پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں

0
95

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اس کا صرف ذائقہ ہی لاجواب نہیں ہوتا بلکہ اس کے بیشمار فوائد ہیں مگر یہ رس بھرا پھل نقصان دہ تب ہو جاتا ہے جب اس کو پال پر یعنی مصنوعی طریقے سے پکایا جائے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پرکیمیکلز کا استعمال کر کے کچے عام کو پکا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں اصلی ذائقہ اور مہک نہیں آ پاتی۔ ان کیمیکلز کے طویل استعمال سے جسم میں کئیبیماریاں جنم لے لیتی ہیں۔

’پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں
پھلوں اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہےکہ آم کو جلد پکانے کے لئے استعمال کئے جانے والا کیمیکل کیلشیم کاربائڈ انتہائی سستا ہے اور صرف چار گھنٹے میں عام کو پکا دیتا ہے۔

یہ زبردست کیمیکل نمی کے رابطے میں آنے کے ساتھ ہی اتھائلن گیس بناتا ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔

یہ کیمیکل زہریلا بھی ہے اور مضر صحت بھی جس سے فوڈ پوائزننگ بھی ہو سکتی ہےاور جسم میں کئی طرح کے برے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

’پال پر پکے‘ آم زہریلے ہوسکتے ہیں
آم کو چیک کرنے کا طریقہ آیا وہ قدرتی طور پر پکے ہیں یا مصنوعی؟

آم کو پانی سے بھری بالٹی میں ڈالئے، اگر آم ڈوب جائے تو اس کا مطلب وہ قدرتی طور پر پکایا گیا ہے اور اگر آم پانی کی سطح پر رہے تو اس کا مطلب وہ مصنوعی طور پر پکایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ آم کی پہچان اس کے رنگ، ذائقے اور جوس سے بھی لگائی جا سکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY