یمنی فوج کی صنعا میں عظیم ہال پر فضائی حملے کے اسباب کی تحقیقات

0
512

یمنی فوج نے عرب اتحاد کی مشترکہ جائزہ ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد خود بھی دارالحکومت صنعا کے عظیم ہال پر فضائی حملےکی وجوہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے میجر جنرل محمد المغداشی نے بتایا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کی سطح پر واقعے کی تحقیقات کے ضمن میں اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں اور ان میں واقعات کا جائزہ لینے والی مشترکہ ٹیم کی فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انھوں نے جائزہ ٹیم کی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ”یمنی پریزیڈینسی برائے جنرل چیف آف اسٹاف نے غلط طور پر عرب اتحاد کو یہ اطلاع دی تھی کہ صنعا میں ایک معروف جگہ پر مسلح حوثی لیڈروں کا اجتماع منعقد ہورہا ہے اور اس نے یہ بالاصرار کہا تھا کہ اس جگہ کو فوری طور پر حملے کا ہدف بنا دیا جائے کیونکہ یہ ایک بالکل درست فوجی ہدف ہے”۔
انھوں نے کہا کہ اس غلطی کی ذمے دار یمنی فوج کی ٹیم کی نشان دہی کے لیے تحقیقات کی جائے گی اور اس معاملے سے آرمی کے قواعد وضوابط کے مطابق نمٹا جائے گا۔
عرب اتحاد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ”اتحاد کے فوجی کارروائیوں کے لیے ضابطہ کار کی پاسداری نہ کرنے اور غلط معلومات کی بنیاد پر اتحاد کے ایک طیارے نے غلطی سے صنعا کی اس جگہ ( ہال) کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعے کے ذمے داروں کے خلاف مناسب اقدام ہونا چاہیے اور مقتولین اور مجروحین کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جانا چاہیے”۔
درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے العربیہ سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اب اہم مشن طریق کار میں تبدیلی ہے اور جنگی کارروائیوں کے لیے قواعد وضوابط پر نظرثانی کی جارہی ہے تاکہ اس طرح کی غلطیوں اور ان کی بنا پر ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو کیونکہ ایسی غلطیاں اتحاد کے اصولوں کے منافی ہیں اور اس کا مقصد تو شہریوں کی خدمت کرنا ہے،انھیں نقصان پہنچانا نہیں”۔
عرب اتحاد نے ہفتے کے روز ایک بیان میں جائزہ ٹیم کے تحقیقاتی نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ٹیم کی سفارشات پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔
یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف برسرجنگ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس کے لڑاکا طیارے نے صنعا میں ایک جنازے کو غلطی سے حملے میں نشانہ بنایا تھا اور ایسا یمنی فوج کی ایک پارٹی کی جانب سے غلط اطلاع ملنے پر ہوا تھا۔اتحاد کا کہنا تھا کہ یمنی فوج کے آپریشنز سنٹر نے اس حملے کی منظوری دی تھی اور اس نے کسی اجازت کے بغیر ایسا کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY