ہوس پرست، خواہش پرست، مفاد پرست، انا پرست، بارود

0
1205

آج مردوزن معاشرے میں اس ہوس پرست، خواہش پرست، مفاد پرست، انا پرست، بارود کی مانند ہیں جو خود تو پھٹتا ہی ہے پر سب گردونواح کو بھی ساتھ ہی لپیٹ لیتا ہے، ہم اسوقت جس وقت سے گزر رہے ہیں اجتماعی اور انفرادی طور پر اس قدر منافق، غلیظ، گندے اور بدترین ہو چکے ہیں کہ ہم پر کوئی نصیحت، حق بات، رب کا خوف نہ اسکی محبت ہی اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔

بنیادی طور پر ہم خود عزاب کا شکار ہیں وہ عزاب جو ہم نے اپنی زات پہ ظلم کے نتیجے میں، اور دوسروں پہ اپنی فرعونیت جتانے کے نتیجے میں نتیجتاً خریدا ہے، ہمیں یقین رکھنا چاہییے کہ اگر ہم اندھے، بہرے، گونگے پن سے باہر نکل کر عملا درست اقدامات نہیں کرینگے، عدل و انصاف، اخلاص، اخلاقیات نہیں برتیں گے، انسان مرد ہو یا عورت یا کہ خواجہ سرا ۔ ۔ ۔

اسے اسکا حقیقی حق نہیں دینگے، توازن و عدل پہ انسانی فضا قائم نہیں کرینگے ہم سب اس عزاب کے نتیجے میں زمین میں دھنس جایینگے، پھر چاہے کچھ ہو جائے اور چاہے ہم کتنے حاجی، نمازی، پرہیز گار ہی کیوں نہ ہوں ۔ ۔ ۔

آج ہر اک فرد کو، ہر اک اختیار، رتبے، قوت، طاقت کو استعمال میں لاتے ہوئے حق، سچائی اور انصاف اور بالخصوص عدل کو اپنی زات، رشتوں اور گردونواح میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔

کسی پہ بھی ہوا ظلم اس ظلم تک ایسے نہیں پہنچ گیا یہ قانون کی موت، معاشرتی پستی اور میں، میرا کا نتیجہ ہے جہاں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ غلط اسکی ماں، باپ، بھائ، بہن، بیٹی کر رہے ہیں ہم کیوں کر بولیں جب انسان کی زندگی میں ھدف ہوس پرستی، شکم پرستی، خواہشات و مفادات کا حصول رہ جاتے ہیں اور انسان اپنی زات کی قوت و طاقت پیسے، دولت، رتبے، اختیارات، ریاکاری میں سمجھتا ہے اور انسانی اصلی و خالص اقدار کو اپنی قوت سمجھنے سے گریزاں ہوتا ہے تو معاشرے بےموت مر جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

غلامی کی جس عظیم الشان حالت میں آج انسانی معاشرے ہیں اس بات کا اندازہ انہیں خود بھی نہیں ہے، کیونکہ آج معاشرے اس کھلے پنجرے کے قیدی ہیں جہاں پہ ہر شے دیکھنے میں انکی من پسند ہے،

پر ہر شے میں وہ زہر ہے جو اسکی قوت فیصلہ، قوت ارادہ، قوت فکر، قوت عمل، قوت اخلاص، قوت کردار کو نچوڑ کر ایک مٹی کے حیوان کو بے رنگ و بو کاغزی پھول کے جیسا بنا کر چھوڑ دیتی ہے ۔ ۔ ۔

سوچنا آج ہر فرد کو مقابلے بازی میں نہیں بلکہ حق ، انصاف اور عدل کے ترازو میں ہے جب انصاف اور عدل(چاہے گھر رشتے داروں، جابز میں، کام کی جگہوں یا کسی بھی مقام پہ عدل) نہیں ہوتا تو ظلم جنم لیتا ہے اور ظلم کی کوکھ سے پیدا ہونے والے رشتے، گھر، انسان، افراد اور معاشرے انکا شکار ہوئے لوگ اپنی انسانییت کو، اخلاقیات اور کردار کو اسی ظلم کا زہر پلادیتے ہیں اور جسکے نتیجے میں درست اور غلط کی سمجھ ختم ہوجاتی ہے ۔ ۔ ۔

جب عقل پہ ہوس، مفاد، لالچ، حرص، عیش پرستی چھا جاتے ہیں ھدف محض انجوائے منٹ، ہو توانسانیت زمین بوس ہوجاتی ہے اور حیوانیت کی بدترین تاریخ رقم ہوتی ہے ۔ ۔

جو پھر ہر رشتے، ہر ناطے، ہر اصول، ہر تربیت کو پیچھے چھوڑ کر دائمی عزاب نہ صرف اپنے لیے خرید لیتی ہے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس میں جلنے واسطے چھوڑ دیتی ہے ۔ ۔ ۔

سوچنا یر فرد معاشرہ کو ہے اپنی زات، گھر، گلی، محلے، گردونواح میں ہوتے کسی بھی طرح کے ظلم پہ کھڑے ہونا اور مظلوم کی حمایت اور ظالم کو عیاں کرنا بہت اہم اور ضروری ہے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY