نیوزی لینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم نے کرکٹ کی تاریخ کا سب بڑا اسکور بنا دیا ۔کیوی خواتین ٹیم نے آئرلینڈ خواتین ٹیم کے خلاف صرف 4وکٹ پر 490رنز کا پہاڑ کھڑاکرتے ہوئے عالمی ریکارڈ اسکور بنا ڈالاجبکہ اتنا بڑا اسکور تو آج تک مردوں کی کرکٹ ٹیم بھی نہیں بنا پائی۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ خواتین کرکٹ ٹیم 3ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے آئرش دارالحکومت ڈبلن میں موجود ہے جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان آج پہلامیچ کھیلا گیاجو اب تک جاری ہے اور آئرش خواتین ٹیم نے 490رنز کے ہدف کے تعاقب میں66رنزاسکور کرلیے اور ان کے4 بیٹسمین پویلین لوٹ چکے ہیں۔

اس سے قبل کیوی خواتین ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ 50 اوورز میں صرف 4 وکٹ کے نقصان پر 490رنز کا ریکارڈ مجموعہ ترتیب دیا ،ٹیم کی جانب سے کپتان سوزی بیٹس151،میڈی گرین121، امیلا کرر81 اور جیس واٹکن نے62رنز اسکور کرکے ٹیم کو عالمی ریکارڈ اسکور بنانے میںمدد دی اور اہم کردار ادا کیا۔

کیوی کپتان سوزی بیٹس نے 94گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 24چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 151رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور ساتھ ہی میڈی گرین نے بھی 77گیندوں پر شاندار 121رنز بنائے ان کی اننگز میں 15چوکے اور ایک چھکا شامل تھاجبکہ امیلا کرر نے 45گیندوں پر 9چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 81رنز اسکور کیے۔

ان تینوں کیوی خواتین بلے بازوں نے آئرش بولرز کے پرخچے اڑا دیے اور کم گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے اسکور میں برق رفتار ی سے اضافہ کیاتاہم اس 490رنز کے ریکارڈ اسکور میں 31اضافی رنز بھی شامل ہیں جو آئرش بولرز کی خراب بولنگ کے باعث کیوی ٹیم کو ملےجس میں 22وائڈ،8نو بال اور ایک لیگ بائی کا رن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس اسکور کے ساتھ کیوی خواتین کرکٹ ٹیم نے اپنی ہی خواتین ٹیم کا ریکارڈ توڑ دیا جب ان کی ٹیم نے98-1997میں5 وکٹ پر455 پاکستان کے خلاف کراسٹ چرچ میں اسکور کیے تھےتاہم تیسرے نمبر پر 412رنزہیں جو آسٹریلیا نے 3 وکٹ پر ڈین مارک کے خلاف 98-1997میں ممبئی میں اسکور کیے تھے۔

دوسری طرف مردوں کی کرکٹ ٹیم کے ایک روزہ میچز میں عالمی ریکارڈ اسکور444رنزکا پہاڑ ہے جو انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف صرف 3وکٹ پر 2016میں اسکور کیے تھے۔

دوسرے نمبر پرسری لنکا کے 443رنز ہیں جو انہوں نے 9 وکٹوں پر نیدرلینڈز کے خلاف 2006میں بنائے تھےتاہم تیسرے نمبرپر 2015میںجنوبی افریقہ کےویسٹ انڈیز کے خلاف 439رنز ہیں جو ان کی ٹیم نے صرف 2 وکٹ پر اسکور کیے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY