اسلام اور حقوق العباد (30) شمس جیلانی

0
102

ہم گزشتہ قسط میں سچی شہادتوں کے بجائے پیشہ ور گواہوں ،اوراس کے نتیجہ میں ناانصافیوں تک پہونچے تھے، اب آگے بڑھتے ہیں۔ اسلا م نے سب سے زیادہ زور حقوق ا لعباد میں سے جس عمل ِصالح پردیا ہے وہ سائل کو کھانا کھلانا ہے، جس میں مسافر اور مہمان بھی آتا ہے اور مہمان کے لیے تو یہاں تک حکم ہے کہ اس کا میزبان پر حق ہے۔ اگر کوئی ادا نہ کرے تو اہلِ قریہ اسے ادا ئیگی پر مجبور کریں، چاہے وہ اپنے گھر میں ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ نصف صدی پہلے تک جب مسافر سفر میں ہوتا تھا۔ تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھاسوائے اس کے جو زادِراہ لیکر وہ گھر سے چلتا تھا۔ جبکہ بعض جگہ تو پانی بھی مفت نہیں ملتا تھا؟ اور کسی وجہ سے وہ زائع ہوجائے یا اسے زیادہ ٹھیرنا پڑجائے تو سوائے اس کے کہ وہ بھوک سے مرجا ئے اور کوئی صررت نہیں تھی یاپھر کسی کا مہمان بنے۔ مگر اب وہ مجبوریاں جدید رسل ورائل کی وجہ سے لاحق نہیں رہیں۔ نہ وہ رواجی مسافر ہیں نہ سفر میں ویسی صعوبتوں ہیں ، مگر احکام اپنی جگہ موجود ہیں ۔ قرآن میں کئی جگہ بھوکوں کو کھانا کھلاناحقوق اللہ کے رکن اول، صلاۃ (نماز)کے ساتھ آیا ہے۔ جس کو مسلمان تقریباً بھلا چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے۔اب ہوٹلوں کا دور ہے۔ کھانا کھلانے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔ پہلے تو یہ ہو تا تھا کہ لوگ ٹھیرتے ہی مساجد میں تھے اور ہر کوئی کسی اجنبی کو دیکھ کر یہ ضرور معلوم کر تا تھا کہ مسافر تو نہیں ہو، کھانا کھایا یا نہیں ۔ اور اس سے یہ بھی پوچھتا تھا۔ کہ کون ہو کہاں سے اور کہاں جا رہے ہو۔
مگر اب دیہاتوں میں بھی مساجد میں ٹھہرنے کا رواج نہیں رہا۔ جبکہ شہر کی مساجد تو کھلتی ہی نماز کے وقت ہیں اور اس کے بعد بند ہو جاتی ہیں۔ کیوں ؟ اس کیوں کا جواب بڑا درد ناک ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں پہلی تو یہ ہے کہ قوم کا اخلاقی معیار اتنا گر گیا ہے۔ کہ چور مسجد کو بھی نہیں بخشتے اور وہاں کی بھی قیمتی چیزیں اڑا لے جاتے ہیں جو پہلے زمانے میں مساجد میں نہیں ہوتی تھیں۔ دوسری وجہ شدت پسندی ہے ۔ کہ پہلے کی طرح جو بھی آتا تھا وہ قیام کر تا تھا۔ جب کہیں پکڑا جاتا تھا توانتظامیہ سے پولس پوچھ گچھ کرتی تھی۔ لہذا سب کو عافیت اسی میں نظر آئی کہ مسجد یں ہی بند کردی جا ئیں ۔لہذا کھانا کھانے والے بھی نہیں رہے اور جو کہیں اتفاق سے آپ کو ملیں گے۔ وہ پیشہ ور ہونگے جن کو کہ لوگ ڈھونڈ، ڈھونڈ کر مستحق سمجھ کر کھانا کھلانے کے لیے لیکر آتے ہیں۔ اس میں بعض اوقا ت عجیب ، عجیب لطیفے جنم لیتے ہیں۔ مثلاً کھانے والے پوچھتے ہیں کہ کھانے میں ہے کیا ، کیا ؟ اور جس کے یہاں بہتر کھانا ہو، اس کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اصل ضرورتمند ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا کہ آپ اس سنت کو زندہ کر سکیں، جو کہ تقریباً سب انبیا ئے(ع) عظام کی سنت تھی اور اس میں سب سے زیادہ حضور (ص) سرگرم تھے۔ اس سے کہیں بہتر یہ ہے کہ اس سنت کو پورا کرنے کے لیے ان لوگوں کو تلاش کریں جو اجنبی ہیں اوریہاں آکر شروع میں پریشان رہتے ہیں، خاص طور سے نو جوان؟ اگر کوئی اجنبی دیکھیں تواس کی چپ چاپ مدد کر دیں ۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت یہاں نہیں ہے۔ مگر اس میں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ،اس کی وجہ بھی وہی ہے جو ہم نے پہلے بتائی۔ یہاں کے شہروں میں جو کہ زیادہ تر فلاحی ریاستیں میں واقع ہیں، آپ کو لوگ بھیک مانگتے بھی ملیں گے۔ مگر وہ عمو ماً مستحق نہیں ہو تے؟ یہ وہ ہو تے ہیں جو کہ زیادہ تر حکومت سے بھی لیتے ہیں اور فوڈ بینکوں سے بھی لیتے ہیں اور مساجد کے دروازوں پر بورڈ ہاتھ میں اٹھا ئے بھی کھڑے ملں گے؟ جب ان سے کہو کہ چلو مسجد کی انتظا میہ کے پاس ،تاکہ مستقل بندو بست کرادیں تو کبھی نہیں جا ئیں گے۔ اور بھاگنے کی کوشش کر یں گے۔ کیونکہ جب وہ آئی ڈی (شناختی کاغذات) مانگیں گے۔ توان کا راز فاش ہو کر بات بہت دور تک پہونچ جائے گی۔ یہاں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں اپنی کا رکردگی دکھانے اورفوٹو پریس میں چھپوانے کے لیےانسانی ہمدردی کا دورہ پڑتا ہے۔ تو وہ ان علاقوں میں کھانے کے پیکٹ ا ٹھا کر چلے جا تے ہیں، جہاں چرسی اور دوسرے نشئی پڑے رہتے ہیں ۔اور وہاں جا کر اپنا شوق پورا کرلیتے ہیں ۔ مجھے سوائے اس کے اس مد میں خرچ کرنے کا راستہ کہیں نہیں دکھا؟ اس سے یہ کہں بہتر ہے کہ آپ کے اپنے رشتہ داروں میں یا جان پہچان والوں میں اپنے سابق وطن میں ان لوگوں کے کھانے کا سال چھ مہنے کا بندوبست خاموشی کردیں تو دہرے بلکہ تہرے ثواب کے مستحق ہو سکتے ہیں ، ایک خیرات کا اور دوسرا صلہ رحمی (قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا) تیسرا متروک سنت کو زندہ کرنے کا، کیونکہ سائلوں میں وہ بھی آتے ہیں جن کی تنخواہوں میں ان کے جائز خرچے پورے نہیں ہوتے۔ اس کے سوا اور کوئی بہتر صورت اس سنت پر عمل کر نے کی نہیں ہے ۔چونکہ یہ سنت تقیریباً اپنا جائز مصرف کھو بیٹھی ہے لہذا تیسرے ثواب کا بھی دینے والا مستحق ہو گا وہ متروک سنت کو زندہ کرنے کا ثواب ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سب کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما ئے(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY