امریکی صدر بھی مستقل خبروں میں رہتے ہیں کہیں معصوم بچوں کو ماں باپ سے الگ کرنے پر ،کہیں خلاء پر بھی اپنا قبضہ جتانے کی بات پر ۔کہتے ہیں صرف چاند پر قدم کافی نہیں پوری خلاء پر ہمارا قبضہ ہونا چاہئے ۔کہاوت ہے اللہ گنجے کو ناخون نہیں دیتا ورنہ وہ سر کُھجا کھُجا کر مر جائے ۔خیر یہ تو مثال تھی مگر ہمیں انسانیت کے شہسواروں پر دکھ ہے جو اُن ننھنے بچوں کے لئے بھی آواز نہیں اُٹھا سکتے جن پر ظلم کی انتہاء ہے کہ انہیں اُنکے ماں باپ سے اس لئے الگ کر دیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے امریکہ میں داخل ہوئے ۔۔۔۔ اآپ انہیں روکیں اپنی سیکیورٹی سخت کریں حالانکہ یہ وہ ملک ہے جو آباد ہی ساری دنیا کے لوگوں کے وہاں پہنچنے سے ہوا تھا ،دریافت کرنے والا بھی اچانک ہی اس سر زمین پر پہنچ گیا تھا ۔ لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ معصوم بچے جنہیں ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ غیر قانونی اور قانونی کیا ہوتا ہے۔اتنی بڑی سزا بُھگت رہے ہیں کہ ماں باپ سے الگ کر دئے گئے ہیں ،کیا کوئی بھی صاحبِ اولاد تصور کر سکتا ہے اس ظلم کا ۔۔۔۔۔
ہمارا ملک بھی عجیب کشمکش میں مبتتلاء ہے ۔ایلیکشن کی تاریخ دے دی گئی ہے لیکن اہل اور نا اہل کس قانون کے تحت ہو رہے ہیں کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ جتنے سبھی کرپٹ اور قانون کی پکڑ میں آئے ہوئے لوگ ہیں سب ہی اہل ہیں پھر نا ہلی کی شق کون سی ہے اور کیا بات ہے جس پر نااہل کیا جاسکتا ہے ؟۔کہیں پڑے سے بڑی بات بھی قابلِ دَر گزر ہےاور کہیں چھوٹی چھوٹی بات پر پکڑ ہے ۔عجیب سا مَخمصہ ہے جو نا حل ہوتا نظر آتا ہے نہ ہی کھلتا ۔ اکثر اینکر اپنی بات پارٹیوں سے منوانے کے لئے اُن کے ناراض ورکرز کی شان میں قلابے ملاتے یا انکی طرفداری کرتے نظر اآرہے ہیں کیوں ؟۔یہ ہمیں بھی نہیں پتہ ۔۔۔۔خواتین زیادہ شکار ہو جاتی ہیں ان اینکرز کا کیونکہ کمزور بھی ہوتی ہیں اور کہیں نہ کہیں میڈیا کی طلبگار بھی ورنہ ہم تو یہ ہی سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو چلانے والا بھی ان تمام باتوں پر نظر رکھتا ہے کہ کہاں سے کون جیت سکتا ہے یا نہیں جیت سکتا ۔یہ بات دکھ دیتی ہے کہ نظریہ رکھنے والوں کو بھی اپنے ملک کے سسٹم کی وجہ سے وہ ہی راہ اختیار کرنی پڑ رہی ہے جس کے وہ مخالف تھے ۔مگر اکثر برائی کو ختم کرنے کے لئے اُس برائی کے اندر داخل ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ کچھ کیا جاسکے ۔اگر خان صاحب کی یہ سوچ ہے تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں بس ڈر ہے کہ یہ اُڑ کر آئے پنچھی انہیں دغا نہ دے دیں ۔۔۔
ہماری دعا ہے کہ اس دفعہ وہ لوگ بھی جو پچھلے ادوار میں صرف اور صرف اپنا فائدہ لینے کو ایلیکشن لڑتے تھے اب ملک اور قوم کے لئے کچھ کر جائینگے ۔کاش سب کی عقل میں یہ بات آجائے کہ ملکہے تو ہم سب ہیں ملک اگر برے حالات کا شکار ہوا تو سب کو بیرونِ ملک جانے کی سہولت حاصل نہیں ہوگی اس لئے اپنے ملک کو اس قابل بنائو کہ کسی دوسرے ملک کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہ ہو ۔
ہمیں لگتا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے سے صرف اور صرف ایک شق پوری ہوتی ہے ورنہ یہ بڑے لوگ تو ہر قسم کی دولت کے مالک ہیں وہ بھی جو کچھ عرصہ پہلے تک کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس باہرتو کیا ملک میں بھی کوئی اثاثے نہیں ہیں ،لیکن اب اتنی لمبی فہرست ہے لیکن شرم کسی کو بھی نہیں آتی آنکھوں میں دھول جھونکتے اور ایسے ہی ہم عوام ہیں کہ ہر جھوٹ کو مانتے اور پھر ان ہی کے پیچھے چل دیتے ہیں ۔ہمیں جان کر بھی سوائے اس دکھ کے کیا ملے گا کہ ہمارے حاکم دولتمند ہیں اور ہم پر حکومت کرنے کے بعد دولت کے مزید پروانے انکے ہاتھ میں آجاتے ہیں ۔غریب کو اس سے کیا کہ تمہیں اصلحہ کا شوق ہے تمہیں کاروں کا شوق ہے تمہاری پراپرٹیز کی گنتی نہیں ،تمہاری جیولری کی قیمت آسمانوں تک جاتی ہے اور غریب کی بیٹی کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ سونا ہوتا کیسا ہے ۔؟ یہ سب بتا کر ہم کون سی سہولت عوام کو مہیا کرتے ہیں کیونکہ یہ تو ان سب کے باوجود بھی حریص ہیں مزید دولت کے مزید اثاثوں کے ان کے پیٹ اور منہ وہ کھائی ہیں جو بھر ہی نہیں سکتی ۔۔
یہاں میں ایک واقعہ کا زکر کرنا چاہونگی شاید کسی کی سوچ کو بدل دے ۔ایک گائوں کا مُکھیا بہت بیمار تھا ،حکیموں نے جواب دے دیا لیکن اس کے پاس دولت بہت تھی وارث کوئی نہیں تھا ۔اُس نے گاؤں میں منادی کرائی کہ جو شخس میرے مرنے کے بعد میری قبر میں میرے ساتھ دو دن گزارے گا اُسے میں اپنی ساری دولت دے دونگا ۔گاؤں میں ایک غریب موچی تھا جو آٹھ آنے روز کماتا تھا انتہائی تنگ دست تھا بیوی سے بھی روز لڑائی ہوتی تھی گاؤں کا سب سے غریب آدمی تھا گاؤں والوں نے اُس سے کہا تم وعدہ کر لو تو ساری دولت کے مالک بن جائوگے اور زندگی بھی آسان ہو جائیگی دو دن کی تو بات ہے ۔وہ ڈرا تو بہت مگر تیار ہوگیا اللہ کا کرنا کہ مُکھیا ختم ہوگیا لوگوں نےاُس کی قبر میں موچی کو بھی لٹا دیا قبر میں ایک سوراخ بنا دیا تاکہ ہوا جاتی رہے پانی کھانا بھی ساتھ رکھ دیا ۔دو دن بعد سارا گاؤں جمع ہوا کہ موچی کو نکالے قبر کھودی موچی کو نکالا موچی کاحال برا تھا ۔باہر نکلتے ہی کہنے لگا مجھے دولت نہیں چاہئے ۔مجھے دولت نہیں چاہئے خدا را مجھے معاف کرو ،میں تو دو دن میں فرشتوں کو اپنی اٹھنی ہی کا حساب نہیں دے سکا میں اتنی دولت کا حساب کیسے دونگا ۔میں اپنی غربت ہی میں خوش ہوں مجھے معاف کرو ، مجھے معاف کرو ، یہ کہاوت عبرتناک بھی ہے اور سوچنے کی متقاضی بھی ۔۔۔ اگر سمجھ ہو تو ۔
حساب دینا ہے ضرور دنا ہے یہاں بھی اور وہاں بھی لیکن ہماری اندھی سوچ نے ہمیں ان تمام باتوں سے دور کر رکھا ہے ۔ہمارے بڑے جھوٹ بھی بولتے ہیں دھڑلے کے ساتھ ،شرماتے بھی نہیں پھر سامنے آتے ہیں نیا جھوٹ بولنے کے لئے جیسے آج کل کلثوم نواز صاحبہ کے سلسلے میں جھوٹ اور خبروں کا بازار گرم ہے لیکن کسی کو کسی بات پر بھی اعتبار نہیں آرہا ۔اب صاحبزادے فرماتے ہیں کہ کلثوم نواز صاحبہ کی جمہوریت کے لئے جو جد و جہد ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ہم حیران ہیں ہم نے تو آج تک انہیں کوئی بھی جد و جہد جمہوریت کے لئے کرتے نہیں دیکھا کاش وہ اپنے بچوں اور اپنے شوہر کو کرپشن اور جھوٹ ہی سے روک لیتیں ۔کاش وہ پوچھ لیتیں کہ یہ اتنے اثاثے بنے تو ٹریل کہاں ہے کاش وہ خود بتا دیتیں کہ سچائی کیا ہے ؟ جس تکلیف میں وہ ہیں اللہ انہیں صحت دے مگر تکلیف میں تو انسان اور بھی سچ کی طرف راغب ہو جاتاہے ۔اُسکا دل رقیق ہوجاتا ہے کہ جتنی نیکیاں سمیٹ سکتا ہوں سمیٹ لوں ۔لیکن ہم ان کی کس بات کو یاد کریں کہ انہوں نے ملک اور قوم کے لئے یہ قربانی دی یہاں بھی محل میں رہیں سعودیہ میں بھی محل میں رہیں لندن میں بھی محل نما اپارٹمنٹ ہیں نہ جائیداد کی کوئی کمی ہے نہ دولت کی ،جمہوریت کو تواتنا بدنام کر دیا ہے کہ اب ہمارے ملک میں جمہوریت کس کو کہتے ہیں دوبارہ سبق یاد کرانا ہوگا ۔کاش وہ اپنی صاحبزادی کو ہی جھوٹ اور غلط بیانی سے روک لیتیں ۔
کاش یہ سال ہمارے ملک میں زہنی انقلاب کا سال ہو ۔یہ ایلیکشن ملک اور قوم کے لئے با برکت ہو کہ اچھے اور مخلص لوگ جیتیں ،کاش ہمارے ملک سے جھوٹ دھوکہ اور بے ایمانی کا کرپشن کا خاتمہ ہو جائے ،کاش ہم سب کے ضمیر جاگ جائیں اور ہم اپنی ذات سے اونچا اُٹھ کر ملک اور قوم کے لئے سوچیں ۔ہمیں آپ کی دولت سے کوئی سرو کار نہیں اللہ آپ سب کو اور نوازے مگر خدا را ایمانداری سے کمائیے ۔ملک میں لگائے ملک میں رکھئے اور ملک ہی کی خدمت کیجے۔جائز دولت پر نہ کسی کو اعتراض ہے نہ ہونا چاہئے ۔کہ جس کی قسمت میں جتنا ہے اُسے ملے گا بس ایمانداری اور انصاف کواپنا ئیے کہ یہ ہی راہ نجات ہے ۔
اللہ میرے ملک کے لوگوں میں ملک کی محبت اور غریبوں کی ہمدردی پیدا کرے ۔اور اچھے اور نیک حاکم عطا کرے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY