سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دے دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی اپیل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میٹرک اور بی اے کی ڈگریوں پر ناموں میں تضاد ہے، یاسمین شاہ کی ڈگری پر اعتراض کو کون سا ریکارڈ درست ثابت کرے گا۔ کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بی اے کی ڈگری پر نام میں ردوبدل کیا گیا جبکہ میٹرک کی سند پر نام یاسمین محمد حسین ولد محمد حسین لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نادرا کے ریکارڈ میں نام بی بی یاسمین شاہ ہے جبکہ والد کا نام بھی علی حسین جمالی لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ والد کے نام میں تو بہت ہی زیادہ فرق ہے، یونیورسٹی والے کہتے ہیں کورٹ ڈگری کے بغیر نام تبدیل نہیں ہوتا۔

یاسمین شاہ کے وکیل نے کہا کہ کیس گزشتہ دس سال سے چل رہا ہے، اگر یہ کسی اور کی ڈگری ہوتی تو وہ اب تک سامنے آچکا ہوتا۔ عدالت نے سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی، یاسمین شاہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ یاسمین شاہ نے 2003 میں سینیٹر بنتے وقت بی اے کی جعلی ڈگری جمع کرائی تھی۔ یاسمین شاہ کیخلاف سابق اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے درخواست دائر کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں نااہل قرار دیکر تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY