قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں کمیٹی ارکان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی ایس ایل کی مفصل آڈٹ رپورٹس پیش نہ ہونے پر اعتراضات کیے ہیں اور ساتھ ہی قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکشن کے معیار پر سوالات اٹھا دیئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے قائمہ کمیٹی کو جلد پی ایس ایل کا آڈٹ کرانے کی یقین دھانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس ایل کے حوالے سے ضرور احتساب ہونا چاہیے۔ پی ایس ایل سے 5 ملین ڈالرز سے زائد کی آمدن متوقع ہے، امید ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کیخلاف مقدمہ پر اکتوبر تک فیصلہ ہوجائےگا ۔ عبد القہار خان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہونیوالے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سپر لیگ کے آڈٹ کرانے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ پی سی بی کی درخواست پر اجلاس کو ان کیمرہ کھا گیا ۔ نجم سیٹھی اور پی سی بی حکام نے پی ایس ایل کے آڈٹ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا تاہم کمیٹی ارکان نے کہا کہ جو دستاویز مانگی گئی

وہ کرکٹ بورڈ نے فراہم نہیں کی گئی اورجو دستاویز دی گئی وہ اس قابل نہیں کہ پڑھی جائے، اتنی بڑی آرگنائزیشن ہے لیکن صرف دو صفحات پیش کئے گئے۔ جس پر نجم سیٹھی نے کہاکہ تاخیر کی وجہ پی سی بی کے فنانشل حکام کو قرار دیتے ہوئے سپر لیگ کا آڈٹ جلد کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔ کمیٹی نے پی ایس ایل میں فرنچائز کیساتھ معاہدوں اور گیٹ منی کی تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ، اجلاس میں کمیٹی ارکان نے راولپنڈی، ملتان سمیت دیگر سینٹرز پر بھی پی ایس ایل کے میچز منعقد کرنے کی تجویز دیتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھا ئے اور کہاکہ انضمام الحق کے بھانجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر سلیکشن کمیٹی نے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا جبکہ فواد عالم اور وہاب ریاض کو کن وجوہات پر نظر انداز کیا گیا۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ میں سلیکشن میں مداخلت نہیں کرتا۔

You Might Also Like

SHARE

LEAVE A REPLY