قومی اسمبلی: اختتامی اجلاسوں میں بھی اراکین کی غیر حاضری کا سلسلہ جاری

0
62

حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف 2 روز باقی ہیں جبکہ اراکین کی غیر حاضری کے باعث قومی اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس بلانا خود حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔

اجلاس میں 104 نکاتی مفصل ایجنڈا موجود ہونے کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی اراکین کو اپنی مرضی سے کسی بھی موضوع پر اظہار خیال کرنے کی اجازت دے کر 2 گھنٹے تک اجلاس جاری رکھے رہے۔

اجلاس کے دوران جب تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ساجدہ بیگم کو فلور پر بولنے کا موقع نہ مل سکا تو انہوں بطور احتجاج کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی، جس کی وجہ سے ڈپٹی اسپیکر پہلے اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی اور بعدازاں بدھ کی صبح تک ملتوی کے لیے کرنے پر مجبور ہوگئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ 5 برس میں قومی اسمبلی کے بیشتر اجلاسوں میں حاضری کی اوسط شرح میں 13 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ 100 اجلاس صرف کورم پورا نہ ہونے کے سبب ملتوی یا منسوخ کردیئے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے کُل 468 اجلاس منعقد ہوئے جس میں سے 74 فیصد یعنی 345 اجلاس کے آغاز اور اختتام پر اراکین کی حاضری ایک چوتھائی سے بھی کم رہی۔

خیال رہے کہ اراکین کی ایک چوتھائی تعداد 342 میں سے 86 بنتی ہے جبکہ قوانین کے مطابق اسمبلی کا اجلاس جاری رکھنے کے لیے ایوان میں ایک چوتھائی اراکین کا حاضر ہونا لازمی ہے۔

اس سے قبل وزارت خزانہ اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے نکتہ اعتراض پر گفتگو کی گئی، جس میں انہوں نے ایوان کو غیر جانبداری سے چلانے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تعریف کے پل باندھے۔

سب سے حیران کن تبصرہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن شہریار آفریدی نے کیا، انہوں تحریک انصاف کے ساتھ احترام سے پیش آنے پر اسپیکر کی تعریف کی۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران انہوں نے اسپیکر کے آبائی حلقے میں ان کے خلاف گھر گھر جاکر انتخابی مہم چلائی، تاہم پھر بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔

شہریار آفریدی نے اسپیکر ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے سلامی پیش کی اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اسپیکر کا رویہ ان کے ساتھ اچھا رہا۔

اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن عائشہ ناصر نے مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا جس میں مسیحی برادری کی آبادی میں کمی کو ظاہر کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے ایوان کی توجہ سیالکوٹ میں احمدیوں کی تاریخی عبادت گاہ کو مسمار کیے جانے کی جانب مبذول کروائی، ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی انہیں اقلیت تسلیم کر چکے ہیں، کیا اب وہ پاکستانی بھی نہیں؟

اس حوالے سے شازہ مری نے آئین کی شقیں پڑھ کر سنائی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم آئین پاکستان اور قائداعظم کے اصولوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY