پینٹاگان کے اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان میں گذشتہ 15 برسوں کے دوران سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کبھی اتنے بم نہیں گرائے گئے جتنے امریکی قیادت والے اتحاد نے 2018ء کے پہلے تین مہینوں میں گرائے ہیں۔

گذشتہ اگست میں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ملک کے لیے اپنی نئی دفاعی حکمت عملی کا اعلان کیا، بم حملوں میں آنے والا یہ اضافہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ 17 برس پرانی افغان لڑائی میں تیزی آتی جا رہی ہے۔

امریکی فضائی افواج کی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد کے مطابق، 2018ء کے پہلے تین ماہ کے دوران اتحادی لڑاکا طیاروں نے افغانستان میں 1186 بم گرائے۔ اس ضمن میں پچھلا ریکارڈ 2011ء کا ہے جب لڑائی زوروں پر تھی اور 1083 بم گرائے گئے تھے۔ امریکہ نے سنہ 2001 اور 2003 کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

اِن اعداد میں وہ ڈیٹا شامل نہیں ہے جو کارروائیاں افغان فضائی فوج (اے اے ایف) کرتی رہی ہے، جس نے دو برس قبل فضائی حملوں کی صلاحیت حاصلہ کی تھی، جس کے بعد فضائی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے مطابق، افغان ایئر فورس روزانہ 4 سے 12 فضائی کارروائیاں کر رہی ہے۔

اگر حالیہ رجحان جاری رہتا ہے، تو اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ 2018ء کا باقی سال اس سے بھی زیادہ پُرتشدد ہو سکتا ہے۔ عام طور پر لڑائی اُس وقت زور پکڑتی ہے جب موسم گرم ہوتا ہے، جب کہ اتحاد نے داعش کے گروپ کے ساتھ ساتھ منشیات کے کارخانوں اور طالبان کی آمدن کے دیگر ذرائع کے خلاف بم حملوں کے سلسلے کو وسیع کر دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY