امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کو مشرق وسطیٰ سے نکالنےکا فیصلہ

0
682

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ بحری بیڑا مرمت کے لیے مشرق وسطیٰ سے باہر لے جایا جا رہا ہے، یہ بحری بیڑا 10 ماہ سے مشرق وسطیٰ میں تعینات تھا، اس بحری بیڑے کی مشرق وسطیٰ سے رخصت کے بعد ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکا کی فائر پاور کم ہو گئی۔

اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہام لنکن پر حملہ کیا ہے، امریکا نے اس کی تردید کی تھی تاہم ابراہام لنکن عالمی ریڈار سے غائب ہے، بعض اطلاعات کے مطابق امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہام لنکن خلیج اومان کے قریب موجود ہے۔

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہےکہ امریکا کی جانب سے ممکنہ بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران کے اندرونی اختلافات کو ہوا دینا ہے۔

باقر قالیباف کاکہنا تھا کہ امریکی صدر ایران کو دو گروہوں سخت گیر اور اعتدال پسند میں تقسیم کر رہے ہیں اور ساتھ ہی بحری ناکہ بندی کرکے اقتصادی دباؤ اور اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو جھکانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور وہ بحری ناکہ بندی اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے اقتصادی دباؤ بڑھاکر ایران کو اندر سےکمزور یا منتشر کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کا واحد حل قومی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY