تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو 242رنز سے بدترین شکست دے کر سیریز میں تین۔صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔482رنز کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریلیا کی پوری ٹیم 239رنز بناسکی۔

رنز کے اعتبار سے یہ انگلینڈ کی سب سے بڑی کامیابی جبکہ آسٹریلیا کی بدترین شکست ہے۔

ٹرینٹ برج ،ناٹنگھم میں آسٹریلوی ٹیم کے کپتان ٹم پینے نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا ۔ انگلش ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 481 رنز بناکر ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ مجموعی اسکور کا اپنا ہی ریکارڈ توڑدیا۔

جونی بیرسٹو نے ون ڈے کیریئر کی چھٹی سنچری اسکور کی

اس سے قبل انگلینڈ نے 2016 میں اسی گراؤنڈ پر پاکستان کے خلاف تین وکٹوں کے نقصان پر 444 رنز سکور کیے تھے۔

انگلینڈ کی جانب سے جانی بیرسٹو(139) اور ایلکس ہیلز(147) نے سنچریاں جبکہ جیسن رائے(82) اور کپتان مورگن(67) نے نصف سنچریاں ا سکور کیں۔

مورگن نے صرف 21 گیندوں کا سامنے کرتے ہوئے 50رنز بنائے جو ایک روزہ میچوں کی تیزترین نصف سنچری ہے۔

انگلش ٹیم کے کپتان مورگن نے ون ڈے کی تیز ترین نصف سنچری بنائی
آسٹریلیا کی جانب سے اینڈریو ٹائے مہنگے ترین بولر ثابت ہوئے، انہوں نے 9اوورز100رنز دیئے، جبکہ رچرڈسن نے 92رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

مشکل ترین ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم آدھا اسکور بھی نہ کرسکی اور 37ویں اوور میں 239رنزپر ڈھیر ہوگئی، ٹریوس ہیڈنےسب سے زیادہ 51رنز کی اننگز کھیلی۔

انگلینڈ کی طرف سے عادل راشد نے 4، معین علی نے 3 اور ویلے نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

دونوں ٹیموں کے درمیان چوتھا ون ڈے 21 جون کو چیسٹر لے اسٹریٹ میں کھیلا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY