عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں
کربلائی حوالہ کی شاعری کا موضوع سامنے آئے تو میر ببر علی انیس کا نام سر فہرست نظر آتا ہے۔ہر زبان کے ادب نے کربلا کے موضوع سے فکری روشنی حاصل کی ہے۔ کربلا محض ایک حدیثِ غم ہی نہیں بلکہ اسرارِ حیات و کائنات کی معرفت سے بھر پور ایک بے مثال اخلاقی و تربیتی مخزن بھی ہے۔ یوں تو اردو ادب کی تمام تخلیقی اصناف کربلا کے ادراک سے لبریز نظر آتی ہیں لیکن اردو شاعری کی تاریخ اس موضوع کے بغیر اپنی شناخت ہی مکمل نہیں کر پاتی۔ اردو شعر و ادب کربلا سے صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ مضمونِ کربلا نے اردو شاعری کو کئی گرانقدر اصناف سے آراستہ بھی کیا ہے۔ تاریخِ ادب کے جائزہ سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سلام، مرثیہ ، نوحہ اور منقبت جیسی اصناف کی تجسیم و تخلیق کربلا کے بغیر نا ممکن تھی۔
جدید تنقیدی بصیرت کی رُو سے مرثیہ گوئی کو فن شاعری کا سب سے حساس اور کٹھن عمل قرار دیا گیا ہے۔ باریک بین افراد جانتے ہیں کہ کئی اصنافِ سخن پر فنی گرفت رکھے بغیر ایک فکر انگیز اور جاندار مرثیہ نہیں کہا جا سکتا۔ شعر پر فنی گرفت کے ہمراہ جتنی فصاحتِ کلام، بلاغت ، حسّاسیت اور علمی وفکری مواد پر دسترس کی ایک کامیاب مرثیہ نگارکو ضرورت ہوتی ہے اتنی سعی ٔ نقد کسی اور صنفِ سخن میں مطلوب نہیں ہوتی۔
میر انیس نے تشبیہات اور استعارات کے نہایت دلکش نقش و نگار بنائے ہیں اور عجب خوشنما رنگ بھرے ہیں ۔
تشبیہ کی خوبیاں جس قدر میرانیس کے کلام میں پائی جاتی ہیں اُردو زبان میں اور کہیں نہیں مل سکتی ۔ مثلاً جب حضرت عباس پر چاروں طرف سے پرچھیاں چلنے لگیں تو یہ حالت اس طرح ظاہر کی۔
یوں برچھیاں تھیں چاروں طرف اس جناب کے
جیسے کرن نکلتی ہے گرد آفتا ب کے
میرانیس کے ہاں مرثیوں میں قصیدے کی شان و شوکت، غزل کا تغزل ، مثنوی کا تسلسل ، واقعہ اور منظر نگاری اور رباعی کی بلاغت سب کچھ موجود ہے۔
انیس کے مرثیے رزمیہ شاعری کے شہ کار ہیں۔ مناظر ِ قدرت کے بیان انسانی جذبات کی مصوری اور رزم آرائی میں انہوں نے حیرت انگیز واقفیت کا ثبوت دیا ہے۔ فنی مہارت بلند تخیل اور مضمون آفرینی کی اس سے بہتر مثال کہیں اور نہیں ملتی ۔ انیس کے مرثیوں میں مبالغہ بھی ہے اور تکلف و تصنع بھی۔ لیکن ایک تو ان چیزوں میں اعتدال ہے دوسرے ان کی شعری خوبیوں نے ان سب پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ یہ چیزیں عیب کی جگہ حسن بن گئیں ہیں۔
انیس کی شاعری جذباتِ حقیقی کا آئینہ تھی اور جس نیچرل شاعری کا آغاز حالی اور آزاد کے زمانے سے ہوا، اس کی داغ بیل انیس نے ڈالی تھی انیس نے مرثیہ کو ایک کامل حربہ کی صورت میں چھوڑا جس کا استعمال حالی نے نہایت کامیابی سے کیا۔
انیس کی شاعری جذباتِ حقیقی کا آئینہ تھی اور جس نیچرل شاعری کا آغاز حالی اور آزاد کے زمانے سے ہوا، اس کی داغ بیل انیس نے ڈالی تھی انیس نے مرثیہ کو ایک کامل حربہ کی صورت میں چھوڑا
انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لیکے کہاں سامنے ہوا کے چل
میر انیس 1803ء میں محلہ گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا میر حسن اور پردادا امیر ضاحک قادر الکلام شاعر تھے۔ یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی تھی۔ انیس نے ابتدائی تعلیم میر نجف علی فیض آبادی اور مولوی حیدر علی لکھنوی سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے شاعری سے شغف تھا۔ پہلے حزیں تخلص کرتے تھے پھر ناسخ کے مشورے سے بدل کر انیس رکھ لیا۔
میر انیس ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر والد کی نصیحت پر صرف سلام اور مرثیہ کہنے لگے اور پھر ایسے منہمک ہوئے کہ کبھی غزل کہنے پر توجہ ہی نہیں دی۔
والد کی فرمانبرداری میں غزل کو ایسا چھوڑا کہ بس غزل کو سلام کر دیا۔مرثیہ کی میراث انیس کو اجداد سے منتقل ہوئی تھی مگر ان کی طبعِ رواں ذاتی لیاقت کربلا سے ایمانی وابستگی اور شاہانِ اودھ کے عہد حکومت میں لکھنو کے اندرعزاداری کے لیے مثالی ماحول کی دستیابی نے انیس کو مرثیہ نویسی اور مرثیہ خوانی کے فن میں طاقِ روزگار بنا دیا اور کچھ ہی عرصہ میں انیس نے سلاستِ زبان ، ادائیگی اور حسنِ بیان میں اپنے عہد کے راسخ البیان مرثیہ گو استادجناب میرزا سلامت علی دبیر اور دیگر اساتذہ ٔفن کو بھی مقبولیت میں قدرے پیچھے چھوڑ دیا۔ انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جاگتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔ان کے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کا ذخیرہ موجود تھا۔ نمازِ صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کرتے تھے۔ بعدِ دوپہربیٹوں اور شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرتے تھے۔ محفلِ احباب میں عقائد اور علوم وعرفانیات پر گفتگو کرتے تھے۔
میر ببر علی انیس کو دشت کربلا کا عظیم ترین سیّاح قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے مرثیوں کی تعدا د بارہ سوکے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔”مجلّہ نقوش انیس نمبر” میں بہ تحقیقِ عمیق میر انیس کے ۲۶ نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی طبع کئے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ان کے کئی مرثیے ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں مختلف بیا ضوں کے اندر موجود ہیں۔ میر انیس نے روایتی مرثیہ کے علاوہ سلام، قصائد، نوحہ اور رباعیات کا بھی کثیر ذخیرہ چھوڑا ہے۔
گھوڑے کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھات پہ باندھے ہوئے قطار
پیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار
سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکائو بار بار
پانی کا دام و در کو پلانا ثواب تھا
اک ابن فاطمہ کے لئے قحط ِ آب تھا
رباعیاتِ انیس کی تعداد محققین کے مطابق چھ سو کے برابر ہے۔ میر انیس کے کئی مراثی میں معجزاتی کرشمہ کاری کا عنصر ملتا ہے۔آپ کے ایک نواسے میر عارف کی تحریری یادداشت سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے اواخر میں میر انیس نے ایک سو ستاون بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ شاہکار مرثیہ ” جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” ایک ہی شب میں لکھا اوراپنے خاندان کے عشرۂ مجالس میں پڑھا۔ انیس نے حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام کے بے نُقط خُطبہ کی تآسی میں کچھ ایسے مرثیے بھی لکھے جو بے نُقط تھے۔میر انیس کے تین فرزندان تھے میر نفیس، میر جلیس اور میر سلیس اور یہ تینوں منجھے ہوے شاعر و مرثیہ نگار تھے۔ والد کے بعد میر نفیس کا مرثیہ اعلٰی پائے کی مرثیہ نگاری میں شمار ہوا ہے۔
منبر پہ مرثیہ تحت اللفظ پڑھنے میں بھی میر انیس کی مثل کوئی دوسرا نہ بن سکا۔
میر ببر علی انیس نے 29 شوال 1291ھ مطابق 10 دسمبر 1874ء کو لکھنؤ میں انتقال کیا اور اپنے مکان میں ہی دفن ہوئے۔ 1963ء میں ان کے مزار پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کروایا گیا۔
آج اردو زبان کے محسن شاعر خدائے سخں میر ببرعلی انیس کی تاریخ وفات ہے، انہوں نے صنفِ مرثیہ میں طبع آزمائی کی اور ان کی رزمیہ شاعری کے سبب اردو کا شمار دنیا کی اعلیٰ ترین زبانوں میں ہونے لگا۔
میر انیس 1803ء میں محلہ گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا میر حسن اور پردادا امیر ضاحک قادر الکلام شاعر تھے۔ یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی تھی۔ انیس نے ابتدائی تعلیم میر نجف علی فیض آبادی اور مولوی حیدر علی لکھنوی سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے شاعری سے شغف تھا۔ پہلے حزیں تخلص کرتے تھے پھر ناسخ کے مشورے سے بدل کر انیس رکھ لیا۔
مرثیے اِک دن میں کیا سب کہہ کے اُٹھو گے انیس
ہاتھ سے کیوں آج قرطاس و قلم رکھتے نہیں
کہتے تھے اعدا کہ بچے بھی علی کے شیر ہیں
جب بڑھاتے ہیں تو پھر پیچھے قدم رکھتے نہیں
میرانیس اُردو کے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے زمین سخن کو آسمان کردیا ہے۔ جس طرح سودا قصیدہ گوئی میں میر غزل گوئی میں اور میر حسن مثنوی نگاری میں بے مثل ہیں اسی طرح میر انیس مرثیہ نگاری میں یکتا ہیں ۔ اوّل تو میر انیس نے اپنی مرثےوں میں بہت سے نئے موضوعات کو شامل کیا ہے۔ اور اس طرح اس کے دامن کو وسیع کر دیا ہے۔ دوسرا انہوں نے شاعری کو مذہب سے وابستہ کرکے اس کو ارفع و اعلیٰ بنا دیا ہے۔ اس طرح اردو شاعری مادیت کے سنگ ریزوں سے نکل کر روحانیت کے ستاروں میں محو خرام ہو گئی ہے۔
ابتدا میں غزلیں کہنا شروع کیں مگر پھر والد کی ہدایت پر اس صنف سخن کو سلام کیا۔ مرثیہ گوئی کی جانب راغب ہوئے اور اس صنف سخن کو معراج تک پہنچا دیا۔
شروع شروع میں میر انیس مرثیہ پڑھنے کے لیے ہر سال لکھنؤ آتے رہے۔ مگر 45 برس میں جنگ آزادی کی تباہی کے بعد وہ لکھنؤ چھوڑ کر کچھ عرصہ کاکوری میں مقیم رہے۔ پھر امن و امان کے بعد لکھنؤ واپس تشریف لائے اور محلہ سبزی منڈی میں رہائش اختیار کی۔
انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لیکے کہاں سامنے ہوا کے چلے
میر ببر علی انیس نے 29 شوال 1291ھ مطابق 10 دسمبر 1874ء کو لکھنؤ میں انتقال کیا اور اپنے مکان میں ہی دفن ہوئے۔ 1963ء میں ان کے مزار پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کروایا گیا۔
آسماں بے ماہِ کامل، سدرہ بے روح الامین
طورِ سینا بے کلیم اللہ، منبر بے انیس
میر انیس نے اردو میں نہ صرف رزمیہ شاعری کی کمی کو پورا کیا بلکہ اس میں انسانی جذبات اور ڈرامائی تاثر کے عناصر کا اضافہ کرکے اردو مرثیہ کو دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری کی صف میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے منظر نگاری، کردار نگاری، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے۔ انیس نے مرثیہ کی صنف کو آسماں تک پہنچا دیا یہاں تک کہ مرثیہ اور انیس مترادف الفاظ بن گئے۔
جنابِ انیس کے رقم کردہ مرثیے اب تک کروڑوں آنکھوں، زبانوں اور سماعتوں کو اپنے ملکوتی خصائل کا گواہ بنا چکے ہیں ۔ انیس کے کہے ہوئے مرثیوں میں آیات و روایات ، تاریخ، تخیئل، ماحول، سراپا، رَجَز، مبارزت طلبی، مظلومیت، آہ و بکا، مکالمات، اعداد و شمار، منطق و فلسفہ، علومِ جہانی اور اصول و عقائد کے مفاہیم کی ایسی متوازن آمیزش ملتی ہے کہ انیس کے علم و فضل کی وسعتیں بیکراں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ انیس نے دبیر کے مقابلہ میں سلیس زبان استعمال کی۔ اس کے باوجود اردو ادب کے محققین کے مطابق طولِ تاریخ میں تراکیب و فرہنگ کا سب سے عظیم ذخیرۂ الفاظ میر انیس کے کلام میں ملتا ہے۔
اس خاندان میں شاعری کئی پشتوں سے چلی آتی تھی۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ میر امامی شاہ جہان کے عہد میں ایران سے ہند میں آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بنا پر اعلیٰ منصب پر متمکن تھے۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولاد فصیح اردو زبان بولنے لگی۔ میر انیس کے پردادا اور میر حسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اردو کے صاحبِ دیوان اور غزل گوشاعر تھے۔ گویا میر انیس کے گھر انے کی اردو شاعری کامعیار تین نسلوں سے متقاضی تھا کہ وہاں میر انیس جیسا صاحب سخن پروان چڑھے اور تا قیامت اہلِ ادب اُسے خدائے سخن کے نام سے پکارتے رہیں۔
میر انیس نے مرثیہ گوئی کے ساتھ مرثیہ خوانی کو بھی ایک فن بنا دیا۔
رواں صدی کے مرثیہ نگار شاعرجوش ملیح آبادی نے میر انیس کے لیے کہا
اے دیار لفظ و معنی کے رئیس ابن رئیس
اے امین کربلا، باطل فگار و حق نویس
ناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیس
عظمت آل محمد کے مورخ اے انیس
تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے
تو مری اردو زباں کا بولتا قرآن ہے
تحریر ۔۔۔آفتاب احمد












