تبلیغ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔۔۔ شمس جیلانی

0
514

گزشتہ ہفتے ہم نے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا کہ مسلمان عمل کرنے میں اتنی دیر کر دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام کر نے کا وقت گزر جاتا ہے اور وہ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں؟ اس پر ہم نے سورہ العصر کا حوالہ دیاتھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمارے لئیے ترجیحات پہلے ہی طے کردی تھیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے اسی میں ایک کام یہ بھی بتایا تھا کہ علم ضرور حاصل کریں لیکن اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں؟ جتنا سیکھتے جائیں اسکو اس کو فوراً عوام میں پھیلا دیں اس سلسلہ میں ایک مشہور حد یث بھی ہے کہ“ ایک دن حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ وہ فلاح پاگیا“ صحابہ کرام(رض) نے پوچھا کہ حضور ﷺ کون؟ فرمایا جس نے علم حاصل کیا اور راہ اللہ میں تقسیم کیا، اللہ نے جس کومال دیا اس نے اس کی راہ میں خرچ کیا اور جس کواللہ سبحانہ تعالیٰ قناعت عطا فرمائی“ ایک حدیثمیں یہ تعداد چار بھی ہے کہ“ جس کو اللہنے غیب سے روزی عطا فرما ئی“ اور یہ تو حضورﷺ نے متعدد جگہ فرمایا اس کاانتظار مت کروکہ جب عالم اور فاضل بن جاو توتبلیغ شروع کرو، یہ سبق آخری بھی وقت دہرا یا حجۃالوداع کے موقہ پر کہ“ جو یہاں سن رہے ہیں وہ آگے پہنچادیں اور جو ان کے بعد آئیں وہ اپنے بعد آنے کو پہنچا دیں؟ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ صحابہ کرام اور اولیائے کرام جو کہ حضور ﷺ عترت پر زیادہ تر مشتعمل تھے وہ تمام دنیا میں پھیل گئے؟ یہ ہی سبق اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ والعصر میں مومنین کو عطا فر مایا کہ جو سیکھتے جاؤ اتنے پر ہی عامل ہوجاؤ اور آگے بھی بڑھا تے جاو، کیونکہ کسی انسان کو اپنی زندگی کا پتہ نہیں ہوتا؟ تاکہ جب پروردگا کے سامنے پہنچو توکہہ سکو کہ میں توآپ کے حکم پر کام کر رہا تھا آپ نے مجھے واپس بلا لیا؟ ممکن ہے کہ وہ رحیم اور کریم! فرشتوں سے فرما دے کہ جو اس کا معمول ہے وہی قیامت تک کے لئیے اس کے کھاتے لکھتے رہو کیونکہ یہ اگروہاں رہتا تو یہ ہی کرتا؟ یہ بات میرے ذہن اس لیئے کہ اس کی اس کی مثال موجود ہے کہ جو لوگ یہاں رہتے ہوئے جیسے معمولات اپنے رکھیں گے جب وہ عمر ارذل کو پہنچ جا ئیں گے توفرشتے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے پوچھیں گے کہ اب اس میں وہ صلاحیتیں نہیں رہیں کہ اپنے معمو لات جاری رکھ سکے ہم کیا کریں؟ تو وہ جواب میں فرمادے گاجو یہ اب تک کرتا رہا ہے وہی اس کے کھاتے میں لکھتے رہو؟ دوسری طرف یہ بھی اسوہ حسنہ ﷺ سے ثابت ہے جن لوگوں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بشمول ِ حضور ﷺ جنت بشارت دیدی توبجا ئے اس کے وہ عبادت بند کردیتے؟اور زیادہ تندہی سے عبادت کرنے لگے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف ہوچکے ہیں تو آپ اتنی مشقت کیوں برداشت فرما رہے ہیں کہ پیروں پرورم آجاتاہے؟ تو جواب تھا“ کیاتم یہ چاہتی ہو کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں! “یہ مکالمہ ہمیں سبق دے رہا ہے کہ نیک عمل نبوت ﷺ عدم موجودگی میں کسی بشارت پر چھوڑ دینا بہتر نہیں ہے بلکہ اور زیادہ تندہی سےکام شروع کردینا بہتر ہے؟ جو حضور ﷺ کاطر یقہ تھا جو صحابہ کرام اور صحابی÷اتؓ کا طریقہ تھا۔ کیونکہ اب ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کبھی کبھی شیطان آکر بہکا دیتا ہے کہ اب تو تمہارے گناہ معاف ہو گئے ہیں اور وہ ایسا کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں کہ حدیث شریف میں ہے کہ ساری نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا؟اسی حدیث میں آگے چل کر ارشادِ گرامیﷺ ہے کہ کچھ لوگ ساری زندگی نیکیاں کرتے رہتے ہیں مگر ان سے آخری وقت میں ایسی کوئی غلطی ہوجاتی ہے کہ سب نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں اور اس کے بر عکس کچھ لوگ ساری عمر برائی میں گزار دیتے ہیں اور مرتے دم کوئی ایسا کام کر جاتے ہیں کے جنت کے حقدار ہوجا تے ہیں؟ہمارے یہاں رواج ہے کہ اچھے کام لوگ یہ کہہ کر روکد یتے ہیں کہ میاں یہ ملائیت نہیں چلے گی ساری دنیا تمہا ری دشمن ہو جا ئے گی؟ یاد رکھیں یہ سب شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے بہکاوے ہیں کیونکہ کسی کو جب تک کوئی برائی نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نہ چاہے اللہ تعالیٰ ان سب پر نگراں ہے جو اس کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ سورہ الحجر کی آیت 94 سے لیکر ۹۹ تک کا سبق بھی بھول جاتے ہیں انہیں وہاں جاکر ان کی تفسیر پڑھ لینا چا ہیئے۔ جس میں اس کی راہ میں کام کرنے والوں کو پتہ چل جا ئے گا اور تقویت حاصل ہوگی کہ کس کس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کو سزا ئیں دیں جو حضورﷺ کو ستاتے تھے؟ اور کچھ وہاں کے لئیے بھی اٹھا کے رکھی ہوئی ہیں؟ اس پر بھی کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو نبیوں سردارﷺ تھے؟ ان کا مقابلہ ہم کیسے کرسکتے ہیں؟ ایک محاورہ ہے کہ نہ کرنے والے کو سوبہانے ؟ کیونکہ راہ راست پر چلنے والوں کی حفاظت کا بیڑا اللہ سبحانہ تعالیٰ نےاٹھایا ہواہے ان کی حفاظت کی گارنٹی دی ہوئی ہے کہ“ میں انہیں دیکھ لونگا یہ میرے اوپر چھوڑدو جو آپ ﷺ پر ہنستے ہیں یاآپﷺ کے ساتھیوں پر ہنستے ہیں؟ اور یہ تاکیدی حکم بھی امت کو ہے کہ انکاﷺا اتباع میرا اتباع ہے

SHARE

LEAVE A REPLY