ریپبلکنز کی حمایت کم ہونے کے باوجود ٹرمپ پر عزم

0
194

ٹرمپ اور ہلری کلنٹن اتوار کو ہونے والے دوسرے مباحثے میں شرکت کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ان تین مباحثوں میں سے دوسرا ہے جو ان دونوں کے درمیان انتخابی مہم کے آخری ہفتوں کے دوران طے ہیں۔
ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا ہے خواتین کے بارے میں 2005 کی ان کی ایک وڈیو سامنے آنے کے بعد میڈیا اور ” اسٹبلشمنٹ ” ان کو اس صدارتی انتخاب میں امیدوار کے طور پر ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ ” کبھی بھی (صدارتی) دوڑ سے باہر نہیں ہوں گے”۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے فیس بک صفحے پر جاری ایک وڈیو بیان میں کہا تھا کہ “میں یہ کہہ چکا ہوں۔ میں غلط تھا اور میں معذرت خواہ ہوں۔”

ٹرمپ نے کہا کہ جس ریکارڈنگ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے وہ نومبر کے امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے (منظر عام پر لانا) “توجہ ہٹانے سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے”۔

انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اب وہ اپنی حریف ڈیموکریٹک امیدوار ہلری کلنٹن کے خلاف توجہ مرکوز کریں گے اور ان کا موقف یہ ہو گا کہ ان کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن عورتوں کی خلاف اس سے “بدتر افعال” کے مرتکب ہوئے۔

ٹرمپ نے اپنے وڈیو بیان میں کہا کہ “دوسرے لوگوں کے قول اور فعل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ بل کلنٹں نے حقیقت میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کی اور ہلری نے ان کا نشانے بننے والیوں کو ڈرایا، دھمکایا، (ان پر) حملہ کیا اور انہیں شرمندگی سے دوچار کیا۔”

ٹرمپ اور ہلری کلنٹن اتوار کو ہونے والے دوسرے مباحثے میں شرکت کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ان تین مباحثوں میں سے دوسرا ہے جو ان دونوں کے درمیان انتخابی مہم کے آخری ہفتوں کے دوران طے ہیں۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے سنٹر آف پالیٹکس سے منسلک جیفری سکیلی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ مباحثہ ٹرمپ کے لیے ایکا یسا موقع فراہم کرے گا کہ وہ عوامی سطح پر سب کے سامنے مکمل طور پر اس پر معذرت کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ کے اہلیہ میلانیا نے بھی کہا ہے کہ وڈیو میں سامنے آنے والے ٹرمپ کے الفاظ “نا قابل قبول اور نازیبا ہیں”۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ووٹر ان کی معذرت کو قبول کر لیں گے۔ میلانیا ٹرمپ کی تیسری اہلیہ ہیں اور انہوں نے 2005 میں ان ساتھ شادی کی تھی۔

میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ “یہ اس شخص کی عکاسی نہیں کرتی ہے جس کو میں جانتی ہوں۔ وہ ایک راہنما کا حوصلہ اور شعور رکھتے ہیں ۔”

سیاسی اور سماجی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جمعہ کو جاری ہونے والی وڈیو کے بعد اس پر بحث امریکہ میں سیاسی صورت حال پر چھائی ہوئی ہے اور یہ 8 نومبر کے انتخاب میں ٹرمپ کے (صدر منتخب ہونے کے) امکانات پر منفی طور پر اثر انداز ہو گی۔

دوسری طرف رواں سال کے صدراتی انتخاب کی مہم کے دوران سامنے آنے والے رائے عامہ کی جائزوں کے مطابق ٹرمپ خواتین میں اور خاص طور پر پڑھی لکھی خواتین میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔

ٹرمپ کی وڈیو کے بعد کئی ایک خواتین اس بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں جکبہ ان کی اپنی ریپبلکن جماعت کے کئی ایک راہنماؤں کی طرف سے بھی ان پر تنقید کی جارہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے اور ان میں سے کئی ایک کا کہنا ہے کہ وہ ہلری کو بھی ووٹ نہیں دیں گے۔

اس کی وجہ سے کئی ممتاز ریپبلکنز کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے کہ وہ اس امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے جو صدر منتخب ہو سکتا ہے دوسری صورت میں وہ ایک تیسرے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں جس کے صدر منتخب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY