلچرل ازم پر پوری طرح قائم ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ نام کچھ ہو جو کہ دستور میں بھی لکھا ہو ا ہو، لیکن عمل کچھ اور ہو؟ انہیں بھی سوا دولاکھ آدمی ہر سال چاہیئے ہوتے ہیں ۔ چونکہ تمام یورپین دنیا میں “ ورک فورس “ کی کمی ہے۔ لہذا کثر تعداد پوری نہیں ہوتی؟ اِن ملکوں میں ورک فورس کی کمی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نئی نسل نے اپنی ترجیحات بدل دیں ہیں۔ پہلے ان کی ترجیح بھی ہماری طرح بچے پیدا کرنا تھی جوکہ دوسری جنگِ عظیم تک قائم رہی اس دور تک کے لوگ “بے بی بومر“کہلاتے ہیں۔ جو اب بوڑھے ہوکر ختم ہو رہے ہیں ان میں سے جو بَچے ہیں، وہ ملکی معشیت پر بار ہیں کہ ان میں زیادہ تر ممالک فلاحی مملکت ہیں جونہیں ہیں جیسے کہ یوایس اے۔ انہیں بھی اپنے نادار بوڑھوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔مگر پوری دنیا میں پہلے نمبر پر جو پاسپورٹ اہمیت رکھتا ہے وہ “ امریکن پاسپورٹ“ ہے جبکہ کنیڈا دوسرے نمبر پر ہے۔ لیکن دوسری سہولیات کے اعتبار سے یہ امریکہ پر اقابل ِ ترجیح ہے۔ ایک صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ کسی عرب ملک میں گئے توا نہوں نے ہرے رنگ کے ان کے خاندان کے پاسپورٹ دیکھے تو اٹھاکر اس ڈھیر میں فرش پر اچھال دیئے! ان کے درمیان میں ان کے نوزائیدہ بیٹے کابھی پاسپورٹ تھاجو امریکہ میں پیدا ہوا تھا وہ بھی دور جاگر ا جوکہ لال رنگ کا امریکن پاسپورٹ تھا ۔ شرطہ نے جیسے ہی دیکھا تو دوڑ کر اٹھا یا، اور بیٹے کے طفیل میں ماں باپ کے پاسپورٹ پربھی اندراجات کرکے واپس کردیا۔ یہ میں تفصیل اس لیئے بتا رہا ہوں کہ ہجر ت کرتے ہوئے علم میں رہے کہ کونسا ملک کس اعتبار سے ہجرت کے لیے بہتر ہے۔ جبکہ ہجرت گر میرے بتائے ہوئے طریقہ تو ثواب سب کا برابر ہے۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔
اب رہی یہاں کی زندگی وہ ذرا مشکل ہے۔ آتے ہی آپ کے معیار کی ملازمت نہیں ملتی، کیونکہ کنیڈا کسی ملک کی ڈگری آسانی سے تسلیم نہیں کرتا۔ پھر یہاں ہر صوبہ کے اپنے قوانیں ہیں جو کہ ایک دوسرے مختلف ہوتے ہیں ان کو پڑھ کر امتحان دیتا ہوتا ہے۔ پھر جاکر اپنے معیار ملازمت کے اہل بنتے ہیں اسوقت تک چھوٹی موٹی ملاازمتیں مل سکتی ہیں جیسے پٹرول پمپ پر پیٹرول بھر نا یاچوکیداری کرنا (جسکوسکوریٹی آفیسر کہتے ہیں) ۔ا س کے علاوہ انٹر ویو میں وہ خود آپ سے ہی پوچھے گا۔ کہ آپ اپنے بارے میں خود ہی بتایں کہ آپ کو کی آتا ہے۔ جبکہ ڈگری بعد میں اگر ضرورت سمجھی تو مانگ لیتے ہیں ورنہ اکثر مانگتے بھی نہیں کہ وہ آپ کی قابلیت آپ سے ہی معلوم کر لیتے ہیں کہ آپ کتنے پانی میں ہے ۔ جو آپ اپنے بارے میں انہیں بتاتے ہیں اور اس پر جو وہ درمیان میں ضمنی سوال کرتے جاتے ہیں۔ یہاں صلاحیت کام آتی ہے صرف ڈگری اور سفارش کار آمد نہیں ہوتی ۔ دوسرے ممالک کا ہمیں تجربہ نہیں لہذا ہم ان کے بارےمیں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
یہاں یہ سب تھوڑے دن کی تکالیف ہیں۔ پھر آرام ہی آرام ہے۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد آپ کا حال اور مستقبل سب محفوظ ہے۔ اس لیے کہ یہ ملٹی کلچرل کے ساتھ ایک فلاحی مملکت بھی ہے۔ ٹیکس زیادہ ہے مگر مراعات اس کو دیکھتے ہوئے بہت زیادہ ہیں۔ بچوں کا وظیفہ ہے۔ بیروزگاری الاؤنس ہے۔ بیوگی کا الاؤنس ہے یتیموں کاالاؤنس ہے۔ بڑھاپے کا الاؤنس ہے۔ ہیلتھ انشورنس ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے پچھے مضمون میں لکھا کہ اس ارادے سے آئیں کہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ عمل پر کریں گے ۔اسے جاننے کے لیے کوئی بھی سیرت کی کتاب پڑھ لیجئے وہ کام دے گی کیونکہ حضور (ص) گھر میں بھی مثالی تھےگھر کے باہر بھی مثالی تھے انسان ِ کامل ہونے کی وجہ سےانسانیت کا بہترین نمونہ بناکر دنیامیں بھیجے گئے تھے ۔اگر آپ اس پر عامل ہوکر خود اچھے بن جائیں گے اور سب سے محبت کریں گے ،تو جواب میں سب آپ سے محبت کریں گے۔ باقی آئندہ













