پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں

0
1190

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اس کا صرف ذائقہ ہی لاجواب نہیں ہوتا بلکہ اس کے بیشمار فوائد ہیں مگر یہ رس بھرا پھل نقصان دہ تب ہو جاتا ہے جب اس کو پال پر یعنی مصنوعی طریقے سے پکایا جائے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پرکیمیکلز کا استعمال کر کے کچے عام کو پکا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں اصلی ذائقہ اور مہک نہیں آ پاتی۔ ان کیمیکلز کے طویل استعمال سے جسم میں کئیبیماریاں جنم لے لیتی ہیں۔

’پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں
پھلوں اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہےکہ آم کو جلد پکانے کے لئے استعمال کئے جانے والا کیمیکل کیلشیم کاربائڈ انتہائی سستا ہے اور صرف چار گھنٹے میں عام کو پکا دیتا ہے۔

یہ زبردست کیمیکل نمی کے رابطے میں آنے کے ساتھ ہی اتھائلن گیس بناتا ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔

یہ کیمیکل زہریلا بھی ہے اور مضر صحت بھی جس سے فوڈ پوائزننگ بھی ہو سکتی ہےاور جسم میں کئی طرح کے برے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

’پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں
آم کو چیک کرنے کا طریقہ آیا وہ قدرتی طور پر پکے ہیں یا مصنوعی؟

آم کو پانی سے بھری بالٹی میں ڈالئے، اگر آم ڈوب جائے تو اس کا مطلب وہ قدرتی طور پر پکایا گیا ہے اور اگر آم پانی کی سطح پر رہے تو اس کا مطلب وہ مصنوعی طور پر پکایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ آم کی پہچان اس کے رنگ، ذائقے اور جوس سے بھی لگائی جا سکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY