خطابت کا خورشید علامہ رشید ترابی ۔آفتاب احمد‎

2
218

چہرہ پُر نور آفتابی ہے

ممبرِ رسول پہ ترابی ہے

گوہر لفظ ومعانی ہوئے انعام ترے

یہ صدی شانِ خطابت کی ہوئی نام ترے

نظام الملک آصف جاہ نے 1741ء میں ریاست حیدرآباد قائم کر کے اورنگ آباد کو اس ریاست کا پایہ تخت بنایا تھا ‘ حیدرآباد کی خود مختاری کے بعد نظام الملک کو دہلی کے بادشاہ محمد شاہ نے آصف جاہ کا خطاب دیا تھا اور ان کی وفاداری ‘ جرات و بہادری کے عوض انہیں بے شمار انعامات اور اعزازات سے نوازا تھا ۔ اس طرح اورنگ آباد اور مرہٹواڑہ کے دیگر چار اضلاع ناندیڑ‘ پربھنی ‘ عثمان آباد اور بیڑ ریاست حیدرآباد میں شامل تھے ۔ ان علاقوں کے عوام نے حیدرآبادی تہذیب اور دکن کے تمدن کی آبیاری اور اس کے فروغ میں اپنا حصہ ادا کیا ۔

حیدرآباد ریاست کے ان اضلاع سے ایسی شخصیتیں اُبھریں جنہوں نے علوم و فنون‘ ادب اور دیگر شعبوں کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ منور و نایاب کیا ۔ اِن ہی شخصیتوں میں ایک علامہ رشید ترابی بھی اسی دکنی خاک سے گوہر نایاب بنے ۔

کسی دانشور نے کیا خوب کہا تھا کہ “قیادت اچھے مقرر کی کنیزھے” جو شخص جامع اور دل آویز تقریر کرنے کا فن جانتا ھے وہ سب کی نظروں میں کھب جاتا ھے- ذھنوں پر چھا جاتا ھے اور دلوں میں اتر جاتا ھے- اپنی تمام تر سحر آفرینیوں اور گوھر فشانیوں کے ساتھ وہ عام آدمی سے کہیں زیادہ ممتاز ھوتا ھے،علامہ رشید ترابی برصغیر کے آفتابِ خطابت تھے ۔لفظ ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے ۔مجمع ٹھاٹھے مارتا سمندر ہر شخص کی آرزو کہ وہ علامہ کے ایک ایک لفظ کو اپنی سماعتوں میں محفوظ کر لے ۔

تاریخ خطابت کا عمیق نظری سے مطالعہ کریں تو ربط و نظم کا فقدان ہے۔ خطباء و واعظین کے ہاں خال خال ہی ربط و نظم پایا جاتا ہے بعض اوقات تو جلد سانس پھول جاتا ہے اور ربط ٹوٹ جاتا ہے۔ نابغہ عصر علامہ رشید ترابی کے ہاں نہ صرف نظم موجود ہے بلکہ کمال نظم موجود ہے۔۔۔ نہ صرف ربط ہے بلکہ کمال ربط ہے۔ گفتگو خواہ طویل، متوسط یا مختصر لیکن ربط و نظم عدیم النظیر ہے۔ یہ نظمِ تکلم، نظمِ شخصیت کا غماز ہے۔۔۔ نظمِ کمال، درکِ کمال کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔ یہ کمالِ ربط ونظم آپ کو خطابت کی تاریخ میں ممتاز کرتا ہے۔ نظم میں اک حسن تدریج پایا جاتا ہے کہ سامع خود کو زینہ بازینہ علم وفکر کے بام پہ چڑھتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ نظمِ کمال میں سہل سے دقیق کی جانب سفر ہے۔۔۔ ایک مبتدی، دقائق علم کو انگلیوں کے پوروں پہ یوں گنوا دیتا ہے کہ کوئی گوشہ نہ تشنہ لب رہتا ہے نہ عدم وضاحت کا شکار ہوتا ہے۔۔۔ نہ خلط مبحث ہوتا ہے نہ انتشار فکر کا شکار ہوتا ہے۔۔۔ ہر بات موتی کی لڑی کی طرح ہے۔ ہر چند کے جملہ ہائے معترضہ ملتے ہیں لیکن ایسے معترضہ کہ معترض بھی معترض نہ رہے بلکہ ان کو جملہ ہائے معترضہ کی جگہ جملہ ہائے معترفہ کہا جائے تو موزوں ہوگا بلکہ یہ جملہ ہائے معترضہ تسبیح میں امامِ دانہ کی طرح ہے۔ تدریجی نظم قرطاسِ ذہن پہ ان مٹ نقوش ثبت کرتا ہے۔

خطابت کا ایک حقیقی جوہر دلیری ہے، خطیب یا مقرر میں جرأت نہ ہو تو خیالات کا گلا خود بخود گھٹ جاتا ہے، دلیری ہو تو مخالف مجمع میں رُکی ہوئی طبیعت خود بخود کھل جاتی ہے، الفاظ خود بخود متعاقب چلے آتے ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے گلے کی گراریاں کھل گئی ہوں، جس تقریر سے کام ودُہن خود لذت محسوس کریں، وہ خود بخود لوگوں کی سماعتوں میں اترتی ہے‘‘۔بعنیہ یہی کیفیت علامہ رشید ترابی کی

تھی، جب وہ خطابت کے میدان میں اترتے اور دِل کی آنچ شعلۂ گفتار میں ڈھلتی تو ہزاروں کا مجمع دم بخود کھائی دیتا، مخالفین کا ہجوم ان کی خطابت کے ریلے میں بہہ جاتا، کیوں کہ خطابت ان کے لیے قدرت کا عطیہ تھی۔ ان کے لیے ہر موضوع گویا جیب کی گھڑی، اور ہاتھ کی چھڑی تھا۔ خطابت کے یہ تمام جواہر واوصاف اِس مردِ قلندر ،مردِ مجاہدعلامہ رشید ترابی میں موجود تھے ۔

علامہ رشید ترابی 9 جولائی 1908ء کو حیدرآباد دکن برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولوی شرف الدین ایک اعلی سرکاری عہدے پھر فائز تھے۔ان اصل نام رضا حسین تھا لیکن رشید ترابی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری، آغا محمد محسن شیرازی، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔

سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا۔ 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندوستان گیر شہرت کا باعث بنیں۔ علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔ قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد دکن کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے

آپ کے بھائی مظہرعلی خان پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے جبکہ دیگر تین بھائی بھی قابلیت کے مدارج پر فائز رہے، علامہ صاحب وہ پہلے ذاکر تھے جنہوں نے سولہ سال کی عمر میں عنوان مقرر کر کے تقریر کرنے کی بنیاد ڈالی۔

ﺗﻘﺎﺭﯾﺮ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺪﯾﺪ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﺟﺪ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ 1942ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮔﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﺛﺎﻟﺚ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺗﻘﺎﺭﯾﺮ ﮐﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮔﯿﺮ ﺷﮩﺮﺕ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﯿﮟ۔

ہے تیرے ذکر کی عطا ذکر رشید ہے یہاں

سب کو میں یاد رہ گیا صدقے تیری یاد کے

علامہ صاحب کی داستان نہ صرف فصاحت و بلاغت کی داستان ہے بلکہ ایک غیر معمولی حافظے کی داستان بھی ہے – یہ ایک اجتماعی شعور کی پرورش کی داستان ہے – یہ زندگی کے نصب العین سے وفا اور ایثار کی داستان ہے – یہ نہ صرف عزا ے حسین (ع) کی داستان ہے بلکہ یہ اردو زبان و ادب ، فلسفہ و منطق ، رجال ، کلام ، حرف و نحو اور اسلام کی داستان بھی ہے – یہ ایک مدرسے کی داستان ہے جو اس سے اکتساب کرنے والوں کا حزر جان ہوگیی – گرچہ یہ مدرسہ اس وقت ہم سے رخصت ہوگیا

علامہ صاحب کی عظمتوں کے آہنگ کو سمیٹنے کی تاب میری تحریر میں کہاں مگر اگر کوئی دل سے جمعی سے پڑھنا گوارا کرے تو یہ داستان کی خوبی ہے قصہ گو کی نہیں – علامہ صاحب ایک ایسے ہمہ جہت شخصیت تھے جو عالم ، مبلغ ، خطیب ، شاعر ، محقق اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے پر جوش کارکن بھی تھے – وہ ملت کے اتحاد کے پر جوش حامی تھے اور انہوں نے تمام عمر اس مقصد کے لئے جان فشانی کی –

عوامی حلقوں میں وہ بلند پایہ، ممتاز اور منفرد خطیب کی حیثیت سے معروف تھے۔ ان کی خطابت کا جاہ وچشم، رعب وادب، ولولہ، ہمہمہ اور طنطنہ پر مخالف وموافق سے خراج تحسین وصول کر چکا تھا۔ ان کی آواز کی گھن گرج سے عوامی اجتماعات میں دیدنی سی کیفیت ہوتی تھی۔ علمی حلقوں میں آپ ایک قد آور (دینی وسیاسی) علمی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد آپ انیس سو انچاس میں کراچی آ گیے – اور عملی سیاست کو خیر آباد کہہ کر خود کو ذکر حسین (ع) کے لئے وقف کر دیا – آپ کی اولادوں میں عقیل ترابی ، بتول ترابی ، بیگم نواب خیر پور ، نصیر ترابی اور سلمان ترابی زیادہ جانے جاتے ہیں –

خطابت ایک ایسا تخلیقی وصف ہے جو سامعین کو اکائی میں ڈھال دیتا ہے اور ان کے دماغوں میں یکسانی اور دلوں میں جولانی آجاتی ہے – علامہ رشید ترابی اس واصف کی معراج کا نام ہے – علامہ صاحب بیان کے دھنی اور الفاظ کے غنی تھے – ان کے نطق پر الفاظ و معنی سحر آگیں کیفیت رکھتے تھے – انسان مبہوت ہو جاتا تھا – آواز میں کڑک بھی تھی – گفتگو میں رنگینی بھی اور لہجے میں شیرینی بھی – ایک مرتبہ دستہ سخن کھلتا اور فسفہ شہادت بیان ہوتا تو مجمع لوٹ پاٹ ہو جاتا – شیعہ ہو یا سنی سب ہی مسحور ہو جاتے -نہ کوئی فرقہ وارانہ بول ہوتا نہ کوئی مخفی یا جلی طنز – نہ کوئی اختلافی پہلو ہوتا نہ الفاظ کا خروش – معانی نگینہ ، چشمہ مانئ بہہ رہا ہوتا – یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک گل زار تھا جس میں بہت سی روشیں ، انگنت شاخیں اور ان پہ کھلے ہوے پھول تھے –

شاعری کے پھول ، علم الکلام کے پھول ، تاریخ کے پھول ، فلسفے کے پھول ، استدلال ہوتا تو بے پناہ جذبات کا ذکر کریں تو بے کراں – انداز یوں ہوتا کہ وہ ایک کارواں پہ رواں ہوے اور ان کا حسین (ع) ان کے ساتھ – علامہ صاحب داستان گو نہ تھے مگر ان کے طرز گفتار میں بلا کا سحر تھا – اپنی وسعت نظر و وسعت زبان کے باوجود وہ اپنے سامعین کو چند لمحوں میں اس طرف پیے سحر کر لیتے تھے کہ ایک ایک فقرے پر مجمع تڑپ اٹھتا تھا – وہ قرآن ، رومی ، حافظ اور اقبال کے مکمل حافظ تھے – انھیں نہج البلاغہ کے مکمل علم کے علاوہ انگریزی زبان اور جدید علوم پر بھی تقریباً دسترس حاصل تھی –

علامہ بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔

علامہ صاحب کے وجود معنوی میں علم و گفتار کا بحر بے کراں موجزن تھا –وہ ایسے شاعر تھے جنہوں نے جواب شکوہ لکھ کر علامہ اقبال کو ایک نیی جہت پر لگا دیا تھا – آج جب میں ان کی یادوں کی قندیل روشن کرنے بیٹھا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ آواز ذہن میں گونج رہی ہے جس نے مجھے یہ احساس دیا کہ انسانی آواز ایک سحر بھی ہوتی ہے – ایسی آواز کہ سننے والے پتھر کی طرح جامد و ساکت ہو جایں اور صرف آواز میں کھو جایں – سچ ہے – انسان بولے تو رشید ترابی کی طرح بولے کہ نطق و گفتار معجزے کی صورت اختیار کر جایں

ہر انسان ایک قصہ ہے ترابی کیا سنے کویُ

سلیقے کی کہانی ہو تو دل مشتاق ہوتا ہے

ڈاکٹر سید تقی عابدی نے اپنی کتاب’’فیض شناسی‘‘میں بتایا ہے کہ یہ مرثیہ1964ءمیں علامہ رشید ترابی کی فرمائش پر لکھا گیا۔

حضرت جوش ملیح آبادی ،قمر جلالوی ،سید آلِ رضا ،فیض احمد فیض ،مصطفی ذیدی سے خصوصی مراسم تھے دل کی گہرائیوں سے جوش صاحب کی قدر عزت کیا کرتے تھے ۔

تقریر ایک فن ہے اور تقریر میں علم کے دریا بہادینا اِس کی معراج علامہ رشید ترابی فن کی اِسی معراج پہ تھے ۔وہ ذاکر اہل بیت تھے، ذکر حسین ان کا فن بھی تھا عشق بھی اور مشن بھی۔ لیکن جذبوں کی اس شدت کے باوجود وہ فرقہ بندی اور ہر قسم کے تعصب سے بالاتھے۔یہی بلند نظری تھی جس نے انہیں مقبول خلائق بنادیا۔

تقریر کردینا کمال نہیں، کمال یہ ہے کہ تقریر زمانے کے دکھوں کا بیان بن جائے اور بیان سے بڑھ کر ان دکھوں کا علاج تجویز کرے۔شیعہ ہو یا سنی ہر کوئی ان کی تقریر سنتا اور رہنمائی پاتا۔خطابت علامہ رشید ترابی کی پہچان ہے۔ ان کی خطابت الفاظ کا جادو نہیں جگاتی، علم کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر دل کی گہرائیوں کو چھو لیتی ہے۔

ذکر اہل بیت ہو، حدیث کا علم ہو یا فلسفہ، ایک ہی نام ذہن میں آتا ہے علامہ رشید ترابی۔مگر قیام پاکستان سے پہلے وہ سرگرم سیاست دان بھی تھے،وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے اور نواب بہادر یار جنگ کے دست راست بھی۔

علامہ رشید ترابی بلا شبہ برصغیر کے نہیں بلکہ عالمی افق پر خطیب بے بدل تھے وہ جتنے بڑے خطیب تھے اتنے ہی بڑے شاعر بھی تھے ان کی خطابت کے سحرا اور منفرد اسلوب نے بہت سارے ذوق خطابت رکھنے والوں کو اپنا حلقہ بگوش بناکر چھوڑا لیکن کسی نے اس بحر عمیق میں غواصی کی ہمت ہی نہیں کی اور سطحی لہروں کی حد تک تیر کر خود کی ذات میں رشید ترابی کو سمولینے کا دعویٰ کردیا،جس کے نتیجے میں وہ علامہ رشید ترابی کی چوتھی اور پانچویں کاربن کاپی سے آگے نہ بڑھ سکے۔یہ لوگ دراصل اس ادراک سے عاری تھے کہ علامہ رشید ترابی کی آواز کے پیچھے کتاب زاروں کی تہذیب ،فکری رزم گاہوں کا تمدن ہے اور ان کے وجود کی فضاء مصنوعاتی نہیں بلکہ توفیقی ہے۔یہ توفیق بیرونی زبوں حالی میں بھی نہ صرف بحال رہتی ہے، بلکہ ایسی نموگستر تہذیب کے باوصف حضوریت کے احاطے میں گوشہ گیری کے لئے مودت کے اجازہ کی حامل بھی ہے۔

دسمبر 1947ء میں علامہ رشید ترابی کو قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان مدعو کیا تاکہ حضرت مالک اشتر کے نام لکھے گئے حضرت علی ابن ابی طالب کے مشہور خط کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ یہ صفر کا مہینہ تھا، رشید ترابی کی کراچی میں موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کراچی کے ایک مہتممِ مجالس سید محمد عسکری نے رشید ترابی کو خالق دینا ہال کراچی میں صفر کے دوسرے عشرہ مجالس سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ علامہ نے یہ درخواست قبول کرلی اور 10 صفر، 1367ھ (24 دسمبر، 1947ء) سے چہلم تک خالق دینا ہال میں اپنے پہلے عشرہ مجالس سے خطاب کیا۔ اس کے بعد (سے 26 سال تک) وہ جب تک زندہ رہے وہ خالق دینا ہال میں ہر برس مجالس کے عشرے سے مستقل خطاب کرتے رہے۔

انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔

علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ شاخ مرجان کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین، حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔

تصنیف و تالیف

شاخ مرجان

طب معصومین

حیدرآباد کے جنگلات

دستور علمی و اخلاقی مسائل

علامہ رشید ترابی مرحوم علی اوسط زیدی کی سوز خوانی کو بہت سراہا کرتے تھے۔اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔علامہ صاحب اپنی مجالس میں ان کے ایک نوحے کے اس شعر کا اکثر حوالہ دیا کرتے تھے۔جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنت زہرا تیرے پردے کا خیال آتا ہے

علامہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ قیام پاکستان کے وقت اگست 1947ء میں قائد اعظم نے علامہ صاحب کو حیدرآباد دکن سے کراچی بلایا۔ جب قائد اعظم اپنی کابینہ بنا رہے تھے انہوں نے تعلیم اور مدنہدہی امور کی وزارت کی پیش کش کی۔ مگر استخارہ اچھا نہیں آنے کی وجہ سے انہوں نے معذرت کرلی ۔ اس پر قائد اعظم نےکہا کہ وہ نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام کے حضرت مالک اشتر ؒ کے نام جو خط لکھا اس کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ علامہ رشید ترابی نے اس خط کا ترجمہ ۵ دن میں کرکے قائداعظم کو دیا۔ جو انہوں نے اپنی کابینہ میں سرکولیٹ کروایا

کوفی عنان کے دور میں اقوام متحدہ میں امیر المؤمنین حضرت مولا علی علیہ السلام کے اس خط کو دنیا بھر کے مختلف نظام ہائے حکومت میں ’’بہترین نظام حکومت پہ مبنی خط‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان کے تمام تر مسائل اور مصائب کا حل اس خط کے مندرجات میں پایا جاتا ہے۔ واقعاً ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خط گویا ہمارے پاکستانی معاشرے کیلئے چودہ سو سال پہلے لکھا گیا تھا۔ علامہ رشید ترابی اعلی اللہ مقامہ نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرکے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو دیا تھا اور قائد اعظم ؒ نے اس کی کاپیاں پاکستان کی مقتدر شخصیات کو ارسال اور حکم جاری کیا تھا کہ بہتر نظام حکومت کیلئے اس خط کو پڑھاجائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ ایسا ہی عمل ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بھی اپنے دور حکومت میں بخوشی کیا تھا۔ مولا علی علیہ السلام کی تعلیمات حمیدہ آفاقی اور دائمی حیثیت رکھتی ہیں۔

ملت اسلامیہ نے علامہ رشید ترابی جیسا کویء خطیب شاید ہی کبھی پیدا کیا ہو۔علامہ صاحب کی خطابت میں انیس کی فصاحت اگر شمع تکلم ہے تو دبیر کی بلاغت مشعل سخن ہے۔ علامہ رشید ترابی خطابت کی عظمت کا نام ہے۔ ان کی ہشت پہلو شخصیت میں ایسے جوہر یکجا ہو گےء تھے جو بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ اردوکے کسی اورخطیب میں نہیں پایء۔ان سے پہلے جراحت جاں کی یہ گل کاریاں منبر مجلس پر ناپید تھیں۔ان کی خطابت کے سمندر میں مغرب و مشرق کے بحر علمی کا ایک سیل رواں سننے والوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔

قرآن کریم سے استناط پر بھرپور قدرت ہے۔ تصرف شعری کا وہ کمال کہ ایسی مثال ان سے قبل اور بعد میں نا یافت ہے۔ تاریخ و رجال کا ایسا حکیمانہ ادراک کہ ذہنوں میں اسرار و معانی کے دریچے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔ فلسفہء و منطق کے دریچوں سے آفاقی فکر کی روشنی دلوں کو منور کرتی چلی جاتی ہے۔

واقعہء کربلا کے تناظر میں جدید ترین اور دقیق موضوعات کے کوہ گراں کو آب رواں بنانا صرف علامہ صاحب ہی کا خاصہ ہے۔آپ کی خطابت میں آورد نہیں بلکہ آمد کی فراوانی ہے۔

علامہ صاحب اسلامی فکر کی پوری تاریخ کے روشن چراغ تھے جس کے اجالے سے قوم کے فکر و ذہن کی تربیت بھی ہوتی ہے اور تطہیر بھی۔ وہ خود تو آفتاب خطابت بن کر غروب ہو گیےءمگر ان کا اجالا آج بھی جہان سماعت کی فضاوءں کو منور کیے ہوےءہے۔

منبر کے افق پر علامہ صاحب کا سورج اپنی تمام آب و تاب سے روشن تھا۔علامہ صاحب سے پہلے پورے ہندوستان میں ایک ہی مکتب خطابت تھا اور وہ لکھنوءکا۔طریقہ یہ تھاکہ پہلے تقریر کی ضبط تحریر میں صورت گری کر لی جاےءاور پھر اسے ذہن نشین کرکے منبر سے خطابت کی شکل میں دہرا دیا جاےء ۔ایسے میں علامہ رشید ترا بی کی صورت میں خطابت کا ایک نیا جہان رونماہوا۔ انھوں نے خود اپنے ایک نیےءمکتب کی بنیاد رکھی اور بعد میں آنے والوں کے ایک نیےءچلن کی بنا ڈالی۔صاحبان دولت کے سامنے وہ کبھی نہیں جھکے۔ جب انھوں نے ذاکری کی ابتداءکی اور ان کی خطابت کا چرچا ہونے لگا تو نظام دکن

میر عثمان علی خان نے خوش ہو کر انھیں اعلی۱منصب عطا کر دیا۔لیکن ایک سال بعد محرم کا پہلا عشرہ پڑھنے کے لیے خوجہ جماعت

کی دعوت پر وہ بمبیء تشریف لے گےء تو نظام دکن نے جواب طلبی کی کہ میری اجازت کے بغیر تم کیوں گےء۔ علامہ صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ ذکر حسین (ع) میری عبادت ہے اور اس عبادت کی بجا آوری کے لیے میں کسی میر و سلطاں کی مرضی کا پابند نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر انھوں نے منصب واپس کر دیااور پھر عمر بھر نہ کبھی نظام دکن کے سامنے گےءاور نہ ہی ان کی کویءمجلس پڑھی۔

اسی طرح ایک مرتبہ شاہ خراسان کے سیٹھوں کی کسی نخوت آمیز بات پر ناراض ہو گےءاور پھر کبھی ان سے رابطہ نہ رکھا۔ان کی شہرت اور مقبولیت کےحاسدوں نے اکثر ان پر کیچڑ اچھالا مگر علامہ صاحب نے کبھی کنایتا” بھی اپنے کسی مخالف کے بارے میں کچھ نہ کہا۔ایک مرتبہ ہاشم رضا کے بھایءکاظم رضا کی مجلس میں ہاشم رضا سے پوچھاکہ کس موضوع پر پڑھوں۔ ہاشم رضا نے کہا۔ ” ادب”۔ ہاشم رضا یاد کرتے ہیں کہ انھوں نے ادب کے موضوع پر فصاحت اور بلاغت کا وہ دریا بہایاکہ میں مہبوت رہ گیا۔جب ۱۹۵۸ ء میں پہلا ماشل لاء پاکستان پرمسلط ہوا تو اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات نے حکمنامہ نکالا کہ

جب تک علامہ رشید ترابی کی تقریر کا مسودہ پہلے ریڈیو پاکستان کے حکام سے منظوری حاصل نہ کرے ۔ مجلس شام غریباں ریڈیو پاکستان سے نشر نہ کی جاےء۔ علامہ رشید ترابی نے اس حکم کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ” میں لکھ کر تقریر نہیں کرتا اور حاضرین کو دیکھنے کے بعد تقریرکے موضوع کا انتخاب سر منبر کرتا ہوں۔ اس لیے پہلے سے نہیں بتلا سکتا کہ کیا تقریر کروں گا” ۔

چنانچہ دو سال 1958ء اور 1959ء مجلس شامِ غریباں ریڈیو سے نشر نہ ہوئی ۔آخر محکمہ اطلاعات کو ہار ماننی پڑی 1960ء سے علامہ رشید ترابی کی شامِ غریباں کی مجالس کا سلسلہ بحال ہوگیا ۔

فن خطابت کے انیس اور دبیر تھے ۔ان کی زندگی میں خطابت کا عروج ہی عروج ہے زوال کہیں نہیں ہے۔

یہ احساس دل کو مارے ڈالتا ہے کہ زمانہ کتنا بدل گیا۔ امت مسلمہ کا اتحاد کس طرح پارہ پارہ ہو گیا ایک وہ زمانہ تھا کہ نجی محافل میں احتشام الحق تھانوی, حامد بدایونی, ماہر القادری اور رشید ترابی جیسے اکابر یکجا ہوتےاور ان کی مو شگاخیاں اور بذلہ سنجیاں حاضرین کے دلوں کو گرماتیں۔ تمام مکاتب فکر کم از کم تقریر میں ایک دوسرےکی دل آزاری سے حتی الوسع گریز کرتے۔ کیسا وسیع القلبی اور جذب باہم کا دور تھا۔علامی رشید ترابی بھی اسی دور کا ایک روشن چراغ تھے۔

علامہ رشید ترابی کی خطابت ایک ایسا باب ہے جس کا آغاز بھی وہ خود تھےاور انجام بھی۔وہ مذہب کے ابدی حقایق کی گہری بصیرت کے مالک تھے اور علوم اسلامیہ کی بلندیوں سے مانوس تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں تعصب اور تنگ نظری کا سایہ تک نہیں پایا جاتا ۔ علم و ذہانت کے گراں مایہ خزانے انہوں نے اپنی خطابت میں سمو لیے تھےاور پھر ان خزانوں سے سامعین بلا تفریق مکتب فیض یاب ہوتے تھے۔کبھی کنایتا” یا اشارتا” بھی وہ ایسی کویُ بات نہیں کہتے تھے جو اختلاف مکتب کے باعث کسی کی دل خراشی کا باعث بن سکے۔ علامہ صاحب کی خطابت محض زوربیاں , روانی اور ولولہ انگیزی کی خطابت نہ تھی۔وہ علم آموز اور فکر انگیز خطابت تھی۔انھوں نے اپنی خطابت کو ہمیشہ اتحاد امت اور سامعین کی تربیت علمی کے لیے استعمال کیا۔ ان کےسامعین کے فکر و فہم کی سطح اتنی بلند ہو گیُ تھی کہ پھر وہ کبھی سطحی تقاریر سے مطمین نہ ہو سکے.

علامہ صاحب نے اپنی تقاریر میں ہمیشہ عہد جدید کے علوم اور انسانوں کو مذہب سے مربوط رکھنے کی سعی کی۔ وہ مذہب کو زبردستی جدید علوم پر مسلط کرنے کے ہرگزقائل نہ تھے۔ بلکہ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ علوم انسانی اور فکر ہمہ وقت ارتقا پزیر ہیں۔تاہم مذہب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ کس طرح فطرت کو مسخر کرکےفلاح انسانی کے لیے استعمال کیا جاےُ. ۔منبر کے ذریعے اتحاد المسلمین اور علم کا فروغ ان کی ترجیح اولیٰ تھا جس کےلیےانہوں نے استقلال پاکستان کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور پھر بعد میں صحافت سے بھی دامن چھڑا لیا۔ علامہ صاحب نے اپنے مزاج کے شاعرانہ عنصر کی ہمیشہ حفاظت کی اور خطابت کے دقیق سے دقیق مراحل میں بھی ان کی سخن وری ان کی تقاریر کو چار چاند لگاتی رہی۔

اتحاد اسلامی کے داعی ہونے کے ناتے علامہ صاحب کا مسلک روایتی مذہبی زعماُ سے قدرے مختلف تھا۔وہ روشن خیالی کے حامی تھے اور روایت پہ درایت کے قائل ,کشف کی بجاےُ علم کے داعی, اور جذب کی بجاےءعقل کے حامی تھے۔وہ علم کو میعار عقل اور عقل کو خوگر علم دیکھتےتھے۔انھوں نے اپنی مجالس میں بھی اسی طرز کو برقرار رکھااور یہی وجہ تھی کہ ان کے سامعین میں ہر مسلک کے لوگ شامل تھے۔ علامہ صاحب کی فکر کا ایک سرا اگرعلوم اسلامیہ تھے تو دوسرا ارسطو ,کانٹ, اور ہیگل سے جڑا ہوا تھا. یوں ان کی خطابت مغربی اور مشرقی دھاروں کا سنگم تھی, مگر اس حسن کے ساتھ کہ مشرقی فکر کہیں بھی مغربی فکر کے آگے اپنا سر خم کرتی نظر نہیں آتی ۔وہ یوں کہ قرآن کریم ان کی فکر کی اساس تھااور اس کتاب حکمت سے استنباط پر انھیں بھرپور دسترس حاصل تھی۔

خطابت کے لیے جن امور سے مکمل واقفیت ضروری ہےعلامہ ان سے بہرہ ور تھے۔اشارات ,استعارات, اشعار,تلمیحات ,احادیث,تنزیل,تاویل۔۔۔۔ تمام سے انھیں برمحل اور فصیح استفادہ کرنے میں ید طولیٰ حاصل تھا. روایت کی پاسداری کے ساتھ عصری تقاضوں کے شعور اور جدید علوم سے ہم آہنگی نے ان کی خطابت کو چار چاند لگا دیے تھے۔وہ جب زیب منبر ہوتے تو ایک شعلے کی مانند ہوتے۔ان کی تقاریر میں ان کی حرکات و سکنات سے ایک یکتا زیبایُ پیدا ہو جاتی خواہ وہ دوران خطابت آستین پلٹنا ہو یا شیروانی کے بٹن کھولنا یا منبر پر زور سے ہاتھ مارنا یا جھوم جھوم کر اشعار دہرانا. یہی وہ وسعت بیان اور ندرت اسلوب تھی کہ ان کے مداحوں میں نہ نکتہُ فقہی کی قید تھی نہ عمر و مرتبے کی.

میں بعد مرگ بھی بزم وفا میں زندہ ہوں

تلاش کر میری محفل مرا مزار نہ پوچھ

ﻋﻼﻣﮧ ﺭﺷﯿﺪ ﺗﺮﺍﺑﯽ 18 ﺩﺳﻤﺒﺮ 1973ﺀ ﮐﻮ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻨﯿﮧ ﺳﺠﺎﺩﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﺣﺎﻃﮯﻣﯿﮟ ﺁﺳﻮﺩﮦٔ ﺧﺎﮎ ﮨﻮئے۔ اور یہ ذکر حسین کا ہی فیض ہے کہ ان کی یاد کا اجالا اس دن ختم ہوگا جس دن آخری سورج غروب ہوگا۔علم ،خوش گفتاری اور حرف و حکایت میں یکتا یہ بے مثال انسان اِس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔

یہ وہ علم ہے جس کو زمانہ یاد کرے

سلام اُس کو سدا شام و بام یاد کرے

اُسی کے سائے میں اپنی ہے خواب گاہ رشید

علی مراد کو اﷲ بامراد کرے

تحریر ۔۔۔آفتاب احمد

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY