عیدغریر
نئ ادا سے کھل اٹھے ہیں سنبل و ریحاں
نئ ترنگ سے صبح بہار أئ ہے
چمن میں شور عنادل وہ ہے کہ کیا کہنے
صبا جو عید کا سندیس لے کے أئ ہے
خوشا کہ أئ ہے اک بار پھر سے عید غدیر
اسی لیے تو مگن ہیں سبھی صغیر و کبیر
براۓ تہنیث اپنے بھی غیر بھی موجود
ہے جانشین نبی پدر شبر و شبیر
نوید پھر سے وہی منقبت زباں پر لا
علی کی بات سے ہی دل کو چین أتا ہے
خم غدیر کے نش شے میں مست ہوں ایسے
رکھوں جو پاؤں ادھر تو ادھر کو جاتا ہے
ہوۓ ہیں منصب مولاۓ کل پہ فائز. علی
بلندیوں کے لیے منتخب ہیں جائز علی
عقیدت گزار: زاہد حسین نوید













