دنیا کے ہر ملک میں رواج ہے کہ جب بھی وہاں نئی قومیں آباد ہوتی ہیں وہ ضرور اپنی پہچان بتانے کے لئے اپنی اپنی تنظیمیں بناتی ہیں ۔ اسی طرح آسٹریلیا میں بھی ہر قوم نے ہر شہر میں اپنے ملک کی تہذیب اور تاریخ سے آشنائی کروائی ہے ۔ بلکہ کئی ملکوں کی ایک سے زائد آرگنایئزیشنز ہیں جنہوں نے اپنا تعارف اور رستہ منفرد رکھا ہے۔ انہیں میں‌ سے سڈنی میں پاکستان کے حوالے سے “‌میری پہچان پاکستان ” ایک ایسی آرگنایئزیشن ہے جو اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے ۔

میری پہچان پاکستان 2016 میں وجود میں آئی اور اس کے بانی ” سید عاطف فہیم اور ان کی اہلیہ ارم عاطف “‌ ہیں ۔ عالمی اخبار کی طرف سے دونوں‌ سے تفصیلی بات چیت اس وقت ہوئی جب انہوں نے یوم آزادی کے فنکشن میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے سابقہ پروگرامز کی وڈیوز بھیجی تھیں ۔

ارم نےبتایا “‌میری پہچان پاکستان “‌ ایک نان پرافٹ‌ آرگنایئزیشن جس کے دوبنیادی مقاصد ہیں ۔ سب سے اہم آسٹریلیا میں‌رہنے والے بچوں کوتاریخی حوالوں سے پاکستان کے مثبت رخ سے متعارف کروانا تاکہ ان میں جزبہ حب الوطنی پیدا ہو اوردوسرا مقصد مختلف پروگرامز کے زریعے فنڈز اکٹھا کر کے پاکستان میں ضرورتمندوں کی مدد کرنا تاکہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

سید عاطف فہیم نے بتایا کہ میری پہچان پاکستان سڈنی میں نان پرافٹ‌ آرگنایزیشن “‌فلوٹنگ فلاورز “‌کے ساتھ مل کر پروگرامز کا انقعاد کرتی ہے۔ حال ہی میں دونوں نے مل کر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لئے فنڈ‌ریزنگ ڈنرکا اہتمام کیا اور فنڈز کو ان تک پہنچایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2017 میں میری پہچان پاکستان نے تھر کی آرگنایئزیش “‌باغبان انکم”‌ والوں کے ساتھ مل کر تھرپارکر کے گاؤں “‌جھرمیریو “‌ میں‌ پانچ میٹھے پانی کے کنوؤں کا انتظام کیا ۔ اس کے علاوہ کراچی میں “‌بحر العلوم یتیم خانہ “‌ کی مالی امداد کے لئے بھی پروگرامز کرتے ہیں۔

یوم آزادی پر سب سے بہترین پروگرام پیش کرنے میں ” میری پہچان پاکستان پچھلے دو برسوں سے سر فہرست رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ بچوں کی جذبہ حب الوطنی ہے ۔ بچے پاکستان کے حوالے سے کریکٹر پلے ، تقاریر ، کویئز پروگرام اور ڈرامہ “‌ دا مکینگ آف پاکستان “‌ میں زور شور سے حصہ لیتے ہیں ۔ یوم آزادی کے حوالے سے اس ڈرامے کو تین ادوار میں تیار کیا گیا ہے ۔ پہلا حصہ جو 2016 میں پیش کیا گیا تھا جس میں آزادی کیسے حاصل ہوئی جس میں 1930 سے 1947 تک کے اہم واقعات کو اسٹیج کیا گیا ، 2017 میں “‌ابتدا سے دفاع “‌تک اسٹیج کیا گیا جس میں 1947 سے 1965 تک کے عرصے کو پیش کیا گیا جس میں ایک بچہ قائد اعظم اور ایک بچی محترمہ فاطمہ جناح کے روپ میں اپنے ساتھیوں کی دادرسی کرتے نظر آئے۔ یہ ڈرامہ اتنی خوبصورتی کے ساتھ اسٹیج کیا گیا تھا کہ بے اختیار آنکھیں بھیگ گیئں ۔ اس خوبصورت ڈرامے کو ارم عاطف نے لکھا اور ڈائریکٹ‌ کیا تھا ۔

ارم نے بتایا کہ “‌کریکٹر پلے “‌اور ” ڈرامے “‌ میں حصہ لینے والے بچے اپنے اپنے کرداروں کا مطالعہ کرتے ہیں ، پورا سال رہہرسیل کرتے ہیں ، فنکشن والے دن اسٹیج پر ان جیسا روپ دھارتے ہیں اور کبھی نا بھولنے والا تاثر چھوڑ‌جاتے ہیں ۔ جبکہ تقاریر اور کویئز پروگرام کے لئے حصہ لینے والے بچوں کو تیاری کے لئے کتابیں مہیا کیں جاتی ہیں ۔

ارم اور عاطف بے حد پر عزم شخصیات ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ “‌میری پہچان پاکستان کے پروگرامزکی رہہرسیل زوروشور سے ہو رہی ہے ۔ امسال 1965 سے آگے کے حالات اسٹیج کئے جایئں گے، اور انشاللہ یہ تسلسل جاری رہے گا ۔”‌

عالمی اخبار کی طرف سے ارم عاطف اور سید عاطف فہیم کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش ہے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY