طارق بٹ ۔۔۔ خاک تبدیلی آئے گی

0
79

یقینا میری طرح آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ سابقہ دور لد چکا نیا دور، نئی حکومت وجود میں آ گئی ان لوگوں کی حکومت جنہوں نے 22 سال تبدیلی کے نعرے لگائے اور بالآخر کامیاب ٹھہرے۔ تبدیلی لانے میں نہیں بلکہ منزل مراد پانے میں ۔ جب سے عمران خان صاحب کی حکومت معرض وجود میں آئی ہے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سوائے تبدیلی کے اور کوئی موضوع ہی نہیں۔ نئی قیادت کو اقتدار سنبھالے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے کہ صحافیوں نے اپنے قلم نشتر اور زبانیں گز گز لمبی کر لی ہیں یہ نہیں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا یہ کیا ہو گیا ؟ ارے بابا ذرا چھری تلے دم لو ابھی تو وہ آ کے بیٹھے ہیں اور آپ نکالنے پہ تلے بیٹھے ہیں یہ بھی کوئی طریقہ ہے۔

چونکہ غلطی سے درویش بھی صحافی برادری سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ کھوجنے کی حس مابدولت میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اوپر سے سونے پہ سہاگہ ناچیز کے پاس ایک ڈرون کیمرہ بھی ہے جس سے میرے پڑھنے والے بہ خوبی آگاہ ہیں ۔ اپنے صحافی دوستوں کے بار بار اکسانے پر طویل عرصے سے اسٹور میں بند ڈرون کیمرے کو ڈبے میں سے نکالا جھاڑا پونچھا اور گھر کے چھت پر جا کر اسے فضا میں بلند کر دیا ۔ پہلا ہی منظر دیدنی تھا گزرے کل جو کوڑا نیم تاریکی میں سب سے چھپ چھپا کے میں نے اپنے پڑوسی کے گھر کے سامنے پھینکا تھا وہ آج میرے اپنے گھر کے سامنے پڑا تھا بلکہ اب تو اس میں تازہ گند کا اضافہ بھی ہو چکا تھا میری ہنسی نکل گئی ایسے موقع پر یا ہنسی آتی ہے یا پھر رونا اس کے علاوہ کیا ہی کیا جا سکتا ہے میری جوتی میرے اپنے ہی سر آ پڑی میرا استعمال کیا ہوا طریقہ مجھ ہی پر الٹ دیا گیا۔اپنا تو اپنا اب پڑوسی کا کوڑا بھی مجھے کہیں اور ٹھکانے لگانا پڑے گا ۔ بات کچھ یوں کھل کر سامنے آئی کہ نہ تو میری سوچ میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی میرے پڑوسی کی۔

ڈرون کیمرے کا رخ تھوڑا سا تبدیل کیا تو پاس پڑوس کی چھتوں پر بنی ہوئی پانی کی ٹینکیاں چھلکتی دکھائی دیں نعمت خداوندی کا جتنی بےدردی سے ضیاع ہم پاکستانی کرتے ہیں شائید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں یہ چلن ہو اس کے باوجود کہ پاک وطن پانی کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کی نشاندہی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بار بار کر رہا ہے مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہم اسی طرح اپنی بے ڈھنگی چال جاری رکھے ہوئے ہیں کسی بھی سروس اسٹیشن پر جا کے دیکھ لیں ہم اپنی ڈب کھڑبی گاڑیوں کو نئی نویلی دلہن کا روپ دینے کے لئے سینکڑوں لیٹر پانی بہائے چلے جاتے ہیں ایسا صرف ایک جگہ پر نہیں بلکہ پورے وطن عزیز میں یہی چلن جاری ہے نہ تو ہمیں کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی ہمیں خود احساس ہوتا ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک ایک بوند پانی کو ترسیں گی۔

میں جوں جوں ڈرون کیمرے کو ادھر سے ادھر گھماتا جا رہا تھا میرے چودہ طبق روشن ہوتے جا رہے تھے مجھے اپنے عزیز اہل وطن کی مستقل مزاجی پہ رشک آ رہا تھا سڑکوں پر رواں بے ہنگم ٹریفک دیکھ کر لگتا تھا کہ میں واقعی ہی پیارے پاکستان کا باسی ہوں باقی قوانین کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی میرے خون میں رچ بس گئی ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر گاڑی کو غلط طرف سے اوور ٹیک کروں جہاں تک ٹریفک سگنل کی بات ہے تو انہیں تو میں ٹریفک کی روانی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر توڑتے ہوئے گزر جاتا ہوں ۔ یہی حال نظم و ضبط اور قطار میں کھڑے ہونے کا ہے اسے تو میں سراسر اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہوں اس لئے باقی قطاروں کو تو رکھئے ایک طرف ائر پورٹ پر اپنا سامان اٹھاتے ہوئے میں کنوئر بیلٹ پر چڑھنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

میں کہلواتا تو طالب علم ہوں مگر علم کی طلب مجھ میں بہت کم ہے ہاں باقی سرگرمیوں میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہوں ۔ میں استاد ہوں اس لئے استادی دکھانے سے باز نہیں آتا بچوں سے گائے کے لئے چارہ ، دودھ ،گھی اور دیسی انڈے منگوانا کیا میرا حق نہیں اور بچے جو استاد کو والد کا درجہ دیتے ہیں کہ میری خدمت کرنا ان کا فرض نہیں ۔ میں سرکاری ملازم ہوں اور روزانہ مجھے کوسوں کا فاصلہ طے کر کے وطن کی خدمت کے لئے دفتر جانا پڑتا ہے اب اس میں اگر میں روزانہ دوچار گھنٹے لیٹ ہو جاتا ہوں اور اتنے ہی گھنٹے جلدی دفتر سے نکل آتا ہوں تو اس پر تنقید کرنے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے میں تو انتہائی اہم قومی فریضہ ادا کرنے کے لئے سرکار کے مدگار کے طور پر سرکاری ملازمت کر رہا ہوں ورنہ یہ ملازمت میرے شایان شان تو ہے نہیں ۔

ایسی ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ آپ قارئین بھی تو پیارے پاکستانی ہیں کوئی ہانگ کانگ میں تھوڑی رہتے ہیں کہ ان حالات سے واقف نہ ہوں آپ بھی تو میری طرح عمران خان کی حکومت سے جلد از جلد انقلابی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں اپنے معاملات اور اپنی ذات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی لائے بغیر۔ عمران سادگی کا درس دیتا ہے تو دیتا رہے کفائت شعاری کی تلقین کرتا ہے تو کرتا رہے ملک سے کرپشن کے خاتمے کا رونا روتا ہے تو روتا رہے کہ یہ سارے اس کے کرنے کے کام ہیں ۔ وہ اپنی خوں نہیں چھوڑتا تو ہم اپنی وضع کیوں بدلیں ۔ اب آپ خود ہی سوچیں ایسے میں کیا خاک تبدیلی آئے گی ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY