ہم نے گزشتہ مضمون میں یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ نام کا مسلمان ہونے سے اس وقت تو فائدہ تھا کہ وہ رسمی طور پر کلمہ پڑھتے ہی اپنی جان اور مال بچالیتے تھے اور اپنے خاندان والوں اورقبائل سے بدستور گھلے ملے بھی رہ سکتے تھے کہ مسلمان ہونے کے باوجود یہ انہیں منع نہیں تھا۔ لہذا وہ مجبوراً ایسا کرتے تھے کیونکہ اسلام کا اس وقت طوطی بول رہا تھا۔لیکن اب وہ صورت ِحال نہیں ہے۔ایسا کرنے میں گھاٹا ہی گھاٹا ہے؟جتنے بھی صرف نام کے مسلمان ہیں۔ وہ یہاں تو مسلمانوں میں شامل ہیں۔ لیکن اللہ کے یہاں تو وہ منافق لکھے جارہے ہیں۔کیونکہ جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اور اس کے احکمات پر عمل نہیں کرتے وہ قرآن کے مطابق منافق کہانے مستحق ہیں ؟اورمنافقوں کا مقام اللہ تعالیٰ نے کفا ر سے بھی جہنم کےنچلے درجے میں رکھا ہے؟ اس کے لیئے میں نے گزشتہ مضمون میں سورہ مدثرکی آیات 141سے 156تک کا ذکر کے مزید سمجھانا چاہا ہے انہیں مشورہ ہے وہ اس کے علاوہ سورہ منافقین بھی پڑھ لیں۔اگر اور مختصر دیکھنا چاہتے ہوں تو سورہ الصف کی آیت نمبر 2 اور3دیکھ لیجئے۔ جس میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ“ مسلمانوں ایسی بات کہتے کیوں ہو جن پرعمل نہیں کرتے اللہ کو ایسی باتیں سخت ناپسند ہیں“ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی کتنی بیزاری ٹپکتی رہی ہے وہ ان دو آیات سے ظاہر ہے۔جبکہ حدیث میں حضور ﷺ نے منافق کی پہچان یہ ارشاد فرمائی ہے کہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ امانت رکھو توکھاجاتا۔ جس میں یہ تینوں باتیں ہیں وہ مکمل طور پر منافق ہے۔ایسے اشخاص کو بغیر توبہ کے موت آجائے تو سورہ مدثر کی ان آیات کے مطابق جہنم میں جا ئیں گے۔ تو یہ کہیں بہتر نہیں ہے کہ توبہ کرکے پکے مسلمان بنجا ئیں۔ جبکہ شفاعت کی ضمانت حضور ﷺ نےاسی صورت میں دی ہے۔ جبکہ دوسروں کو متنبہ کیا ہے کہ میں ان کی شفاعت کی گارنٹی نہیں دے سکتاجو کہ اسلام کے کسی ایک بھی حکم کی خلاف ورزی کرے؟ ہم نے ان سب چیزوں کے علاج کے لیئے۔سورہ البقرہ کے پہلے رکوع پر عمل کرنے کا مشورہ دیا تھا؟ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے اور انکو فلاح کی خوش خو خبری بھی عطا فرماتاہے۔ اسے اختیار کرلیجئے۔ مگر اس کے لیئے شرط یہ ہے کے پورے قرآن کو تسلیم کرلیں دل کی گہرائیوں سے اسے شبہ سے بالا تر سمجھیں۔ اس میں سب سے زیادہ اہم عاقبت پر یقین رکھنا ہے اسی پرزور ہے۔ ہمارے یہاں آجکل تو عاقبت کی کوئی اہمیت نہیں ورنہ یہ جانتے ہوئے کہ اللہ عالم الغیب کوئی مسلمان گناہ کرنا تو بڑی بات ہے وہ گناہ کرنے کے بارے میں وہ سوچنے کی ہمت نہیں کرتا؟یہ عاقبت پر شک ہی تو ہے کہ یوم احتساب یا قیامت کو بھولے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں دو بزرگوں کے خیالات پیش کرتا ہوں تاکہ لوگ اس کی اہمیت سمجھ سکیں؟ ایک ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہ کسی نے پوچھا کہ یہ جوکچھ جو آپ خودکر رہے ہیں اور ہمیں کر نے کا حکم دے رہے ہیں اگرنہ ہوا تو کیا ہوگا؟فر مایا اگر ہواتو پھر کیا ہوگا؟ ان کے صاحبزادے حضرت امام حسینّ خود شہید ہوگئے پورے خاندان کو شہید کرادیا مگر یزید کی بیعت نہ کی۔ جب سب ساتھی شہید ہوگے تو شمر نے ان کو آخری پیش کش کی آپ یزید کی بیعت کرلیں تو آپ کے لیئے سب کچھ موجود ہے۔ یزید کی ایسی کونسی بات ہےجو کہ آپ کو بیعت سے مانع ہے؟۔انہوں ؑے جواب دیا میں اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ کیسے دیدوں جو کہ عاقبت پر یقین نہیں رکھتا۔ انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کے نفع نقصان کے اپنے مستقل کے بارے میں سوچتا ہے۔ جہاں زیادہ فائدہہ نظر آتا ہے اسی طرف جھکتا۔ مندرجہ بالا بحث بعد آپ بھی متفق ہوگئے ہونگے کہ آپکا دائمی مستقبل توبہ میں ہے اللہ نے یقین دلایا ہوا ہےکہ کوئی پہاڑ کے برابر گناہ لیکر میرے پاس آجائےمیں توبہ قبول اس کومعاف کرونگا۔ بشرط ِحقوق العباد اس کے ذمے نہہ ہوں حقوق العباد صاحب ِ معاملہ ہی معاف کریں گے۔












