لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ / پی ۔ ڈی ۔ ایم کا لانگ مارچ
تجزیہ کار : ۔ ظفر معین بلے جعفری
ملک میں مہنگاٸی کے طوفان کے ہاتھوں لاچار اور بےبس غریب طبقے نے پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ۔ اور اب غربت کی لکیر سے سے نیچے چالیس فیصد سے زاٸد شہریوں اور متوسط طبقوں میں یہ تاثر اور خیال عام پایا جاتا ہے کہ پیپلز ہارٹی اور پی ۔ ایم ۔ ایل۔ این کے قاٸدین پر کرپشن یا مالی بدعنوانی کے تمام تر الزامات بے بنیاد اور من گھڑت بلکہ بہتان ہیں کیونکہ اگر ان الزامات میں اگر صداقت ہوتی تو حکومت کےلیے ان سے لوٹی ہوٸی رقوم کی برآمدگی کوٸی بڑی بات نہیں تھی یہی نہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ ان سے بڑھ کر ملک کا کوٸی مخلص اور خیر خواہ کوٸی نہیں اور اب یہی نجات دہندہ ہوں گے اس مہنگاٸی اور نا انصافی کے نظام کے عذاب سے ۔
پی ۔ ڈی ۔ ایم کے لانگ مارچ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ سننے میں آرہا ہے کہ حکومت اس لانگ مارچ میں رکاوٹ ڈالنے یا بننے سے پرہیز کرے گی لیکن موٹر وے ، جی ٹی روڈ اور ریلوے ٹریکس پر آبزرویشن لگانے کے حوالے سے بھی غور جاری ہے۔ جبکہ پی ۔ ڈی ۔ ایم میں شامل سیاسی جماعتوں نے اپنے ورکرز کو تیار رہنے اور کمر کسنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ پنجاب سے چالیس لاکھ جبکہ سندھ سے
بیس پچیس لاکھ اور خیبر پختو خواہ سے پندرہ لاکھ اور بلوچستان سے بھی بھاری تعداد میں فرزندان توحید کی شرکت متوقع ہے ۔ یہ بھی امید کی جارہی ہے کہ ان لاکھوں فرزندان توحید کے لانگ مارچ کے دوران مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے جو نعرے ہوں گے ان میں ایک
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ
بھی (نعرے کے طور پر) استعمال کیے جانے پر غور جاری ہے
اسلامی ۔جمہوری ۔ فلاحی ۔ نظریاتی اور آزاد و خود مختار ریاست مدینہ میں سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
حالیہ لانگ مارچ میں ایک طرف حکومت کے محافظ ادارے پولیس کے نو اہلکار/افسران دوران ڈیوٹی شہید کر دیٸے گٸے اور تین سو سے زاٸد شدید زخمی ۔ اس سے ملک میں بےچینی اور اضطراب کی فضا قاٸم کرنے میں بہت مدد حاصل رہی ۔ دوسری طرف حالیہ لانگ مارچ میں تحریک لبیک پاکستان نے اپنی جماعت کے متعدد غلامان رسول ص کے شہید اور زخمی ہونے کا بھی دعوی کیا ہے تاہم ان کی لاشوں ۔ جنازوں اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں لاٸی جارہیں اس حوالے سے سیاسی ۔ سماجی ۔ مذہبی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں اور ٹیلی وژن اینکرز کا کہنا ہے کہ تحریک اور حکومت کے مابین حالیہ معاہدے کے نکات / شراٸط سامنے نہ لاکر معاملے کو حد درجہ مشکوک بنادیا ہے اور ممکن ہے تحریک کے کارکنان کے متاثرین اور شہدا ٕ کی تفصیلات خفیہ رکھنا بھی معاہدے کا حصہ ہو ۔ علامہ مفتی منیب الرحمن سمیت متعدد مذہبی جماعتوں کے راہنماٶں نے اس معاہدے کی شراٸط پر تیزی سے عمل درآمد کے پرسِس کو سراہا ہے۔ جبکہ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے معاملے پر فوری ایکشن لیا گیا اور کابینہ نے وزیراعلی پنجاب کی جانب سے موصول شدہ سمری پر اپنی کابینہ کا فیصلہ کردیا ۔
آج تحریک لبیک پاکستان جیسی سرگرم مذہبی اور سیاسی جماعت نے اپنا گزشتہ گیارہ روز سے جاری دھرنا بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ گویا کہ ان کو اپنے قاٸد کی باعزت رہاٸی کا مکمل یقین ہے تحریک کی فقیدالمثال فتح کے پیش نظر سپاہ صحابہ پاکستان نے مطالبہ پیش کردیا ہے کہ انہیں اور ان کی پر امن جماعت پر سے بھی کالعدم کا لیبل ہٹایا جاٸے دوسری جانب اس مطالبے کو بھی اہل سنت والجماعت نے سراہا اور اس کی حمایت کا اعلان بھی کرنے میں معمولی سی بھی تاخیر سے کام نہیں لیا۔ یہ ہے اس ایشیٸن ٹاٸیگر اور ریاست مدینہ میں اتحاد بین المسلمین کی بہترین بلکہ اعلی ترین مثال۔ توقع ظاہر کی جاتی ہے کہ یہ مطالبہ بھی جلد زیر غور آٸے گا۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ / پی ۔ ڈی ۔ ایم کا لانگ مارچتجزیہ کار : ۔ ظفر معین بلے جعفری













