پاکستانی سسیلین مافیا کا راج۔آفتاب احمد

0
173

سسیلین مافیا کیا ہے نواز شریف خاندان کو کیوں اس سے جوڑا جا رہا ہے ۔ اٹلی کا سسلین مافیا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں خوف کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
سسلین مافیا کا آغاز اٹلی کے ایک جزیرے سسلی سے ہوا ۔جس کا کُل رقبہ 10 ہزار مربع فٹ ہے۔ ابتداء میں اس مافیا کے لوگ کسانوں اور جانوروں کو تحفظ فراہم کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اس مافیا نے پہلے تو جزیرے پر اپنی نہ نظر آنے والی حکمرانی قائم کی اور بعد میں اٹلی کے فیصلہ سازوں،سیاستدانوں، بیوروکریسی، وکلاء ، تاجروں اور قانون فافذ کرنیوالے افراد میں بھی اثر رسوخ حاصل کر کیا۔ سسلین مافیا کا دوسرا نام کوسا نوسٹرا تھا۔

یہ مافیا تقریباًایک سو خاندانوں کے باہمی مفادات پر پھیلا ہوا تھا۔ہر خاندان نے اپنے اثر رسوخ کا دائرہ متعین کیا ہوا تھا۔ اٹلی کے اس جزیرے کے مافیا نے اپنی فوج بھی بنا لی جو تحفظ کے نام پر من مانی کرتی اور کرائے کے قاتل بھی فراہم کرتی۔1970 تک سسلین مافیا نے پوری دنیا میں اپنے قدم جمائے اور دیکھتے ہے دیکھتے وہ نارکوٹکس ٹریفیکنگ، اپنی شرائط پر قرض لینے، قرض معاف کروانے، لڑکیوں کی اسمگلنگ کرنے، تعمیراتی اور گارمینٹس کمپنیوں میں لیبر یونین کی فنڈنگ کرنے، بیوروکریسی کو رشوت دے کر قانون میں ردوبدل کرنے جیسے کاموں میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسکی وارداتیں امریکہ اور کئی اور دوسرے ممالک تک پھیل گئی۔ یہ مافیا اٹلی حکومت کے بھی خلاف ہوگیا جو سیاستدان یا بیوروکریٹ اس مافیا کے خلاف بولتا یہ مافیا اسے قتل کرا دیتا۔ ان کے خلاف جو جج کیس سنتا اسے بھی مروا دیا جاتا اور گواہ بھی مار دئے جاتے۔ ثبوت ہونے کے باوجود کوئی ان کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتا تھا۔

توتو رینا کا دور اٹلی کی عوام اور حکومت کے لیے سب سے بدترین دور تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے حریفوں پر قابو پانے کے بعد توتو نے عوام میں اپنی دہشت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عوام اسے آج بھی بِیسٹ یا ’حیوان‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں توتو کے خلاف کیس کرنے والوں، سننے والوں اور گواہی دینے والوں کو سرِ عام قتل کرنا شروع کردیا گیا۔ مثال کے طور پر اٹلی حکومت نے آرمی جزل ’کارلو البرٹو دیلا‘ کو سسلین مافیا کو ختم کرنے کے لیے سِسلی بھجوایا، مافیا نے اسے کچھ ہی عرصے میں بیوی اور ڈرائیور سمیت 3 ستمبر 1982 کو قتل کردیا۔

اٹلی میں اس مافیا کو کنٹرول کرنے کیلئے 1980میں قانون سازی کی گئی ۔ مافیہ نے قانون بنانے والے سیاستدانوں کو بھی قتل کر دیا۔ 1986میں مافیا کے سرکردہ افراد کیخلاف ٹرائل کا آغاز ہوا۔ حکومت نے ٹرائل کورٹ کی حفاظت اور مجرموں کو عدات تک لانے اور لے جانے کے حفاظتی اقدامات پر نوے ملین ڈالر خرچ کئے ۔ مافیا کے 346لیڈروں کو سزا سنائی گئی۔ان تمام تر اقدامات کے باوجود یہ مافیا اب بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔

ریاست نے محسوس کیا کہ مافیا کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کرنی ہوگی۔ عوام کے دلوں میں سے مافیا سے متعلق ہمدردی نکالنی ہوگی۔ عوام کو یقین دلانا ہوگا کہ ریاست ماں اور مافیا ماں کی قاتل ہوتی ہے۔ ریاست نے عوام کے ساتھ مل کر مافیا کے خلاف سخت قوانین بنائے، اُن قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں سرِعام عبرت کا نشان بنایا اور اس کے ساتھ ہی سسلین مافیا کو عبرت کا نشان بنانے والا میکسی ٹرائل تاریخ کی کتابوں میں امر ہوگیا۔

میکسی ٹرائل نے ثابت کیا کہ اگر آپ کسی بھی قسم کے مافیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد حل شفاف اور غیرجانبدار مقدمہ ہے پھر وہ مافیا چاہے پاکستان میں پاناما کی شکل میں ہو یا اٹلی میں سِسلین مافیا کی شکل میں اس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ سِسلین مافیا کے عروج و زوال کی یہ کہانی ملک پاکستان کے حکمرانوں اور عوام پر یہ حقیقت بھی واضح کر گئی ہے کہ اگر آپ کے ملک میں مافیا مضبوط ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اسے ریاست کی مدد حاصل ہے

پانامہ کیس کا فیصلہ پاکستانی تاریخ کا سنہری باب ثابت ہوگا، جمہوری روایات اور ملکی خزانے والوں کو کٹہرے میں لانے کی جانب پہلا قدم ہے، پاکستان میں احتساب کا عمل اس فیصلے کے بعد مزید تیز ہوگا،

اقتدار اور وسائل پر قابض اقلیتی طبقہ اور ان کے تنخواہ دار لکھاری ایسا تاثر دیتے ہیں کہ ایسا ازل سے ہورہا ہے اور ابد تک ہوتا رہے گا۔ ان کے خریدے ہوئے ’’پروہتوں‘‘ کی دلیل ہے کہ کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہیں تو تمام انسان برابر کیسے ہوسکتے ہیں! ان کے محلات میں بیٹھ کر ضرب المثلیں گھڑنے والے ’’دانش وروں‘‘ کی منطق ہے کہ ’’سارا گاؤں بھی مر جائے مگر مراثی کا بیٹا گاؤں کا چوھدری نہیں بن سکتا

حرص اور ذاتی مفاد کے حربوں سے عام لوگوں کو مطیع اورانکی پیدائشی حریت پسندانہ سوچ کو کند کرنے کی پالیسی کو تسلسل سے جاری رکھ کر سمجھا جارہا ہے کہ سارا سماج موقع پرستی کی دلدل میں دھنس کر اپنی ذلت پر محض تماشائی کا کردار ہی ادا کرتا رہے گا۔

حکمرانوں اور انکے پالتونظریہ دانوں کا پختہ خیال ہے کہ انکے تمام تر جرائم، لوٹ مار، سامراجی غلامی اور بھیانک کردار کے باوجود سماج معمول کے مطابق چل رہا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا، لوگوں کی بند زبانوں کو دیکھ کر انکا گمان ہے کہ لوگوں کے حواس خمسہ معطل ہوچکے ہیں اور ان کو نہ تو کچھ دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی سنائی دے رہا ہے، حکمرانوں کا خیال ہے کہ لوگ شائد سوچنے کی اپنے جبلی طاقت سے محروم ہوچکے ہیں

پانچ سال تک انکی جمہوریت کا تسلسل سے چلتے رہنا بہت بڑا کارنامہ ہے ‘‘وہ سمجھتے ہیں کہ بے روزگاری سے ہلکان، بیماریوں سے بے حال، تعلیم سے محروم، دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے گرنے والی لاشوں کو اٹھانے والے شکستہ حال لوگوں سے بہترین انتقام انکی سرمایہ دارنہ جمہوریت ہے جس کی افیون کے نشے میں مبتلا ہوکر وہ سب رسوائیوں اور ذلتوں کو فراموش کردیں گے۔ پھراور لٹیروں کے گروہ پانچ پانچ سال بعد بدل بدل کر عوام کا خون چوستے رہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ مزدور بلدیہ ٹاؤن کی طرح کارخانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں جل جل کر مرتے رہیں گے اور یہ ان کی موت کو حادثہ کہہ کر معمول کا واقعہ قراردیتے رہیں گے۔

حکمرانوں کے خیال میں عوام کٹھ پتلیاں ہیں اور وہ انکے اشاروں پر ناچتی رہیں گی۔ وہ اپنے جلسوں میں لائے گئے اور اپنی محرومیاں دکھانے کے لئے آئے ہوئے بدحال غریبوں کو اپنا پرستار سمجھتے ہیں۔ حکمرانوں کے تمام دھڑوں کا خیال ہے کہ وہ بہت مقبول ہیں اور ہمیشہ کامرانیوں کے ہار انکے گلے میں پڑتے رہیں گے!اگر یہ سچ ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ سماج مردہ ہوچکا ہے۔

انسان چل پھر ضرور رہے ہیں مگر زندگی سے محروم ہیں۔ لوگوں نے اپنی محرومیوں سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ طبقاتی تقسیم ہی ازلی اور ابدی حقیقت ہے اور اسکا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ اب کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ سب کچھ جوں کا توں رہے گا۔ اکثریت کام کرتی رہے گی

بھوک کے مارے نحیف بدن لوگوں کو کبھی نیوکلئیر طاقت بننے کی خوشخبری دے کر گرمایا گیا تو کبھی ایشین ٹائیگر بنانے کی نویدیں دیں گئیں۔ کبھی احتساب اور کبھی انتخاب کی نعرہ بازی کی گئی۔ عام آدمی کو اصلاح پرستی اورجعلی انقلاب کی لفاظی کے ذریعے بھی بہکایا گیا ہے، قوم پرستی اور عوام دوستی کے چکموں کے تازیانے بھی اسی عوام پر لگائے گئے ہیں۔

پھر کوئی جعلی انقلاب، لانگ مارچ، دھرنا، الیکشن اور جمہوریت کا بدترین انتقام ان کا راستہ نہیں روک سکیں گے۔

وہ فطرت کی جدلیات اور محنت کش طبقے کی قوت محرکہ سے ناواقف ہیں۔ حکمرانوں کے خلاف محنت کش طبقے کی نفرت اور حقارت میں بتدریج اضافہ ایک دھماکہ کی شکل میں پھٹے گااور پھر غاصب اور ظالم قوتوں کوسوچنے کی مہلت بھی نہیں ملے گی۔ ایسا ہوکر رہے گا یہی
نوشتہ دیوار ہے۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY