افلاس اور احساس,ڈاکٹرنعمان طیب

1
1014

مفلسی ہنڑ در تے پہرے نہ ڈے !!
تھک چکے ہیں تیڈے احترامیں کنیں

احساس بھی کتنا اذیت ناک چیز ہے بہادر شاہ ظفر کا جب تخت و تاج چھن گیا تو اس نے بڑے کرب سے کہا کہ
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا میرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اور مجھے یاد ہے ایک بار والد گرامی نے راہ چلتے ایک غریب کے پھٹے پرانے کپڑے دیکھے تو فی البدیہ کہا تھا

امیریں سٹین غلیف قبریں تے !
غریب میڈے دے تھگڑے لیراں ہن

کتنا درد محسوس ہوتا ہے جب معاشرے میں کوئی لاچار دکھائی دیتا ہے، بے کسی اور بے بسی سے دم گھٹنے لگتا ہے۔ کیسے امرا خواہشات کی تکمیل میں زر کے بے حساب و بے دریغ استعمال سے غربا کی بنیادی ضروریات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ دولت اور مادیت کی اس دوڑ نے انسان کو اس قدر اندھا کردیا ہے کہ آس پاس میں بسنے والوں کی خبر بھی نہیں ہوتی اور ہم اپنی دھن میں محو اردگرد کے سبھی غموں سے خود کو الگ کئے رکھتے ہیں۔ اس لئے تو یار غار خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ مجھے پرانے کپڑے سے ہی کفن پہنا دیا جائے اور نئے لباس کا کوئی نہ کوئی مسکین ہی زیادہ حقدار ہے۔ مگر آج ہم اسلاف کی ان روایات کو بھول چکے ہیں اور پیسے کو یوں اڑاتے پھرتے ہیں کہ ہمیں اپنے قریب میں بسنے والوں کی ضروریات کا اندازہ تک نہیں ہوتا۔
ہم۔تو اس غمگسار نبی مہرباں کے امتی ہیں جن کا ہر لمحہ اپنی امت کی بہتری کیلئے وقف تھا۔
آج ضرورت ہے اس احساس کی جس کا درس ہمیں کونین کے تاجدار نے دیا، جس کا سبق صدیق اکبر رض کی حیات سے ملتا ہے، جس کا انصاف عمر فاروق رض کی عدالت سے چھلکتا ہے، جس کی فراوانیاں عثمان غنی رض کی سخاوت میں دیکھی جاسکتی ہیں اور جس کی شجاعت علی المرتضیٰ رض کی زیست میں جا بجا دکھائی دیتی ہے ۔ ہم تو وارث تھے اس سخاوت کے جو خدیجتہ الکبریٰ رض نے سکھائی مگر امت مسلمہ تو آج بہک گئی ہے خرافات میں۔
ہم تو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار تھے کہ جس نے یتیموں کو سہارا ، بے آسراوں کو آسرا، اور مسکینوں کو سکونت عطا کی تھی۔ ہم تو اس نبی کے ماننے والے تھے کہ جس نے ہمسایوں کے اس قدر حقوق بتائے کہ مبادا گماں گزرا کہ اب ہمسائے وراثت کے حقدار ٹھہرا دے جائیں مگر آج ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔
بقول والد گرامی
خزاں لا چنتی چمن دیووچ اے !
جیویں بہار کوں موت آگئی ہووے

آج ہم سارے درس بھول چکے ہیں ، سبھی سبق فراموش کر ڈالے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب ہم معاشرتی زوال کی اندوہناک گھاٹیوں میں کچھ یوں گھر چکے ہیں کہ ہر طرف ظلمت کے گہرے سائے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے کر لمحہ لمحہ قریہ قریہ دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔
میں ایک کرب مسلسل سے دوچار ہوں کہ میرے آس پاس کے بے بس لوگوں کی صدائے بازگشت مجھے اذیت دی رہی ہے ، میرے اندر خاموشی کا ایک طوفان ہے جو چیخ چیخ کر مجھے پاگل کردے گا۔
یہ جاگیرداری نظام، یہ سیاسی الجھنیں ، یہ بے انصافیاں، یہ غریب کا استحصال، یہ سبھی بکھیڑے ، یہ سارے نظام،
یہ کمیونزم ، یہ فاشزم ، یہ فنڈامینٹالزم، یہ سوشلزم کسی بھی نظام میں کہیں بھی انسانیت کی بقا دکھائی نہیں دے رہی ۔ جس نظام میں بقا ہے ، جس نظام میں غریب پروری اور انصاف ہے اس سے تو ہم منہ موڑ چکے ہیں ۔ لوگ آج لینن کو تو حوالہ سمجھتے ہیں ، مارکسزم کو تو نجات جانتے ہیں مگر کوئی بھی مسلمان اس اسلام ازم کی روح کی بات نہیں کرتا کہ جس میں مسلمانوں کا خلیفہ دوم اینٹ سرہانے رکھ کر عدل وانصاف کے معیار کا پیمانہ بن چکا تھا۔
دولت کی غیر مساوی تقسیم اور دولت کا چند ایک ہاتھوں میں مقید ہونا ہی سارے بگاڑ اور تخریب کا اصل سبب ہے۔
کسی کے کتے بھی اے سی پر سوتے ہیں اور کسی کو پنکھا بھی میسر نہیں ، کسی کے گھوڑے بھی ڈرائی فروٹس کھاتے ہیں اور کسی کے بچوں کا دودھ بھی پورا نہیں، کوئی تو یہاں بیس لاکھ کی گھڑی کلائی پر باندھتا ہے اور کسی کا بھوک سے ہر سیکنڈ عذاب میں گزرتا ہے، کسی کو آرام کے لئے کمخواب کا بستر مہیا ہے تو کوئی یہاں فٹ پاتھ پر جاڑے کی خنکیوں میں کرب سہتا ہے، کسے کے بچے تو آکسفورڈ میں پڑھتے ہیں اور کسی کے بچوں کو بھیک پر بھیج دیا جاتا ہے۔۔۔
کیا لکھوں؟ لفظ لفظ سلگ رہا ہے۔ مالک کائنات یا دل نہ دیا ہوتا یا افلاس کے مارے دکھائی نہ دیتے۔
واقعی شعور و آگہی ایک اذیت ہے اور احساس اس موت کا نام ہے جو پل پل مجھے میسر ہے۔
آئیے مل کر ایک نئے معاشرے کی بنیادیں رکھیں جہاں کوئی بھی بھوکا نہ سوئے، جہاں کوئی بھی فٹ پاتھ پر نیند نہ کرے ، جہان کوئی بھی ننگ وافلاس سے بہرہ ور نہ ہو۔

اللہ ۔۔۔
یہی ایک ہی تو نعمت انسان ساز تھی !
دل ہم کو مل گیا تو پھر خدائی کو کیا ملا

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY