قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے احکامات کے پیش نظر بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپنی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ زمین کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث اداروں اور افراد کے خلاف ان کا کیس بہت مضبوط ہے۔
تحقیقات کے حوالے سے نیب نے انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن نے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ہزاروں ایکڑ زمینیں ہڑپ کیں جس کے سبب قومی خزانے کو 90 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
تحقیقات سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے تاہم اس حوالے سے ریفرنس دائر کیے جانے سے قبل اس کا قانونی جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد چیئرمین نیب کی زیر صدارت بورڈ اس پر فیصلہ سنائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر 12 ہزار ایکڑ زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نیب نے بحریہ ٹاؤن کی اراضی بندی کے لیے سروے آف پاکستان کی مدد حاصل کی جس کی بنیاد پر احتساب ادارے کو قبضے کی حدود کا پتہ چل سکا۔
خیال رہے کہ نیب نے اس حوالے سے عدالت عظمیٰ میں جامع رپورٹ جمع کرا رکھی ہے جس کے بعد بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا گیا تھا۔












