اٹھارہ مارچ 1929لاس اینجلس میں پہلے آسکر ایوارڈزکا اعلان

0
64

اکیڈمی اف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کا قیام 1927 میں عمل میں آیا۔ موشن پکچر یا فلم کی تیاری کے تمام مراحل کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اعزاز عطا کرنے کے طریق کار وضع کرنا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ لاس انجیلس کے بالٹی مور ہوٹل کے کرسٹل بال میں منعقدہ ایک ڈنر اجلاس میں طے پایا کہ یہ ایوارڈ سالانہ دیا جائے۔ ایم جی ایم (میٹرو گولڈوین میر) مووی سٹوڈیو کے آرٹ ڈائریکٹر سڈریک گبونس نے اس اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کا ڈیزائن تیار کیا۔ اس کی شکل ایک چھوٹے مجسمے جیسی تھی۔ ایک نائٹ یعنی سورما صلیبی دور کی تلوار ہاتھ میں لیے فلم کی ریل پر کھڑا تھا۔ لاس انجیلس ہی کے ایک مجسمہ ساز جارج اسٹینلے نے اس ڈیزائن کو عملی شکل دے دی۔

اکیڈمی ایوارڈ (آسکر ایوارڈ) کی پہلی تقریب ہالی ووڈ روزویلٹ ہوٹل لاس انجیلس میں 1929 میں منعقد ہوئی۔ یہ ایک پرائیویٹ ڈنر تھا جس میں صرف 270 افراد شریک تھے اور داخلہ ٹکٹ کی قیمت صرف پانچ ڈالر تھی۔ صرف پندرہ منٹ جاری رہنے والی اس تقریب میں بارہ اقسام کے ایوارڈ دیئے گئے۔ سب سے زیادہ ایوارڈ تین فلموں ساتویں بہشت، صبح سویرے، اور دو انسانوں کا ایک گیت کو ملے۔ ایوارڈز کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ بہترین فلم ونگز، بہترین کہانی انڈر ورلڈ، بہترین سکرین پلے (ساتویں بہشت)، بہترین پروڈکشن ڈیزائن ولیم کیمرون، بہترین ڈائریکٹر فرینک بورزاگ (ساتویں بہشت)، بہترین اداکار عمل جنننگس (دی لاسٹ کمانڈ)، اور بہترین اداکارہ گنٹ گینار۔ چارلی چپلن اور وارنر برادرز کو اعزازی اکیڈمی ایوارڈ ملے۔

اس اکیڈمی ایوارڈ کا نام آسکر کیسے پڑا؟ اس بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ لیکن سب سے مصدقہ کہانی یہ ہے کہ اکیڈمی کی لائبریرین مارگریٹ نے پہلی دفعہ ایوارڈ کی ٹرافی دیکھی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، \”اس کی شکل تو میرے چچا آسکر سے ملتی جلتی ہے۔ \” اس دن سے لوگوں نے اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کو آسکر کہنا شروع کر دیا۔ اکیڈمی نے بھی یہ عرفی نام 1939 میں اپنا لیا

SHARE

LEAVE A REPLY