عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالبِ علم مشال خان کے قتل کیس میں مرکزی ملزم عارف مردانوی نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں صحت جرم سے انکار کردیا۔

مسلم آباد یونین کونسل کے تحصیل کونسلر عارف کو 11 ماہ کی روپوشی کے بعد پولیس نے مردان کے علاقے چمتار سے گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے گرفتار کونسلر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا لیکن عدالت کے جج کی چھٹی ہونے پر ملزم کو سیشن کورٹ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

12 مارچ کو دوبارہ انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے فاضل عدالت کے سامنے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

یاد رہے کہ مشال قتل کیس میں اب صرف دو ملزمان صابر مایار اور اسد علی کاٹلنگ کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

عارف مردانوی کے حوالے سے ڈی آئی جی مردان ریجن عالم خان شینواری کا کہنا تھا کہ ملزم عارف مردانوی وقوع کے دوسرے روز راولپنڈی فرار ہوا جہاں سے وہ پہلے بلوچستان منتقل ہوا پھر بلوچستان سے ایران کے راستے ہوتا ہوا ترکی فرار ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY