لاپتہ افراد کی بازیابی کےمعاملے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی جی رینجرز سندھ کو آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے معاملہ میں آئی جی سندھ کوبھی طلبی کا سمن جاری کیاہے۔ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے صوبائی سربراہان کوبھی بلالیاہے۔

چیف جسٹس نے تمام متعلقہ حکام کوآج بارہ بجے کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کا حکم دیاہے۔۔

گذشتہ روز لاڑکانہ میں ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اور عدالت میں جتنی درخواستیں آرہی ہیں وہ انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم کوئی محتاج لوگ نہیں جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی نہیں اٹھتا تو عدلیہ بھی خاموش رہے، جوڈیشل سسٹم کا مقصد انصاف دینا ہوتا ہے اور ایسا نہیں کہ عدلیہ مسائل پر خاموش رہے، ازخود نوٹس کا واحد مقصد مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگوں کو مستقبل میں اچھی صحت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، اسپتالوں میں آلات، دواؤں اور افرادی قوت کےمعاملات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آج عدلیہ پر جو بوجھ اکٹھا ہوا اس میں کسی سیاسی جماعت کو نشانہ نہیں بنارہا، عدالت میں جتنی بھی درخواستیں آرہی ہیں وہ انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

اس سے قبل آج چیف جسٹس پاکستان نے لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال کی حالت زار دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے شہر کےاسپتال کا یہ حال ہے تودوسرے شہروں کےاسپتال کا کیا ہوگا

SHARE

LEAVE A REPLY