ریاست پاکستان کا ٹوٹا ہوا سماجی معاہدہ
تحریر: نجیب اللّٰہ
میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے گاؤں کی گلیاں آج بھی اس ریاستی جبر کی کہانیاں
سناتی ہیں جس کا ہم برسوں سے سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے ریاست کبھی ماں نہیں بنی۔ وہ ایک ایسے طاقتور ادارے
کی شکل اختیار کر گئی ہے جو ہمارے اوپر قابو پانے کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے اپنے ارد گرد یہ دیکھا ہے کہ لوگ گمشدہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی رات کے اندھیرے میں
اٹھا لیا جاتا ہے۔ کوئی دن دہاڑے پکڑا جاتا ہے۔ اور پھر ان کا نام محض ایک کہانی بن کر رہ جاتا ہے۔ ماں دروازے پر
بیٹھی رہتی ہے بچے سوال کرتے ہیں مگر جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحے ہیں جب ایک عام شہری ریاست
پر اعتماد کھو دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ریاست نہ اس کی حفاظت کرے گی اور نہ اس کی فریاد سنے گی
ہماری سرزمین پر آپریشن ہوتے ہیں۔ کبھی دہشت گردی کے نام پر، کبھی قومی سلامتی کے نام پر۔ لیکن ان آپریشنز کے
بیچ میں جلتے ہیں ہمارے گھر، اجڑتے ہیں ہمارے دیہات اور ہم اپنی ہی زمین پر اجنبی بن جاتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے
کہ یہ سب ہماری حفاظت کے لیے ہے۔ مگر ہماری آنکھوں نے تو صرف ملبہ اور لاشیں دیکھی ہیں۔
ریاست کا بیانیہ بار بار یہ دہراتا ہے کہ قومی سلامتی سب سے اہم ہے۔ لیکن میرے جیسے عام شہری کے لیے اصل
سلامتی یہ ہے کہ میرا ووٹ گنا جائے۔ میرا حقِ رائے دہی چھینا نہ جائے۔ میں اپنے خیالات کھل کر بیان کر سکوں۔
میرے بچوں کو تعلیم اور صحت میسر ہو۔ میرے گاؤں کے لوگوں کو روزگار ملے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں ہے تو پھر وہ
قومی سلامتی میرے لیے بے معنی ہے جسے ٹی وی اسکرینوں پر بار بار بیچا جاتا ہے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سیاست صرف طاقتوروں کا کھیل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سیاست عوام کے بغیر مکمل ہو
سکتی ہے۔ کیا پارلیمان صرف چند خاندانوں کی جاگیر ہے۔ کیا جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ ہم ووٹ ڈالیں اور پھر پانچ
سال کے لیے خاموش ہو جائیں۔ اگر ہماری آواز دبائی جاتی ہے، اگر ہمیں سیاست میں حصہ لینے سے روکا جاتا ہے تو
یہ جمہوریت نہیں بلکہ دھوکہ ہے۔
اعتماد کو بحال کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ریاست عوام کو ان کے بنیادی حقوق واپس دے۔ ہمیں آزاد رائے دینے کی
اجازت دے۔ منصفانہ انتخابات کرائے۔ ہمیں اپنی سیاست اور اپنے مستقبل میں شریک کرے۔ عدلیہ کو انصاف کا دروازہ
سب کے لیے کھولنا ہوگا۔ فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہنا ہوگا۔ میڈیا کو آزاد رہنے دینا ہوگا تاکہ سچ سامنے آسکے۔ جب
ہر ادارہ اور محکمہ اپنی اپنی ڈومین میں رہے گا اور عوام کو ان کا حق ملے گا تو ہی یہ سماجی معاہدہ دوبارہ قائم ہوگا۔
میں جانتا ہوں کہ طاقت کے ذریعے کچھ وقت کے لیے آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ
ناکام ہوئی ہے۔ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو عوام کے دلوں کو جیت لے۔ اگر پاکستان نے اپنے شہریوں کو حقیقی شراکت
دار نہ مانا تو وہ دن دور نہیں جب یہ خلا اتنا بڑھ جائے گا کہ ریاست اور عوام کے درمیان کوئی پل باقی نہیں بچے گا۔
پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے عوام کو رعایا سمجھے گا یا شریکِ سفر۔ اگر یہ فیصلہ وقت پر نہ کیا گیا تو آنے
والی نسلیں نہ ہمیں معاف کریں گی اور نہ اس ریاست کو۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سانحہ بابڑہ، پختون کربلا
تحریر: نجیب اللّٰہ
بارہ اگست انیس سو اڑتالیس چارسدہ کے علاقے بابڑہ میں ایک ایسا دن تھا جو ہمیشہ کے لیے پختونوں کی اجتماعی
یادداشت میں خون اور آنسو سے لکھا گیا۔ پاکستان کے قیام کو صرف ایک سال ہوا تھا آزادی کی خوشیاں ابھی تازہ تھیں
مگر سیاسی اختلافات اور طاقت کے بے دریغ استعمال نے ان خوشیوں پر سیاہ سایہ ڈال دیا۔
اس وقت صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب اور باچا خان کی قیادت
میں خدائی خدمتگار تحریک پختون عوام کے حقوق تعلیم اور پرامن جدوجہد کی علامت تھی۔ یہ تحریک گاندھی کی عدم
تشدد کی فکر سے متاثر ہو کر پختونوں کو شعور اور وقار دے رہی تھی مگر مرکزی حکومت کو ان کا وجود برداشت نہ
تھا۔ سیاسی اختلافات شدید تر ہوتے گئے اور بالآخر ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت برطرف کر کے عبدالقیم خان کو
وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔
بارہ اگست کو خدائی خدمتگار تحریک نے بابڑہ میں ایک بڑا اجتماع بلایا مقصد کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھنا اپنے
مطالبات دہرانا اور نئی سیاسی صورت حال پر لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اس اجتماع میں نہتے مرد بزرگ نوجوان اور
کچھ خواتین و بچے بھی شریک تھے۔ مگر صوبائی حکومت نے اسے خطرہ سمجھا پولیس اور لیوی فورسز کو حکم دیا
گیا کہ ہجوم کو منتشر کر دیا جائے۔ اور حکم ایسا تھا جس میں نہ بات چیت کی گنجائش تھی نہ برداشت کی گولیوں کی
بارش شروع ہوئی جو چند لمحوں کی نہیں بلکہ طویل اور بے رحمانہ تھی نہتے لوگوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔ کوئی
رعایت نہیں کی گئی کوئی رحم نہیں کیا گیا۔
سرکاری اعداد کے مطابق چھ سو سے زائد لوگ شہید ہوئے۔ غیر سرکاری تخمینے اس سے کہیں زیادہ ہیں سینکڑوں
زخمی ہوئے درجنوں گرفتار کر لیے گئے اور ظلم کی انتہا یہ کہ شہداء کی لاشیں لواحقین کو دینے سے انکار کر دیا گیا۔
اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا تاکہ نہ آخری دیدار ہو نہ اجتماعی غم کو آواز ملے گاؤں گاؤں خوف اور خاموشی مسلط
کر دی گئی۔
یہ سانحہ پختون سیاست کے دل پر ایسا زخم تھا جو آج تک نہیں بھرا۔ خدائی خدمتگار تحریک کے حوصلے کو کچلنے
اور سیاسی اختلاف کو خون میں ڈبونے کی یہ ایک خوفناک مثال تھی اس دن نے ثابت کر دیا کہ ریاستی طاقت اپنے ہی
شہریوں کے خلاف بھی وحشیانہ انداز میں استعمال ہو سکتی ہے۔
اٹھتر سال گزر گئے مگر بابڑہ کا یہ خون آلود باب صرف تاریخ کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک نہ ختم ہونے والا سوال ہے
جو ہر اس شخص کے ضمیر پر دستک دیتا ہے جو آزادی انسانی حقوق اور جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ریاست ماں نہیں، معاہدہ ہے۔۔
تحریر: نجیب اللّٰہ
ریاست کو ماں کہنا ایک خوبصورت مگر گمراہ کن خیال ہے۔ یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ جیسے یہ کوئی مسلمہ
حقیقت ہو، مگر درحقیقت یہ تصور شہریوں سے ان کا سب سے بنیادی حق چھین لیتا ہے اور ریاست کو ایک جذباتی
تقدس عطا کر دیتا ہے جسے چیلنج کرنا گویا نافرمانی سمجھا جاتا ہے۔ ماں کا رشتہ فطری ہوتا ہے، غیر مشروط محبت
پر مبنی۔ بچہ اگر گناہ گار بھی ہو تو ماں کا دل اسے رد نہیں کرتا۔ وہ پالتے وقت یہ نہیں سوچتی کہ اس نے بدلے میں
کیا لینا ہے۔ اس کی محبت قانون یا معاہدے کی پابند نہیں ہوتی۔ مگر ریاست کا رشتہ ان تمام جذباتی حوالوں سے بالکل
مختلف ہے۔ ریاست ٹیکس لیتی ہے، قانون نافذ کرتی ہے، شہریوں کی زندگی میں دخل دیتی ہے اور بدلے میں کچھ
بنیادی وعدے کرتی ہے جن میں انصاف، تحفظ، تعلیم، صحت اور برابری شامل ہیں۔ یہ ایک معاہدہ ہے، ایک دو طرفہ
تعلق۔ نہ ریاست ماں ہے نہ شہری اولاد۔ جب ریاست اپنے وعدے پورے نہ کرے تو شہریوں کو مکمل حق حاصل ہے
کہ وہ سوال کریں، آواز اٹھائیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔
ریاست کو ماں کہنے کا مفروضہ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی۔ یہ تصور اکثر حکمران طبقہ خود کو ہر قسم
کے احتساب سے بچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب ریاست شہریوں کی جبری گمشدگی میں ملوث ہو، جب وہ
سیاسی اختلاف کو بغاوت قرار دے دے، جب وہ عدل صرف طاقتور کے لیے مہیا کرے، جب تعلیم اور صحت جیسی
بنیادی سہولیات کاروبار بن جائیں اور جب عوام کی زبان بند کرنا ریاستی پالیسی بن جائے تو ایسی ریاست کو ماں کہنا
ظلم کو تقدیس کا نام دینا ہے۔
برصغیر کی تاریخ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ ریاست ایک طاقت کا ادارہ رہی ہے، نہ کہ ماں جیسا کوئی فطری
کردار۔ انگریز دور میں ہندوستانی ریاست ایک ;استعماری مشین تھی، جو عوام سے وسائل نچوڑنے کے لیے بنائی
گئی۔ ریاست نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد نہ صرف لاکھوں افراد کا قتلِ عام کیا بلکہ زمینیں ضبط کیں، طبقات
میں تقسیم پیدا کی اور سیاسی قیادت کو جلا وطن یا پھانسی پر چڑھا دیا۔ اگر ریاست ماں ہوتی، تو دہلی کی گلیوں میں
شہریوں کی لاشیں کیوں بچھتیں؟
قیامِ پاکستان کے بعد بھی ریاست کا کردار جذباتی ماں جیسا نہیں بلکہ سرد و سخت حاکم جیسا رہا۔ 1971 میں مشرقی
پاکستان کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ کسی بھی ; کے تصور کو چکناچور کر دیتا ہے۔ ایک پوری اکثریتی قوم کے
مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا، فوجی آپریشن کے ذریعے مسئلے کو کچلنے کی کوشش، اور آخرکار ملک کا دو لخت ہو جانا
یہ سب کچھ ایک ریاستی معاہدے کی خلاف ورزی تھی، ماں کی محبت نہیں۔
اسی طرح بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ریاست کا کردار ماں جیسا نہیں بلکہ جاسوس، جابر اور ظالم حاکم
جیسا رہا ہے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، مسنگ پرسنز اور مقامی آبادی کو مسلسل مشتبہ اور غیر قابلِ
اعتماد سمجھنے کی پالیسی کیا ریاستی محبت کی علامت ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست جذبات
نہیں دیکھتی، طاقت اور مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہے۔
سیاست، قانون اور فلسفے میں ریاست کو ہمیشہ یعنی ایک سماجی معاہدہ سمجھا گیا ہے۔ روسو،
ہابس اور لاک جیسے مفکرین نے ریاست کے تصور کو جذبات سے آزاد کر کے معاہداتی بنیادوں پر پرکھا ہے۔ شہری
اپنی آزادی کا کچھ حصہ ریاست کو منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ بدلے میں تحفظ، انصاف اور فلاح فراہم کرے۔ مگر جب
ریاست اپنے فرائض پورے نہ کرے تو شہریوں کا احتجاج جائز بلکہ ضروری بن جاتا ہے۔ یہ کوئی بغاوت نہیں بلکہ
معاہدے کی ناکامی پر فریقِ ثانی کی یاد دہانی ہے۔
ماں اولاد میں فرق نہیں کرتی ریاست کرتی ہے۔ ماں کی گود میں سب کے لیے جگہ ہوتی ہے ریاست طاقتوروں کے
لیے نرم اور کمزوروں کے لیے سنگدل ہو جاتی ہے۔ ماں سزا نہیں دیتی ریاست دیتی ہے۔ ماں گم نہیں کرتی ریاست
کرتی ہے۔ ماں کی محبت بے لوث ہوتی ہے ریاست کی وفاداری مشروط۔ ریاست آئین کی پابند ہے، جذبات کی نہیں۔ یہ
بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست ایک سسٹم ہے جو آئینی دائرے میں رہ کر چلتا ہے۔ یہ کوئی روحانی یا
مقدس ہستی نہیں جس پر تنقید کرنا گناہ ہو۔ جب ریاست شہریوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑ دے تو اس پر سوال اٹھانا
شہری کا حق ہی نہیں، فرض بن جاتا ہے۔
ریاست کو ماں کہنا صرف ایک ذہنی فریب ہے جو شہری کو بےحس اور حکمران کو بےخوف بناتا ہے۔ یہ وہ جملہ
ہے جو عوام کی زبان کو تالے لگا دیتا ہے اور ظلم کو برداشت کرنے کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اس جملے کو رد کرنا
ہوگا اور ریاست کو اس کی اصل حیثیت میں دیکھنا ہوگا ایک معاہدہ، ایک ذمہ داری، ایک جواب دہ نظام۔
ریاست اگر اپنے فرائض پورے کرے تو اس کی عزت لازم ہے، مگر اگر وہ انحراف کرے تو اس کا محاسبہ بھی اتنا
ہی لازم ہے۔ یہ محاسبہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ریاست کو جذباتی رشتوں سے نکال کر عقلی و آئینی دائرے میں
رکھیں۔ ورنہ ہم ہمیشہ ماں کے نام پر ظلم سہتے رہیں گے اور کوئی شنوائی نہ ہوگی۔
ریاست ماں نہیں، ریاست ایک معاہدہ ہے۔ اور جب معاہدہ توڑ دیا جائے تو احتجاج لازم ہو جاتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ہمیں جینے دو۔۔۔
تحریر: نجیب اللّٰہ
آج اسلام آباد میں بیٹھ کر جب خبر پڑھی کہ ڈی سی باجوڑ نے سولہ دیہات میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، ان میں میرا اپنا
گاؤں "زگئی" بھی شامل ہے۔ وہی گاؤں جہاں سے علم و شعور کی روشنی پھیلتی تھی، جو ضلع بھر میں اپنی بلند تعلیمی
شرح کی وجہ سے مشہور ہے آج بندوقوں کے سائے میں سسک رہا ہے۔ گھروں سے باہر نکلنے پر موت کا اندیشہ ہے،
گویا ہم دشمن کی سرزمین پر بستے ہیں۔
ہماری زمین نے ہمیشہ وفاداری نبھائی، قربانیاں دیں، اور ریاست پر بھروسا کیا۔ مگر آج ہماری ہی ریاست ہمیں شک کی
نگاہ سے دیکھتی ہے۔ جس زمین نے کبھی دشمن کو شکست دی، وہ آج اپنے ہی محافظوں کے سائے میں خوفزدہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟
ہم نے قلم تھاما، امن کی بات کی، اور دلیل سے جواب دیا، مگر ہر بار ہمارے حصے میں خاموشی آئی۔ ریاستی میڈیا نے
ہماری آواز دبا دی، اور قومی ضمیر نے ہماری تکلیف کو نظرانداز کر دیا۔ قبائلی علاقوں میں آج جو ہو رہا ہے، وہ کسی
سے پوشیدہ نہیں۔ آزاد میڈیا کی رپورٹس کے مطابق باجوڑ میں کئی علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، نوجوانوں
کو اُٹھایا جا رہا ہے، اور کرفیو نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
مگر ہم کمزور نہیں۔ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم اس ریاست کا حصہ ہیں، اور برابر کا حق
رکھتے ہیں۔ اگر ہمارا صبر آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے، تو ہم پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر ہمیں کب تک دیوار
سے لگایا جائے گا؟
پشتون قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ظالم قوت نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے ہم نے اپنے خون سے اس
زمین کا دفاع کیا۔ اگر آج بھی نوجوانوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی، اگر ہمیں جینے کا حق نہ دیا گیا، اگر ریاست نے
ہمیں اپنا ماننے سے انکار کیا، تو پھر کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ نوجوان ماضی کی طرح بندوق نہ اٹھا لیں۔
پھر دنیا گواہ ہو گی کہ یہ آگ ہم نے نہیں لگائی، مگر ہم اس سے بچنے کا حق ضرور مانگتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر
ہم نے اپنے اجداد کا طرز اپنایا جو کہ ظالم کو سبق سکھانے کا ہے تو ذمہ دار کون ہوگا؟ ریاست، میڈیا، یا وہ ادارے جو
ہماری شناخت کو ہی مشکوک سمجھ بیٹھے ہیں؟
ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے۔ ہم اپنی زمین اپنی عزت، اپنے بچوں کی تعلیم اور اپنی ماں کی چادر کا تحفظ مانگ
رہے ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے اور ہم یہ حق مانگنا جانتے ہیں اور چھیننا بھی۔
یہ آواز آج ایک نوجوان کی ہے کل پورے قبیلے کی ہوگی۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنے وفادار بیٹوں کو پہچانے اور وہ
فیصلے کرے جو انصاف پر مبنی ہوں ورنہ وقت خود فیصلہ کرے گا اور تاریخ خاموش نہیں رہے گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سب محبت کیلئے تھے۔۔۔
تحریر و تحقیق: نجیب اللّٰہ
دنیا میں خداوند برتر نے کچھ چیزیں ایسی تخلیق کی ہیں جنھیں صرف محبت دی جا سکتی ہے، صرف محبت کے لیے
ہیں۔
وہ رشتے، جذبات، رفاقتیں اور لمحے جن کا تعلق سود و زیاں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے۔ جن کا نفع
دنیاوی نہیں بلکہ روحانی سکون اور دل کی طمانیت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
مگر افسوس، ہم نے محبت کے لائق ان پاکیزہ نعمتوں کو بھی حساب کتاب کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
ماں باپ، جن کی دعائیں ہماری زندگی کا سائبان تھیں آج تنہائی کے اندھیروں میں بےبس بیٹھے ہیں۔ اولاد، جو کبھی
آنکھوں کی روشنی تھی اب نظریں چراتی ہے۔ دوستی، جو کبھی نبضِ زندگی تھی اب مفاد، مطلب اور فائدے کے ترازو
میں تولی جاتی ہے۔
فطرت، نیلا آسمان، بارش کی مہک، پرندوں کی چہچہاہٹ، درختوں کی چھاؤں، خاموشی کی زبان سب انسان کی روح
کی غذا تھے۔ مگر آج ہم نے دریا کو نالی، پہاڑ کو زمین، اور پرندے کو قید سمجھ لیا ہے۔ ہم نے سننے کے بجائے تولنا
شروع کیا ہے، دیکھنے کے بجائے ناپنا سیکھا ہے۔
کیا ہم بھول گئے کہ اسلام آباد میں نور مقدم جیسی بیٹی اُسی ;محبت; اور بھروسے کے نام پر ظلم کا شکار ہوئی؟ جب
تعلقات سے محبت رخصت ہو جائے تو طاقت اور انا کی جگہ بچتی ہے اور وہی بربادی کی علامت ہے۔
قرآن یاد دلاتا ہے:
اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی(سورۃ الاسراء: 70)
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا (صحیح بخاری)
ہم نے رحم کو کمزوری، محبت کو سادہ لوحی اور خلوص کو بوجھ سمجھ لیا ہے۔
وقت ہے رکنے کا، سوچنے کا۔
یہ پہچاننے کا کہ انسان، رشتے، جذبات، فطرت اور وقت یہ سب محبت کے لیے تھے۔
انہیں صرف محبت ہی دی جا سکتی ہے۔ تب ہی انسانیت باقی رہے گی… ورنہ صرف خالی ڈھانچے بچیں گے جنہیں
کوئی نہیں چاہتا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
غیرت کی آڑ میں خون: ایک قبائلی نوجوان کی چیخ
تحریر: نجیب اللّٰہ (ایک قبائلی نوجوان)
میں ایک قبائلی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور میرا خاندان بھی ایک روایتی قبائلی خاندان ہے۔ ہمارے
ہاں روایات رگ و پے میں سمایا ہوا ایک قانون ہیں، جنہیں توڑنا گناہ سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن
انہی روایات کی بھینٹ چڑھ کر میں نے اپنی آنکھوں سے شیتل اور زرق جیسی کئی مظلوم جانوں کو بے
بسی سے دم توڑتے دیکھا ہے۔ ان کے چہروں پر خوف، ان کی آنکھوں میں لاچاری، اور ان کے خاندانوں
کی خاموش چیخیں آج بھی میرے دل و دماغ میں گونجتی ہیں۔
بلوچستان کا حالیہ سانحہ، جہاں ایک لڑکے اور لڑکی کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، کوئی
نیا قصہ نہیں۔ یہ وہ کہانی ہے جو ہمارے دیہاتوں کی گلیوں میں بارہا دہرائی جاتی ہے۔ لیکن اس بار دل کو
چیر دینے والی یہ حقیقت سامنے آئی کہ ہماری بحثیں صرف لڑکی کے کردار، حیا، یا آزادی تک محدود رہتی
ہیں۔ وہ لڑکا، جو اسی غیرت کی بھٹی میں جھلس گیا، اس کی موت پر خاموشی کیوں؟ کیا اس کی
زندگی اتنی ہی قیمتی نہیں تھی؟
ایک قبائلی نوجوان کے طور پر، میں کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات اسلام کی
تعلیمات کے برخلاف ہیں۔ ہم خود کو اسلام کا سچا پیروکار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض
روایات کو ہم دین سے بھی زیادہ مقدس مانتے ہیں، حالانکہ وہ اسلام کی روح کے منافی ہیں۔ قرآن کریم
واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے: ;کہہ دو: مومن مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی
حفاظت کریں… اور مومن عورتیں بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں…;
(سورۃ النور: 30-31)
یہ آیت دونوں صنفوں کے لیے حیا کی یکساں اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ پھر ہمارا معاشرہ کیوں صرف
عورت کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے؟ کیوں اس لڑکے کی چیخ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جسے ہماری روایات
نے غیرت کا رکھوالا بنا کر اسے مظلوم ہونے کا حق بھی چھین لیا؟
ہمارے ہاں غیرت کو عزت کا نام دیا جاتا ہے، لیکن یہ اکثر ظلم کا روپ دھار لیتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ
یہ روایات صرف عورتوں کو نہیں، مردوں کو بھی زنجیروں میں جکڑتی ہیں۔ ایک نوجوان لڑکے سے توقع
کی جاتی ہے کہ وہ خاندان کی "عزت" کا بوجھ اٹھائے، لیکن اس بوجھ تلے اس کی اپنی خواہشات، اس
کی آواز، اور اس کی زندگی دب کر رہ جاتی ہے۔ شیتل اور زرق جیسے کتنے ہی نوجوان اس بوجھ تلے
کچلے گئے، لیکن ہماری خاموشی ان کے خون پر پردہ ڈالتی رہی۔
اسلام ہمیں رحمت، عدل، اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ;تم میں سے کوئی
شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔;
(صحیح بخاری)
یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر جان کی حرمت برابر ہے۔ پھر یہ کیسی غیرت ہے جو خون مانگتی ہے؟ یہ
کیسی روایت ہے جو انسانیت کو صلیب پر چڑھاتی ہے؟
ہمارے معاشرے کو اپنی سوچ پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو قرآن کی روشنی میں تربیت
دینی ہوگی، تاکہ وہ جان سکیں کہ غیرت ہتھیار نہیں، ڈھال ہے ظلم سے بچانے کے لیے، نہ کہ ظلم کرنے کے لیے۔ وہ روایت جو انسان کی جان لے، دین نہیں ہو سکتی۔ وہ معاشرہ جو قاتل کے ساتھ کھڑا ہو، مظلوم کے ساتھ نہیں، وہ قرآن کا نمائندہ نہیں، بلکہ جاہلیت کا پرچارک ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت دے، اور ایسی
جاہلانہ روایات سے نجات عطا فرمائے۔ ایک قبائلی نوجوان کے طور پر، میں اپنے معاشرے سے التجا کرتا
ہوں کہ آئیے، ہم ان زنجیروں کو توڑیں۔ آئیے، غیرت کو ظلم کی آڑ نہ بنائیں، بلکہ اسے محبت اور انصاف کا
نشان بنائیں۔













