رسول بخش پلیجو کراچی میں انتقال کرگئے۔

0
2759

سینئر سیاست دان اور عوامی تحریک کے بانی رسول بخش پلیجو کراچی میں انتقال کرگئے۔

ترجمان عوامی تحریک کے مطابق 88 سالہ رسول بخش پلیجو طویل عرصے سے علیل تھے،وہ سانس ،دل اور سینے میں تکلیف کی شکایت کی وجہ سے کلفٹن میں نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔

ترجمان کے مطابق رسول بخش پلیجوکی میت کوآبائی علاقے علاقےجنگ شاہی لےجایاجائےگا اور وہیں کل صبح آٹھ بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔

رسول بخش پلیجو 21 فروری 1930کو ٹھٹہ کے منگر خان پلیجو گاؤں میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم ٹھٹہ سے حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی بعدازاں سندھ لاء کالج سے گریجویشن کی اور سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔

رسول بخش پلیجو کی پہچان صرف ایک سیاستدان ہی کی نہیں۔ وہ پاکستان کے ایک بڑے دانشور، فلسفی، ادیب، نقاد، وکیل اور محقق بھی ہیں۔

وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے،انہوں نےسندھی زبان میں26کتابیں لکھیں۔

صرف 15 سال کی عمر میں انہوں نے اردو، انگریزی اور سندھی زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا، جبکہ ہندی، فارسی، عربی، پنجابی، بنگالی، سرائیکی اور دیگر کئی زبانوں کو سمجھ اور بول سکتے تھے۔

رسول بخش پلیجونےسیاسی زندگی کے10سال مختلف جیلوں میں گزارے۔انہوں نےکوٹ لکھپت جیل میں قیدکےدوران ایک ڈائری لکھی.

انہوں نے 1970میں سندھی عوامی تحریک نامی تنظیم سے سیاست کاآغازکیا۔

انہوں نےون یونٹ کےخاتمےاوربحالی جمہوریت تحریک میں سرگرم کرداراداکیا اور سندھ میں پہلی بارسندھیانی تحریک کے پلیٹ فارم سے خواتین کو سیاست میں متحرک کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY