دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بابر اعظم پاکستان کی جانب سے ون ڈے میں تیسرے اور ٹی 20 میں اوپننگ کرتے ہیں لیکن آئر لینڈ اور انگلینڈ میں انہیں چوتھے یا پانچویں نمبر پر کھلانے کی تجویز ہے۔ سب سے اہم اور مشکل ترین پوزیشن ون ڈائون پر بائیں ہاتھ کے حارث سہیل کھیلیں گے۔ حیران کن طور پر جارح مزاج اوپنر فخر زمان کو بھی مڈل آرڈر میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر آزمایا جائے گا۔ انہیں ذمے داری دی جائے گی کہ وہ اٹیک کریں۔ پاکستانی ٹیم انتظامیہ نے لاہور میں تربیتی کیمپ کے دوران جو حکمت عملی بنائی ہے اس کے مطابق انگلینڈ میں ابتدائی دومیچوں میں بیٹنگ کی مختلف کمبی نیشن چیک کئے جائیں گے۔ نارتھمپٹن شائر کے خلاف دوسرے سائیڈ میچ میں تقریباً وہی ٹیم کھیلے گی جو ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف واحد اور تاریخی ٹیسٹ میں شرکت کرے گی۔ بابراعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2017 میں انھوں نے چھ ٹیسٹ کی بارہ اننگز میں 16.72کی اوسط سے صرف 184 رنز بنائے جس میں دو نصف

سنچریاں شامل تھیں اور وہ پانچ مرتبہ صفر پر بھی آؤٹ ہوئے۔ ان مایوس کن اعداد و شمار کے باوجود بابراعظم کو ٹیسٹ ٹیم میں شاید اس لیے لیا گیا ہے کہ انھوں نے حالیہ پی ایس ایل میں پانچ نصف سنچریاں بنانے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی دو نصف سنچریاں بنا ڈالیں۔ پی ایس ایل میں چار میچوں میں ان کی نصف سنچری کے باوجود ان کی ٹیم ہار گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اظہر علی یقینی طور پر اننگز کا آغاز کریں گے۔ اوپننگ کی دوسری پوزیشن کیلئے سمیع اسلم اور امام الحق کے درمیان مقابلہ ہے۔ حارث سہیل چھٹے نمبر سے ون ڈائون پر آئیں گے۔ چوتھے پر بابر اعظم اور پانچویں پر تجربہ کار اسد شفیق آئیں گے۔ سیریز میں سب سے دلچسپ فیصلہ فخر زمان کو نچلےنمبر پر کھلانے کا ہے۔ فخر زمان جو پاکستان کی جانب سے اوپننگ کرتے ہیں انہیں چھٹے نمبر پر کھلا کر جارحانہ بیٹنگ کا ٹاسک دیا جائے گا۔ تاہم ٹیسٹ میچوں میں عام پر جب چھٹے نمبر والا بیٹسمین جس وقت کریز پر ہوتا ہے دوسری نئی گیند مل جاتی ہے۔ اس لئے فخر زما ن کو نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔لیکن ٹیسٹ میں پانچویں نمبر پر کھلانے کا تجربہ بھی یقینی طور پر منفرد ہوگا۔ فخر نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز اوپنر کی حیثیت سے بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی ۔ ذرائع کے مطابق دو سائیڈ میچوں کے بعد پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے حتمی گیارہ کھلاڑیوں کا خاکہ تیار ہوگا

SHARE

LEAVE A REPLY