اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمع کرائی گئی بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کلثوم نواز کو کارڈیک سپورٹ کی مزید ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کلثوم نواز کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ہوش میں لانے کی کوشش کی جائے گی تاہم اس تمام مرحلے کے دوران کلثوم نواز کی فیملی کی مستقل موجودگی اور ساتھ ان کیلئے فائدہ مند ہے۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کیلئے دائر درخواست کو کل سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔ نوازشریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل ظافر خان کے توسط سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کیلئے باضابطہ درخواست دائر کی ہے۔نواشریف نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ وہ اس ٹرائل کا حصہ رہے ہیں اور مسلسل عدالت آتے رہے ہیں، لیکن اچانک صورتحال تبدیل ہوئی اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی طبعیت شدید خراب ہوگئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب سنا کہ احتساب عدالت فیصلہ سنانے جارہی ہے تو پاکستان جانے کیلئے ڈاکٹرز سے مشورہ کیا۔ ڈاکٹرز نے کلثوم نواز کی طبعیت میں بہتری تک نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مجبوری کے باعث 6 جولائی کو پاکستان نہیں آسکتے۔ جیسے ہی اہلیہ کی طبعیت بہتر ہوگی پاکستان آئیں گے لہٰذا کچھ دن کیلئے فیصلہ مؤخر کیا جائے












